بیوہ ماں کی بیٹے کی آنکھوں کی روشنی کیلئے اپیل

16 اپریل 2018

مکرمی! کسی بھی معذوری کا شکار انسان عام انسانوں سے زیادہ ہمدردی‘ توجہ اور محبت کا مستحق ہوتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم کسی دوسرے کی تکلیف کو دیکھ تو سکتے ہیں‘ لیکن اس کے دکھ اور تکلیف کے احساس کو ویسا تصور نہیں کر سکتے جس طرح اس تکلیف کا شکار شخص محسوس کر رہا ہوتا ہے۔ بلاشبہ انسان کے سارے بدن کا ہر ہر عضو لاجواب ہے‘ لیکن بصارت ایک انمول ودیعت خداوندی ہے پیر بالا محلہ کھجورا پشاور پاکستان کا رہائشی وسیع اللہ ولد آزاد خان مرحوم جو آنکھوں کے مرض میں مبتلا تھا گھریلو ٹوٹکوں سے اس کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی۔ وسیع اللہ اس سے پہلے ویلڈنگ کا کام کرتا تھا اور اس کی آنکھیں صحیح سلامت تھیں۔ اچانک اسے آشوب چشم کا مرض لاحق ہو گیا اور بینائی جاتی رہی۔ وسیع اللہ کی والدہ کو ڈاکٹروں نے امید دلائی ہے کہ آپ کے بیٹے کیلئے سری لنکاسے آنکھیں منگوا کر اس کا علاج کیا جا سکتا ہے‘ لیکن اس پر تقریبا ً دو لاکھ روپے خرچ آتا ہے۔ وسیع اللہ کی ماں کہتی ہے کہ اس کے پاس کچھ بچا ہی نہیں کہ اسے بیچ کر اپے لخت جگر کا علاج کروا سکے۔ اپیل ہے مخیر حضرات سے کہ جنہیں اللہ نے استطاعت دے رکھی اور دل بھی کہ وہ لوگوں کی تکلیفوں کو دور کرنے کا پیغمبری جذبہ رکھتے ہوں۔ وسیع اللہ کو محلے کے ایک معزز شخص نے اپنا موبائل نمبر دیا ہے جس پر وسیع اللہ کی مدد کی جاسکتی ہے جس کا نمبر 0304-5100742 ہے۔ اللہ کرے یہ اپیل کسی صاحب درد کے مطالعے میں آجائے اور وسیع اللہ اس قابل ہو جائے کہ پھر سے اپنی آنکھوں سے دنیا دیکھ سکے اور اپنی بیوہ والدہ کیلئے رزق حلال کما سکے۔(وسیع اللہ ولد آزاد خان مرحوم ڈاکخانہ متھرا ورسک روڈ پشاور۔)