پنجاب کی تقسیم کی باتیں کیوں؟

16 اپریل 2018

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر خبر چل رہی تھی کہ پنجاب میں ہی کیوں نیب ,عدالتیں اور دوسرے ادارے متحرک ہیں۔ احتجاج کے نام پر پنجاب کے گلی محلوں سے لے کر سڑکیں کیوں آئے روز بند کر دی جاتی ہیں ۔ڈاکٹر ,وکیل ,کسان,استاد,مریض ,میڈیا,تاجر پنجاب میں ہی کیوں اپنے حقوق کے حصول کے لیے سڑکوں پر ڈھیرے ڈالے نظر آتے ہیں ۔کیوں ہماری مذہبی جماعتوں کے سربراہ پنجاب کے لوگوں کو سڑکوں پر دھرنوں میں اور حکومت کے خلاف متحرک کر لیتے ہیں ۔ اس کا آساں سا جواب ,چونکہ ترقیاتی کام صرف پنجاب میں ہی ہوئے ہیں ۔ اس لیے تحقیقات بھی پنجا ب میں ہی ہوں گی ۔باقی صوبوں میں ترقی کے نام پر صرف پیسہ بنایا گیا ہے ۔اب حالت یہ کہ اگر سندھ سے بلوچستان سے یا کے پی کے سے کوئی بندہ پنجاب آتا ہے تو وہ اپنے علاقے اور پنجاب کا موازنہ کرنے لگتا ہے ۔وہ یہ نہیں سوچتا ہے کہ اس کے منتخب نمائندوں نے وہاں کے لوگوں کے لیے کیا کیا ترقیاتی سکیمیں شروع کروائی ہیں ۔اس کے علاقے میں کیسے کیسے انقلابی ڈھیرے ڈالے بیٹھے ہیں ۔کیسے کیسے لفظوں کے جادوگر ان سے سالہا سال سے ووٹ لے کے خود کو مضبوط کر رہے ہیں ۔وہ یہ بھی نہیں سوچتا ہے کہ اس کے وڈیرے ,اس کے لیڈر سارا سال عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے رہتے ہیں ۔انہیں اپنا علاقہ صرف انتخابات کے دنوں میں ہی کیوں یاد آتا ہے ۔بلکہ آج دوسرے صوبوں کا شہری صرف یہ دیکھتا ہے کہ پنجا ب میں ہر طرف زندگی خوب سے خوب تر ہے ۔ہر طرف خوشحالی نظر آرہی ہے ۔شہروں سے نکلنے والی کشادہ سڑکیں قصبوں سے ہوتی ہوئی چھوٹے چھوٹے گاوں تک پہنچ رہی ہیں۔ یہاںچند ایک واقعات کو چھوڑ کے لوگوں کے اندر احساس تحفظ بھی موجود ہے ۔پنجا ب کی سڑکیں دھرنوں کی وجہ سے اکثر بند رہتی ہیں ۔ مگر لوگ صبر سے حوصلے سے کام لیتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں ۔کبھی کہیں سے وطن دشمنی کا نعرہ بلند نہیں ہوتا ۔کہیں سے یہ آواز بھی نہیں آتی کہ اپنے صوبوں کو لوٹ کے کھا جانے والے لوگ پنجا ب میں کیوں بڑے بڑے محلات تعمیر کر رہے ہیں ۔آج فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے کی بات ہوتی ہے ۔کراچی اور حیدر آباد کے لوگ جب الگ صوبے کا نام لیتے ہیں تو سندھ دھرتی کے سپوت اس کے خلاف ڈٹ کے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ہزارہ کے لوگ اپنے لیے الگ صوبے کا مطالبہ کریں تو کوئی ان کی بات سننے کو تیار نہیں ہوتا ہے ۔مگر پنجاب جو ملک میں سب سے خوشحال صوبہ ہے ۔جہاں ترقی کاسفر باقی صوبوں کی نسبت کہیں تیزی سے ہو رہا ہے ۔اس پنجاب کو تقسیم کرنے کا بار بار تقاضہ کیا جاتا ہے ۔اور پنجا ب کی تقسیم کے لیے ایسی کٹھ پتلیاں تلاش کی جاتی ہیں ۔