مفتی ہدایت اللہ پسروری ساری زندگی نفاذ نظام مصطفیٰ کیلئے کوشاں رہے: طاہرالقادری

16 اپریل 2018

ملتان (نامہ نگار خصوصی) تحریک منہاج القرآن کے قائدڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ممتاز عالم دین اور جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ مفتی ہدایت اللہ پسروری کی وفات پر بیرون ملک سے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مفتی ہدایت اللہ پسروری کی وفات اہل سنت کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔آپ کی وفات سے اہل سنت ایک عظیم مدبراور بلند پایہ عالم دین سے محروم ہوگئے ہیں۔مرتے دم تک نفاذ نظام مصطفیٰ کا پرچم تھامے رکھا۔آپ نے ہمیشہ عشق رسول اور اتحاد امت کا درس دیا۔آپ اتحاد بین المسلمین کے بہت بڑے داعی تھے۔ ڈاکٹر حسن محی الدین القادری،مرکزی ناظم اعلیٰ خرم نواز گنڈا پور، مرکزی سیکرٹری اطلاعات نوراللہ صدیقی ،منہاج القرآن علماء کونسل کے مرکزی صدر علامہ امداداللہ خان قادری اورمرکزی ناظم علامہ میر محمد آصف اکبر قادری نے بھی مفتی ہدایت اللہ پسروری کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جبکہ قل خوانی میں علامہ مفتی غلام محمد سیالوی ‘ علامہ محمد فاروق خان سعیدی‘ رکن صوبائی اسملی حاجی جاوید اختر انصاری‘ صاحبزادہ قاری احمد میاں نقشبندی‘ میاں جمیل احمد‘ میاں آصف نقشبندی‘ ڈاکٹر محمد صدیق خان قادری نے مفتی ہدایت اللہ پسروری مرحوم کے بڑے صاحبزادہ محمد فاروق پسروری کی دستار بندی کی جبکہ صاحبزادہ محمد فاروق پسروری نے اپنی پگڑی اپنے چھوٹے بھائی مفتی عثمان پسروری کوپہنا دی قل خوانی کے موقع پر ختم شریف قاری امام بخش دعا صاحبزادہ مفتی عثمان پسروری نے کرائی قل خوانی میں علامہ حاجی نذیراحمد ‘رکن قومی اسمبلی ملک عبدالغفار ڈوگر‘ رکن قومی اسمبلی ملک عامر ڈوگر ‘ رکن صوبائی اسمبلی حاجی جاوید اختر انصاری‘ سابق صوبائی وزیر چوہدری عبدالوحید ارائیں‘ مفتی غلام مصطفی رضوی‘ مفتی محمد شریف سعیدی‘ صاحبزادہ قاری احمد میاں خان نقشبندی‘ خواجہ محمد شفیق‘ پروفیسر اختر انصاری ‘ مولانا غلام مصطفی ہزاروی‘ مفتی اختر محمود‘ ڈپٹی میئر محمد سعید انصاری‘ سابق ایم پی اے عامر سعید انصاری‘ میاں جمیل احمد قادری فیض بخش رضوی‘ علامہ سعید احمد فاروقی‘ قاری مطیع الرسول سعیدی‘ حاجی مختار علی انصاری‘ ڈاکٹر اقبال نقشبندی ‘ مولانا صادق سیرانی‘ سید کفیل شاہ بخاری ‘ محمد ایوب مغل‘ سید محمد علی رضوی‘ راؤ عارف رضوی‘ پروفیسر عبدالرحمان ناصر‘ علامہ خادم حسین سعیدی‘ وسیم ممتاز ایڈووکیٹ‘ مولانا عمران یٰسین ‘ صاحبزادہ حامدسعیدی‘ سجاد علی حامدی‘ قاری غلام شبیر سواگی‘ میاں محمد رزاق ‘ حمید نواز عاصم‘ احمد نواز عصیمی ‘ مفتی خورشید احمد ‘ قاری غلام فرید اظہری‘ عزیز رسول صدیقی‘ شیخ محمد یونس‘ حافظ غلام عباس‘ حافظ ظفر قریشی ‘ ارشد اقبال نیازی‘ ملک حیدرعثمان‘ مولانا رحیم بخش اویسی‘ ثقلین حیدر مہروی‘ مولانا اکرم سعیدی ‘ مولانا قاسم سعیدی‘ علامہ عنایت اللہ رحمانی‘ حاجی اصغرعلی انصاری‘ یونس بھٹی‘ مولانا فتح محمد حامدی ‘ چوہدری محمد اکرم اکی بھائی‘ سلیم بلالی‘ چوہدری ذیشان حمید‘ محمد کامران عاربی‘ قاری محمد مشتاق ‘ میاں آصف محمود‘ مفتی خورشید احمد‘ قاری اللہ داد سعیدی‘ مرتضیٰ قریشی ‘ راؤ شجاعت سمیت سینکڑوں معززین شہر‘ علماء و مشائخ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