”مٹی پاﺅ “

16 اپریل 2018

منو بھائی جاتے جاتے بتا گئے ہیںکہ :
کاغذ کی یہ مہک ‘یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی
کیا جانئے پھر کیا ہو ؟محو حیرت ہوں یہ دنیا کیا سے کیا ہو جائیگی؟؟ہونے کو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بندے کے دائیں بائیں کان کے اوپر نیچے کہیں ”یو ایس بی“ ٹھونسنے کی کوئی صورت نکل آئے ۔ بٹن دبانے سے کتاب ذہن میں سرکنے لگے ۔ خیر یہ تب کے معاملات ہیں جب ہم نہیں ہونگے ۔ پھر ہمیں ان سے کیالینا دینا؟ ابھی ہم ہیں اور کتابیں ہیں۔ پچھلے دنوں لاہور کے ایک ہوٹل میں چوہدری شجاعت حسین کی یاد داشتوں پر مبنی کتاب ”سچ تو یہ ہے “ کی تقریب رونمائی تھی ۔ میڈیا سمیت زندگی کے ہر شعبہ سے قابل ذکر لوگ موجود تھے ۔ صرف ن لیگ کہیں دکھائی نہیں دی ۔ حالانکہ گجرات کے چوہدریوں کا یہ وضع دار گھرانہ کسی سے تعلق گنوانے کو ہرگز تیار نہیں۔ تقریب کی صدارت کیلئے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو پہنچے ہوئے تھے ۔ شیخ رشید کو اس تقریب میں مہمان خاص بنانے کا تکلف بس یونہی تھا۔ شیخ صاحب جس محفل میں موجود ہوں وہ بڑے دھڑلے سے خود ہی مہمان خاص بن جاتے ہیں۔ لاہور ہوائی اڈے پر کوئٹہ سے آنے والے اس مہمان وزیر اعلیٰ کا استقبال چوہدری شجاعت اورچوہدری پرویز الٰہی نے کیا۔ کیا اس موقعہ پر چیف سیکرٹری پنجاب کو موجود ہونا چاہئے تھا ؟میرے پوچھنے پر ایک بڑے سے افسر بولے : وزیر اعلیٰ بلوچستان نجی دورے پر آئے ہونگے ۔ شاید انہوں نے حکومت پنجاب کو اطلاع بھی نہ دی ہو۔ میرا اگلا سوال تھا ۔ اگر حکومت پنجاب کو ان کے آنے کی اطلاع ہوتی تو پھر ؟ اب ان کا جواب خاموشی تھا۔ جن دنوں میاں نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے اور محترمہ بینظیر بھٹو وزیر اعظم پاکستان تھیں۔ ان دنوں وزیر اعلیٰ پنجاب ، وزیر اعظم پاکستان کی لاہور آمد پر ہوائی اڈے نہیں پہنچتے تھے ۔ شاید ان کی اسی ادا پربھٹو مخالف قوتیں انہیں پیار سے دیکھنے لگیں۔ پھر یہی پیار رنگ لایا اور میاں صاحب کہیں سے کہیں پہنچ گئے ۔ عبدالقدوس بزنجو نے کتاب کی تقریب رونمائی میں اپنی تقریر میں نواز شریف کے” سرےے گارڈر©“کا خاص طور پر ذکر کیا ہے ۔ ’نوائے وقت‘ نے اس پریوں سرخی جمائی :”نواز شریف انسان اچھے ، عزت نہیں دیتے ، گردن میں سریا آجاتا ہے “۔ پھراخبارات میں یہ پڑھ کر بس مزہ ہی آگیا کہ لاہور اپنے میزبان چوہدریوں سے فراغت پا کر یہ نوجوان بلوچ سردار‘ بس میں سوا ر ہو کر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے سرے سے حکومت سے سیکورٹی پروٹو کول لیا ہی نہیں۔ بس کا ٹکٹ بھی خود خریدا۔ صرف ان کے عملہ کے چند لوگ ان کے ہمراہ تھے ۔ اسطرح حکومت پنجاب کو وہ یہ پیغام پہنچانے میں کامیاب رہے کہ ہم آپکے پروٹو کول اور استقبال کو کیا سمجھتے ہیں۔ ایک بلوچ اپنی عزت کے مسئلے پر بہت حساس ہوتا ہے ۔ گجرات کے چوہدریوں کا یہ خاندان قیام پاکستان کے بعد پہلے عشرے میں ڈسٹرکٹ کونسل تک پہنچ گیا تھا۔ اس خاندان کی پہلی سیاسی کامیابی چوہدری ظہور الٰہی کی بلا مقابلہ رکن ڈسٹرکٹ کونسل ہونا تھا ۔ دوسری بڑی کامیابی بطورایڈمنسٹریٹر ڈسٹرکٹ کونسل گجرات تقرری تھی ۔ اسطرح وہ گجرات کے نوابزادوں سے بہت آگے نکل گئے ۔ چوہدری ظہور الٰہی صدر ایوب کے زمانہ میں ان تین دلیر سیاستدانوں میں شامل تھے جنہوں نے ایبڈو کا عدالت میںمقابلہ کیا۔ ورنہ باقی سب سیاستدانوں نے خاموشی سے سیاست سے ”جلاوطنی“ اختیار کرلی تھی۔چوہدری ظہور الٰہی بہادر تھے اسلئے ”کالا باغ “کی دہشت کے سامنے بھی ڈٹ گئے ۔ ہمارے ملک میں ان بڑے ”چوہدری“ سیاستدانوں کا سیاسی جماعتوں میں بس سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ ہوتا ہے ۔سیاسی جماعتوں کے منشور کی بجائے انہیں صرف اسمبلی پہنچنے میں دلچسپی ہوتی ہے ۔ بھٹو کی خواہش کے باوجود چوہدری ظہور الٰہی پیپلز پارٹی میں نہ جاسکے۔ پھر ان کی شہادت بھی جیالوں کے ہاتھوں ہی ہوئی ۔ ہر بڑے آدمی کی طرح بھٹو کی شخصیت میں بھی تضادات تھے ۔ وہ جاگیرداری کے خلاف تھے ۔ لیکن ان کے اندر کا جاگیردار آخر دم تک زندہ رہا۔ وہ اپنے سیاسی مخالفوں سے جانی دشمنوں کی طرح نپٹتے تھے ۔ چوہدری ظہور الٰہی کے خلاف بھینس چوری کا مقدمہ اور استاد دامن کے ہاں سے بم کی برآمدگی ، اسی ذہنیت کی مثالیں ہیں۔ درویش شاعر استاد دامن کو اس بم کے مقدمے کی پرواہ کہاں تھی ۔وہ حوالات میں ایک ملاقاتی کویوں واقعہ سنارہے تھے:
نہ کڑی نہ چرس نہ شراب دامن
تے شاعر دے گھر چوں بم نکلے
گجرات کے چوہدریوں کا یہ خاندان صرف گجرات نہیں پاکستان کا ایک اہم سیاسی خاندان ہے ۔ ان کی خاندانی سیاسی تاریخ میں دو عنوان بڑے اہم ہیں۔ دستر خوان اور پرویز مشرف کی وردی ۔پرویز مشرف کی وردی اب ماضی کا قصہ کہانی ہو گئی ۔ اپنے دسترخوان اور مہمانوں کا چوہدری شجاعت حسین اپنی کتاب میں بار بار ذکر کرتے ہیں۔ ہم اپنے اللہ کے شکر گذار ہیں کہ ہم نے نہ ہی ابھی تک ان کے گھر سے کوئی کھانا کھایا اور نہ ہی کبھی چائے کی پیالی پی۔ چوہدری شجاعت حسین نے اپنی کتاب میں میاں شریف فیملی کی بے وفائیوں اور وعدہ خلافیوں کابھی بہت ذکر کیا ہے ۔پنجاب کی وزارت اعلیٰ اور پاکستان کی وزارت عظمیٰ ،یہ دونوں عہدے گجرات کے ان چوہدری برادران نے ایک ایک بار دیکھ لئے ہیں۔ گجرات کے یہ چوہدری لاہور کی میاں فیملی کی ٹکر کے لوگ ہیں۔ اگر میاں فیملی انہیں سیاست میں آسانیاں مہیا کرتی رہتی اور وعدہ خلافیاں نہ کرتی تو کیا میاں نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم بن سکتے تھے ؟ چوہدری شجاعت حسین کی کتاب بہت دلچسپ ہے ۔ پڑھ کرآدمی ایک عالم حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ چوہدری صاحب لکھتے ہیں کہ جب بینظیر بھٹو کی حکومت توڑنے کی افواہیں گرم تھیں ۔ اس موقعہ پر وزیر اعظم پاکستان بینظیر بھٹو نے امریکی سفیر رابرٹ اوکلے سے رابطہ کیا کہ وہ صدر غلام اسحاق سے پوچھ کر بتائیں کہ کیا وہ میری حکومت ختم کر رہے ہیں؟ وہ وزیر اعظم ہاﺅس سے چند قدم کے فاصلے پر ایوان صدر میں موجود صدر غلام اسحاق سے خود پوچھنے کی روادار نہیں تھیں۔محترمہ بینظیر بھٹو آج اس خبر کی تردید یا تصدیق کیلئے زندہ نہیں ہیں۔ چوہدری صاحب نے اپنی کتاب میں سابق صدر محمد رفیق تارڑ کا بھی ذکر کیا ہے ۔ جناب رفیق تارڑ صاحب نے چوہدری صاحب کو بتایا تھا کہ جب ٹیلی فون پر میاں نواز شریف نے انہیں صدارتی امیدوار نامزد کرنے کے فیصلہ بارے بتایا تو انہیں یقین نہیں آرہا تھا۔ وہ دیر تک اپنی ران پر چٹکیوں سے کاٹتے رہے کہ کیا وہ خواب تو نہیں دیکھ رہے؟اب تارڑ صاحب زندہ وسلامت ہیں ۔ ہم ان کی صحت اور سلامتی کیلئے دعا گو بھی ہیں۔ وہ ”اپنی ران پر چٹکیوں اور خواب دیکھنے کے شبہ “کی تردید کرتے ہیں۔ ادھر چوہدری صاحب کا یہ کہنا ہے کہ میں نے اپنی کتاب میں صرف وہ لکھا ہے جو آنکھوں سے دیکھا، کانوں سے سنا اور ہاتھوں سے سر انجام دیا ۔ پھر اس بڑے چوہدری نے اک بڑی بات اوربھی کہہ دی کہ پھر بھی اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو میں اس سے معافی چاہتا ہوں۔ ہم ان دونوں بڑوں کو سچا سمجھتے ہوئے اس ایشو کو ”مٹی پاﺅ “ پرہی ختم کرتے ہیں۔