شام پر امریکی جارحیت کے خلاف یورپ سمیت متعدد ممالک میں مظاہرے، احتجاجی مارچ

16 اپریل 2018

روم (اے پی پی) شام پر امریکی جارحیت کے خلاف امریکہ، جرمنی، یونان، فلسطین سمیت دنیا کے کئی ممالک میں مظاہرے ہوئے۔ یونان کے عوام نے دارالحکومت ایتھنز میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی شام پر جارحیت کے خلاف ان ملکوں کے سفارتخانوں کی جانب احتجاجی مارچ کیا اور جنگ مخالف نعرے لگائے۔ جرمنی کے دارالحکومت برلن میں بھی عوام سڑکوں پرنکل آئے اور شام پرامریکہ، برطانیہ اور فرانس کے میزائلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے شام کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ واشنگٹن میں بھی عوام نے شامی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرہ کیا اور حملوں کی مذمت کی۔ فلسطینی عوام نے حیفا میں امریکی قونصلیٹ کے سامنے شام پر حملوں کے خلاف احتجاج کیا۔ روم میں بھی جنگ مخالف تنظیموں نے امریکی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور شام پر امریکی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے اسے شام کی ارضی سالمیت کے خلاف قرار دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے کہا ہے وہ شام میں عام شہریوں کی حفاظت کرے۔ آئی این پی کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردگان اور روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کے مابین ٹیلی فون پر گفتگو میں شامی علاقے میں موجود تنائو میں مزید اضافہ نہ کیا جائے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردگان اور روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ ترکی کے صدارتی ذرائع سے موصول معلومات کے مطابق مذاکرات میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی طرف سے شامی انتظامیہ پر کئے گئے آپریشن کے بارے میں تبادلہ خیالات کیا گیا۔ مذاکرات میں صدر اردگان نے کہا ترکی پہلے سے ہی کیمیائی اسلحے کے استعمال کی مذمت کر رہا ہے۔ اس وقت ضرورت اس چیز کی ہے کہ علاقے میں موجود تنائو میں مزید اضافہ نہ کیا جائے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روسی قرارداد مسترد ہونے کے بعد امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے سلامتی کونسل میں ایک نئی قرارداد کا مسودہ پیش کیا ہے جس میں کہا گیا کہ شامی حکومت کی جانب سے دوما میں مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں۔ اس سے قبل روس نے اسی قسم کے منصوبے کو ویٹو کر دیا تھا۔ حملوں کے بعد سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں گرما گرمی کا ماحول دیکھنے میں آیا جب روس نے مغربی ممالک کی جانب سے کیے گئے حملوں کی مذمت کرنے کے لیے قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی۔ اے پی پی کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے سربراہ نے شام پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کے حملے کو دہشت گردوں کی شکست سے ان ملکوں کی مایوسی اور جھنجھلاہٹ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ایران کی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری نے شام کے وزیردفاع علی ایوب سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا جارحیت کا ارتکاب کرنے والوں کو نہ صرف ان کے غیر قانونی اور وحشیانہ اقدام کا کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا بلکہ شام کی حکومت اورعوام ملکی غیر ملکی دشمنوں کے مقابلے میں اور زیادہ متحد اور مضبوط ہوں گے۔ ایران، شام کے عوام اور حکومت کے ساتھ ہے اور دہشت گردوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گا۔
واشنگٹن(آن لائن)امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شامی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شام نے اپنے شہریوں پر مزید کیمیائی حملے کیے تو امریکہ اس پر دوبارہ حملہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔امریکی صدر کی یہ تنبیہ امریکہ اور اس کے دو اور اتحادیوں کے اس حملے کے بعد آئی ہے جب انہوں شامی حکومت کی جانب سے گزشتہ ہفتے دوما میں کیے جانے والے مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں گذشتہ روز شام کے تین مقامات پر میزائلوں سے حملہ کیا۔کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی عالمی تنظیم او پی سی ڈبلیو کے نمائندے اس وقت شام کے داراحکومت دمشق میں موجود ہیں جہاں سے وہ دوما جائیں گے۔وسیلی نبینزیا نے امریکہ، برطانیہ اور فرانس پر 'غنڈہ گردی' کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ان ممالک نے 'عالمی قوانین کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے۔'دوسری جانب امریکہ کی اقوام متحدہ میں تعینات سفیر نکی ہیلی نے کہا کہ حملے 'بالکل جائز، قوانین کے مطابق اور متناسب' تھے۔'میں نے صدر ٹرمپ سے اس بارے میں گفتگو کی ہے اور انہوں نے کہا کہ اگر شام نے دوبارہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو ہم بھی پوری طرح دوبارہ حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔نکی ہیلی نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے سفارتی کاری کو مسلسل مواقع دیئے لیکن روس اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ویٹو کرتا چلا گیا۔'ہم مزید ایسا ہونا نہیں دے سکتے کہ روس تمام عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا دے اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو بلا خوف و خطر اور بلا دریغ استعمال کرے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں شام پر کیے جانے والے حملے کی تعریف کرتے ہوئے کہا گزشتہ رات بے عیب سٹرائیک کی۔ فرانس اور برطانیہ کا شکریہ ان کی دانشمندی اور ان کی اچھی فوجی طاقت کے اس سے بہتر نتائج نہیں آ سکتے تھے۔ مشن مکمل ہو گیا۔