فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے عرب ممالک میں مظاہرے، ریلیاں

16 اپریل 2018

مقبوضہ بیت المقدس‘ دوحہ‘ غزہ (اے این این )فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کے مشرقی سرحد پر خیمہ زن ہزاروں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گذشتہ روز عرب ممالک میں بڑے پیمانے پر مظاہرے، جلسے جلوس اور ریلیاں نکالی گئیں۔خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق تحریک حق واپسی کے تیسرے جمعہ کو اسرائیلی فوج کی غزہ میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے خلاف گزشتہ روز اردن، مصر، لبنان اور کئی دوسرے ملکوں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔لبنان کے دارالحکومت بیروت میں مار الیاس پناہ گزین کیمپ کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کیاجس میںسینکڑوں فلسطینیوں اور مقامی شہریوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر شرکا نے فلسطینی پرچم لہرائے اوراسرائیلی پرچم نذرآتش کیے گئے۔ادھر اردن میں فلسطینی پناہ گزینوں کے حق واپسی کے لیے ریلیاں نکالی گئیں۔ دارالحکومت عمان میں سیکیورٹی فورسز نے اسرائیلی سفارت خانے کی طرف مارچ روک دیا تاہم وہاں بھی سیکڑوں افراد نے فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کیا۔ ریلی روکے جانے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔احتجاجی ریلیوں سے خطاب میں مقررین نے فلسطینیوں کے حق واپسی کے لیے جاری جدو جہد کی حمایت کی اور فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے مظالم اور بربریت بند کرانے کا مطالبہ کیا۔دریں اثناء اسلامی تحریک مزاحمت (حماس)نے صدر محمود عباس کی طرف سے ہتھیار پھینکنے کا مطالبہ مسترد کردیا۔ حماس نے کہاہے کہ صدر عباس بغیر کسی قیمت کے اسرائیل کی خدمت اور چاکری بجا لاتے ہوئے فلسطینی قوم کوغاصب دشمن کا غلام بنانا چاہتے ہیں۔حماس کے سیاسی شعبے کے سینئر رکن ڈاکٹر موسی ابو مرزوق نے ایک بیان میں کہا کہ حماس سے ہتھیار پھینکنے کا مطالبہ اسرائیل اور امریکا کررہے ہیں۔ صدر محمود عباس بھی ان کی صف میں شامل ہوگئے ہیں۔صہیونی فلسطینی قوم کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ ان کی طرف سے ہتھیار پھینکنے کا مطالبہ سمجھ میں آتا ہے مگر صدر محمود عباس کیوں یہ مطالبہ کررہے ہیں۔ کیا وہ فلسطینی قوم کو صہیونیوں کا غلام بنانا چاہتے ہیں۔ابو مرزوق نے کہا کہ اس وقت فلسطینی قوم کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے مسلح جدو جہد کی ضرورت ہے۔فلسطینی اتھارٹی خود اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون جاری رکھ کوقوم دشمن پالیسی پر عمل پیرا ہے۔