جو سالوں اقتدار میں رہتی ہیں ۔وہ اپنے علاقوں میں صرف ووٹ کے دنوں میں ہی جانا پسند کرتے ہیں ۔اقتدار کے دن وہ لاہور ,اسلام آباد یا بیرونِ ملک گزارنا پسند کرتے ہیں ۔جیسا کہ پچھلے دنوں محترم آرمی چیف نے فرما رہے تھے کہ ہم کسی ایک علاقے میں امن بحال کرتے ہیں ۔تو دشمن ملک کے خلاف کسی دوسری جگہ سے کٹھ پتلیاں تلاش کر لیتے ہیں ۔بلکل ایسا ہی پنجاب میں بھی ہوتا ہوانظر آرہا ہے ۔ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں پنجاب میں ہمیشہ سے امن و امان کی صورتحال بہترین رہی ہے ۔ آج بھی سارے ملک سے پنجاب کے ہسپتال ,تعلیمی ادارے اور صحت کے شعبے کہیں آگے ہیں ۔جب سے کے پی کے میں تحریک انصاف اقتدار میں آئی ہے ۔عمران خا ن وہاں کی پولیس کی عظمت کے گن گاتے رہتے ہیں ۔وہ کیحقیقت یہ کہ کاغذات میں چاہے وہاں کروڑوں پودے لگ جا چکے ہوں گے مگر عملی طور پر ایسا بہت کم ہو رہا ہے ۔انصاف کی بات کرنے والوں کا دامن آئے روز کرپشن کے دھبوں سے لتھڑا نظر آتا ہے ۔ابھی سینٹ الیکشن میں ان کے لوگوں نے بے پناہ پیسہ بنایا ہے ۔جسے خان صاحب خود بھی مان رہے ہیں ۔بلوچستان کے لوگوں میں احساسِ محرومی کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے ۔ حالات کا جائزہ لیں تو آسانی سے پتہ چل جاتا ہے کہ ہماری سبھی حکومتوں نے ماضی میں بلوچستان اور وہاں کے لوگوں کو جان بوجھ کے نظر انداز کیا تھا ۔مگر وہاں کرپشن کا بازار ہمیشہ سے گرم رہا ہے ۔جو پیسہ عوامی فلاح پر خرچ ہوناہوتا ہے ۔وہ پیسہ منتخب نمائندوں کے گھر وں سے برآمد ہوتا رہا ۔ایک مضبوط حکومت کو راتوں رات توڑ کے ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کر کے بلوچستان کی ترقی کے سفر کو وقتی طوربریک لگا دی گئی ۔سندھ کی کیا بات کی جائے ۔سندھ کی کوئی بات ہو تو کی بھی جائے ۔ پچھلے قریب پچاس سال سے سندھ میں پیپلزپارٹی کسی نہ کسی صورت اقتدار میں رہی ہے ۔سندھ میں پہلے کچھ نہ کچھ ترقیاتی کام شروع کروائے جاتے تھے ۔مگر جب سے زرداری صاحب پیپلز پارٹی کے ماتھے کا جھومر بنے ہیں ۔سندھ میں صرف اور صرف ترقیاتی کاموں کا اعلان ہوتا ہے ۔ترقی صرف اور صرف وہاں کے منتخب نمائندے کر رہے ہیں ۔سندھی قوم کے حصے کا پیسہ یا تو لوگوں کے گھروں میں یا پھر ملک سے باہر منتقل ہو رہا ہے ۔کراچی میں امن کی بحالی کاسفر شروع ہو چکا ہے ۔مگر وہاں گندگی کے ڈھیر عوام کا ذہنی سکون لوٹ رہے ہیں ۔مگر آج ہر کہیں سے پنجا ب کی تقسیم کی بات ہو رہی ہیں ۔پنجاب کے خلاف وہ لوگ بات کر رہے ہیں ۔جن سے اپنا گھر بھی ٹھیک سے نہیں چل رہا ہوتا ہے ۔باقی صوبوں میں امن و امان کی صورتحال کیا پنجاب سے بہتر ہے ۔ایک جماعت سے دشمنی نکالنے کے لیے ایک خوشحال صوبے کے ٹکڑے کروانے کے لیے بلی چوہے کا کھیل اب بند ہونا چاہیے!