عام انتخابات قریب‘ الیکشن کمیشن میں قائم مقام افسران سے کام چلانا سوالیہ نشان؟

16 اپریل 2018

اسلام آباد(قاضی بلال)الیکشن کمیشن کے مستقل صوبائی چیف الیکشن کمشنر بلوچستان بھی ریٹائرڈہوگئے جس کے بعدچاروں صوبوں میںاب قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کام کریں گے ۔ بلوچستان کے صوبائی چیف الیکشن کمشنر نعیم اقبال جعفر ریٹائر ہوگئے ہیں ۔ ان کی جگہ پر نیاز احمد بلوچ کو بلوچستان کا چیف الیکشن کمشنرکا عارضی چارج دیا گیا ہے ان کی تقرری تین ماہ کیلئے کی گئی ہے اور جب تک نیا صوبائی چیف الیکشن کمشنر نہیںآئے گا اس وقت تک یہ کام کرتے رہیںگے ۔ گریڈ بیس کی سیٹ پر نیاز احمد بلوچ کو قائم مقام مقرر کیا گیا ہے ان کی ریٹائرڈ منٹ بھی دسمبر ہوگی ۔ ذرائع کے مطابق اس وقت چاروں صوبوں میںکوئی چیف الیکشن کمشنر مستقل بنیادوں پر تعینات نہیں ہے تمام گریڈ بیس کے ہیں اوران سے گریڈ اکیس کا کام لیا جا رہا ہے ۔ الیکشن کمیشن میں بروقت ترقیاں نہ ہونے کی وجہ سے اب تک گریڈ اکیس کی دس پوسٹوں میں سے صرف تین پر افسر موجود ہیں جبکہ سات پوسٹیں خالی پڑی ہوئی ہیں ۔ موجودہ سیکرٹری الیکشن کمیشن جن کی مدت ملازمت میں توسیع ہوئی تھی وہ بھی عام انتخابات کرانے کے بعد ستمبر ریٹائر ہو جائیں گے انہوں نے الیکشن کمیشن ملازمین کی بجائے اہم عہدوں پر باہر سے افسران کو ڈیپوٹیشن پر تعینات کیا ہے ۔ عام انتخابات قریب ہونے کے باوجود الیکشن کمیشن میں افسران کی خالی نشستوں پر تربیت یافتہ افسران کو تعینات نہیں کیا گیا ہے یہی وجہ ہے اب پنجاب میں شریف اللہ ٗ کے پی کے میں پیر مقبول ٗ سندھ میںیوسف خان خٹک اور اب بلوچستان نیاز احمد بلوچ کو قائم مقام چیف الیکشن کمشنر لگا دیا گیا ہے ۔ ان تمام کی ترقیاںدینے کی بجائے ان کو اضافی چارج دیدیئے گئے ہیں ۔ یہ افسران گریڈ بیس کے ہیں اوراس وقت گریڈ اکیس میں کام کر رہے ہیں ۔ چاروں صوبائی الیکشن کمشنرز نے اب عام انتخابات میں اربوں روپے خرچ کرنا ہونگے ۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن میں اس وقت بھی گریڈکی پینتیس ٗ گریڈ اٹھارہ کی بارہ ٗ گریڈ انیس کی سات گریڈ بیس کی چار جبکہ گریڈ اکیس کی سات نشستیں خالی پڑی ہوئی ہیں ۔ عام انتخابات کے قریب آنے کے باوجود قائم مقام افسران سے کام چلانا بھی ایک سوالیہ نشان ہے ۔ الیکشن کمیشن حکام نے عام انتخابات کے حوالے سے تربیت یافتہ افسران کو نہ تو ترقی دی ہے اور نہ ہی ان اہم پوسٹوں پر اہل لوگوں کو تعینا ت کیا ہے ۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...