”صحیح خطوط پر استوار نظام ٹیکس عوام کا دستِ راست“

16 اپریل 2018

ملک کے اندر دیگر مسائل کے علاوہ ایک بہت بڑا مسئلہ ٹیکس کے موجودہ نظام کی اصلاح اور درستی ہے۔ پاکستان میں اس وقت جو ٹیکس قوانین رائج ہیں وہ دنیا کے ٹیکس قوانین میں بہترین تصور کیے جاتے ہیں۔ لیکن ان کے نفاذ میں حائل انتظامی اور سیاسی دشواریوں اور رکاوٹوں کی وجہ سے ان سے فائدہ نہیں اٹھایا جارہا۔ حکومت کی آمدنی کے حوالے سے ٹیکس ایک بنیادی اور اہم ذریعہ ہے۔ لیکن پچھلی دو دھائیوں سے ملکی معیشت کی حالت ناگفتہ بہ ہونے کی وجہ سے ان سے فائدہ نہیں اٹھایا جارہا۔ اور پچھلے بیس سالوں سے ہمیں بین الاقوامی اداروں سے بھاری سود پر قرضے لے کر ملک کا نظام چلانا پڑ رہا ہے۔ اس سے پیدا ہونے والی صورت حال کے نتیجے میں سب سے زیادہ دشواری کا سامنا ٹیکس دہندگان کو ہوتا ہے۔ کیونکہ ٹیکس کا محکمہ اندھا دھند ٹیکس لگا دیتا ہے۔ اور وہ افراد جو ٹیکس چوری کرتے ہیں وہ "موجاں مارتے" ہیں۔ ملک میں موجود ٹیکس ادا کرنے والے شکایت کرتے ہیں کہ ان پر جو ٹیکس عائد کیا جاتا ہے وہ یکسر غلط ہوتا ہے اور اس کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں نیز ان افراد کو اپنی صفائی پیش کرنے کےلئے موقعہ اور مناسب وقت بھی نہیں دیا جاتا۔ عام طور پر صارفین کو Relief یعنی ان کی آسانی اور چھوٹ کیلئے ٹیکس کے محکمے میں Appellate Reforms کا نظام موجود تھا۔ لیکن کیونکہ یہ ادارے بھی ٹیکس کے محکمے کا حصہ ہےں اور کمشنر ان لینڈ ریونیو اپیل سے قائم ہے اس لیے وہاں سے ٹیکس دھندہ کو Relief نہیں ملتا۔ علاوہ ازیں اس کے بعد Appellate tribunal in land revenue کا ادارہ صارفین کی مدد کیلئے قائم ہے مگر اس میں پچاس فی صد نمائندگی محکمہ ٹیکس کی ہے وہ بھی صارفین کی مدد نہیں کرتا۔ اسکے بعد ٹیکس دھندہ کو قانونی چارہ جوئی کیلئے عام عدالتوں میں جانا پڑتا ہے۔ جہاں سے فوری انصاف نہیں ملتا اور Justice delayed is justice denied کی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی ۔ کیونکہ اگر ٹیکس دہندہ کو ایک لمبے عرصے کے بعد Refund اصولی طور پر دیا جانا طے ہوجاتا ہے تو رقم کی واپسی کے لیے چار سے چھ سال کی مدت درکار ہوتی ہے۔ عام طور پر پایا جانے والا یہ خیال کہ پاکستانی عوام کی زیادہ تعداد ٹیکس نہیں دیتی بالکل غلط ہے کیونکہ ملک میں Indirectیعنی بالا واسطہ ٹیکسوں کی بھر مار ہے جوکہ تمام Utility bills، انٹر نیٹ، موبائل فون، بنک سے رقم نکلوانے پر ٹیکس نیز بجلی کے بلوں میں جو TV سرچارج وضع کیا جاتا ہے اس کا اطلاق مساجد اور مدرسوں پر بھی ہوتا تھا۔ پھر اخبارات وغیرہ میں اس بارے میں تنقید کے بعداس کو ختم کیا گیا۔
18 ویں ترمیم کے حوالے سے صوبوں کو ٹیکس کی Autonomyیعنی اختیار اور آزادی دی گئی لیکن اس کی پیچیدگیوں کا صحیح طور پر اندازہ نہیں لگایا گیا۔ اور صوبوں کے درمیانion Coordinat یعنی رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے ہر صوبہ اپنے ٹیکس قوانین کو ہر حالت میں لاگو کرنے پر مصر رہتا ہے جس سے صارفین کا استحصال ہوتا ہے اس ضمن میں بہت دلچسپ بات یہ ہے کہ Islamabad Capital Territory رائج ہے جو کہ اس ٹیکس وضع کرنے کے حوالے ایک الگ صوبے کا درجہ دے دیتا ہے۔ ٹیکس کے حوالے سے صارفین کی دشواریاں لاتعداد ہے جن کااحاطہ اس مضمون میں ممکن نہیں مثال کے طور پر میں صرف جائیداد کی خرید و فروخت کے حوالے سے چند حقائق قارئین کے لیے گوش گزار کروں گا۔ اس سلسلے میں Real Estate consultation assosiation (RECA) نے گزشتہ دنوں وزیر اعظم اور دیگر متعلقہ ارکان سے اپنی بے پناہ دشواریوں کی اپیل کی تھی۔ دراصل Real Estate Sector اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ کیونکہ جون 2016 ءمیں ٹیکسز کی مد میں 100 فی صد اضافہ غیر منصفانہ ہے ، FBR اور DC ویلیوز میں ہوش ربا بڑھوتی ہوئی ہے۔ یہ قدم حکومت نے اپنی آمدنی بڑھانے کے لئے اٹھائے تھے ۔ اس سے حکومت کی آمدنی میں تو اضافہ نہ ہوسکا لیکن اس کی وجہ سے جائیداد کی خریدو فروخت کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔ رئیل اسٹیٹ کے لاتعداد دفاتر بند ہوچکے ہیں جو ملک میں بے روز گاری کا سبب بنا ہے نیز رئیل اسٹیٹ سے متصل 72صنعتیں بھی بد حالی کا شکار ہوگئی ہیں۔ رئیل اسٹیٹ ایسوسی ایشن کے صدر جناب محمد احسن ملک کے مطابق حکومت FBR Value کو مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جس سے مزید دشواریاں پیدا ہوں گی۔ اس ضمن میں 5 اپریل کو پراپرٹی ڈیلرز ایسوسی ایشن نے لاہور میں پرامن احتجاج کیا لیکن شرکاءمیں سے پولیس نے 50 افراد کو زیر حراست لے لیااور پھر اگلے دن ان کو رہا کردیاگیا۔ مندرجہ ذیل نکات پراپرٹی ڈیلر ایسوسی ایشن کی طرف سے پیش کئے گئے ہیں۔
-1ٹیکسوں میں جو اضافہ جولائی 2016 میںکیا گیا تھا اسے فوری طورپر ختم کیا جائے اور ٹیکسز کو کم ازکم تین سال کے لیے منجمد کیا جائے ۔
-2پاکستانیوں اور اوورسیز پاکستانیوںکے لیے 2فیصد کی شرح سے رئیل اسٹیٹ پر رضاکارانہ ایمنسٹی کا اعلان کیا جائے۔
-3حکومت 236-Wکی Upper Limitختم کرے تاکہ اگر کوئی خریدار پراپرٹی کی ٹرانسفر Real Market Valueپر کروانا چاہے تو وہ 236-Wکا استعمال کرسکے۔
Advance Income Tax -4کی حدکو 40لاکھ سے بڑھا کر 60لاکھ کیا جائے۔
-5 6 مرلہ یعنی 150 گز کے مکان یا پلاٹ کی خریداری کو کسی بھی قسم کے ٹیکس سے مستثنٰی قرار دیا جائے۔
Gain Tax -6 کی مدت دو سا ل رکھی جائے اورفلیٹ 5%کی شرح سے Gain Taxوصول کیا جائے۔
-7 Real Estate Consultantsکے Bank Accountsکو With Holding Taxسے مستنی قراردیا جائے کیونکہ ان کے Accounts±ٍمیں زیادہ تر سرمایہ Clients کا گردش کرتا ہے۔
-8 اوورسیز پاکستانیوں کے پیسے کو White Money تصور کیا جائے اور Legal Overseas Paksitanisکے لیےFiler کےStatus کا اعلان کیا جائے۔
-9 Real Estate Consultantsبزنس ریگولیشن1984رولزXIIکے تحت کام کرتے ہیںاور حکومت کیلئےTax Collecting Agents کے طورپربھی کام کرتے ہیں۔حکومت Real Estate Consultants کے (Two-Percent 2% )سرو سس چارجز(کمیشن( کو قانونی تحفظ فراہم کرے اور اسکی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔
وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ فوری طور پر FBR کی مکمل Overhauling کی جائے تاکہ ایسے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے والے ادارے سے بدل کر عوام دوست محکمہ بنایا جا سکے اور اس کی کارکردگی کی بنیاد ٹیکس دھندا کی بہتری پر مشتمل ہو۔ نیز FBR میں موجود افراد جن میں CSS کے ذریعے افراد کو تعینات کیا جاتا ہے کی مکمل Training کو یقینی بنایا جائے۔ اور وہاں پر بدعنوانیوں کا سخت نوٹس لے کر اس میں ملوث سب افراد کو سخت ترین سزائیں دی جائیں۔ اس کے بغیر ہمارے ٹیکس کے محکمے کا قبلہ درست نہیں ہوسکتا۔Columns کی Limitation کی وجہ سے میں صرف یہاں پراپرٹی کے محکمے کی ہی دشواریوں کا ذکر کرسکا۔ جبکہ وطن عزیز کا کوئی محکمہ اور شعبہ ایسی دشواریوں اور نا انصافیوں سے محفوظ نہیں۔