نواز شریف نااہل توکیا عمران خان اہل ہیں؟

16 اپریل 2018

سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں نوازشریف کو اس بنیاد پر تاحیات نااہل قرار دے دیا کہ انہوںنے اپنے بیٹے کی فرم سے تنخواہ لینے کا ذکر اپنے ٹیکس گوشواروں میں نہیں کیا۔ عدالت عظمی کی نظر میں انہوںنے دانستہ جھوٹ بولا اور اپنے اثاثے چھپائے ۔ عوامی نمائندوں کو دیانت دار ہونا چاہیئے اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیئے بلکہ یہ بہت ہی اچھی بات ہے لیکن اسی تناظر میں اگر عمران خان کی غلط بیانی ¾ قول و فعل اور متنازعہ کردار کو دیکھا جائے تو عدالت عظمیٰ کی پسند و ناپسند کی باتیں ہوتی سنائی دیتی ہیں۔ حقائق کے مطابق بھارہ کہو یونین کونسل کی جانب سے بنی گالہ کے تین سوکنال اراضی پر مشتمل عالیشان محل کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیاگیا تھا جبکہ اسی یونین کونسل کے سابق سیکرٹری محمد عمر نے اپنے حلفیہ بیان میں کہا تھا کہ وہ 2003ءمیں یوسی بھارہ کہو میں سیکرٹری تعینات تھا جب عمران خان سے بنی گالہ کی رہائش گاہ کی تعمیر کے حوالے سے سی ڈی اے کا منظور شدہ نقشہ طلب کیاگیا تو عمران خان کوئی منظورشدہ نقشہ پیش نہیں کرسکے جس پر مزید کوئی کاروائی عمل میں نہ لائی جاسکی ۔ رپورٹ کے مطابق 2003ءمیں یونین کونسل میں کمپیوٹر کی سہولت حاصل نہیں تھی تمام دفتری کاروائی ہاتھ سے ہی انجام دی جاتی تھی جبکہ عمران خان کی جانب سے جو دستاویزات عدالت عظمی میں جمع کروائی گئیں وہ کمپیوٹرائزڈ تھیں ۔ گویاعمران خان کے وکیل کی جانب سے عدالت عظمی میں جو دستاویز جمع کروائی گئیں وہ سب کی سب جھوٹ کا پلندہ اورجعلی دستاویزات تھیں ۔کیا یہ جھوٹ عمران خان کی جانب سے ان کے وکیل نے عدالت عظمی کے سامنے نہیں بولا ۔ لیکن بنی گالہ کے حوالے سے سی ڈی اے کو نئے تعمیراتی قوانین بنانے کا حکم جاری کرکے معاملہ نمٹا دیا گیا۔ اگر نواز شریف کو معمولی بات کو چھپانے پر تاحیات نااہل قرار دیاجاسکتا ہے تو عمران خان کو عدالت عظمی میں جعلی دستاویزات جمع کروانے اور عدالت کے سامنے بنی گالہ کیس کے حوالے سے جھوٹ بولنے پر کوئی سزا نہ دینا معنی خیز بات قرار دی جارہی ہے ۔ خیبر پختونخوا کے سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال کی تحقیقات نیب کررہی ہے ۔دستاویز سے ثابت ہورہا ہے کہ عمران خان نے ذاتی سہولت کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کیا تھا بلکہ ایک ٹی وی چینلز پر تو مسلسل ایسی ویڈیوز دکھائی جاتی رہیں جس میں عمران خان سمیت ہیلی کاپٹر کو ہوا میں اڑتے اور لینڈ کرتے دکھایا گیا ۔ لیکن اس حوالے سے بھی کوئی گرفت نہ ہو سکی۔ عمران خان نے شہباز شریف پر دس ارب روپے دینے کاالزام لگایا تھا پھر مکر گیا ۔ہر ضمنی انتخاب کے موقع پرالیکشن کمیشن کے قواعدکی خلاف ورزی کرنا عمران کا معمول ہے ¾ یہاںبھی وہ ہر قانون سے بالا رہے۔ 2014ءکے دھرنے میں ایس پی پولیس کو تشدد کا نشانہ بنانے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا جو مقدمہ دہشت گردی کی عدالت میں چل رہا ہے دو سال تک عمران خان کی جانب سے ¾ عدالت کا سمن وصول کرنے سے انکار کیا جاتارہا کہ وہ اپنی رہائش گاہ میں موجود نہیں جبکہ اسی رہائش گاہ پر وہ روزانہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے ۔ہمیں اعتراض نہیں کہ نواز شریف کو تاحیات نااہل کیوں کردیاگیا لیکن ایک جانب معمولی سی بات پر تاحیات نااہل کرنا اور دوسری جانب مسلسل جھوٹ بولنااورعدالتوںکے احکامات کو مذاق بنانے والا کہاں کا صادق اورکہاں کا امین ہو سکتا ہے ۔ ہم سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی مکمل تائید کرتے ہیں کہ عوامی نمائندوںکو دیانت دار اور شفاف کردار کا حامل قابل تقلید انسان ہونا چاہیئے بلکہ الیکشن کمیشن کو آنےوالے انتخابات پر اس کسوٹی کو معیار بنانا چاہیئے۔ اعتراض کی بات محض اتنی ہے کہ تنہا نواز شریف ہی مشق ستم کا نشانہ کیوں؟عمران خان سمیت جتنے بھی سیاست دان ¾ فوجی آمر اور بیورو کریٹس اپنے عمل اور گفتگو میںجھوٹ بولتے دکھائی دیتے ہیں ¾ قانون ¾ضابطوںاور عدالتی فیصلوں کا احترام نہیں کرتے ۔ ان سب کو تاحیات نااہل قرار دیا جانا چاہیئے بلکہ مستقل پیمانے پر ایک ایسا معیار قائم کردیاجائے جو کسی امتیاز اور مبالغے کی بجائے پارلیمنٹ کے ہر امیدوار پر نافذالعمل بھی ہو ۔ عمران خان وہ واحد سیاست دان ہیں جو اپنے مطلب کے فیصلے نہ ہونے پر عدالتوں کو بھی تنقید کانشانہ بناتے رہے ہیں بلکہ کھلے عام حکم عدولی کرتے ہیں ۔اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے اسلام آباد کو بند کرنے اور عمرانی دھرنے کے خلاف جو فیصلہ آیا تھا عمران خان نے نہ صرف اس پر کھلی تنقید کی بلکہ عمل درآمدکرنے سے بھی انکار کردیا تھا ۔بابا رحمتے کے شاندارفیصلوں کا رخ تمام کرپٹ ¾ بدکردار اور جھوٹ بولنے والے عوامی نمائندوں کی جانب بھی ہونا چاہئے تاکہ ایک ایسی مثال قائم ہو جس کا ذکر ان کے رخصت ہونے کے بعدبھی احترام سے کیاجاتا رہے ۔