تاحیات نااہلی اور مابعد

16 اپریل 2018

سپریم کورٹ کے ججوں کو گالیاں دی جارہی ہیں اور اب معاملہ بڑھتے بڑھتے خوش اطوار جج جسٹس اعجازالالحسن کے گھر پرفائرنگ تک پہنچ گیا یہ کارستانی کسی تیسرے نادیدہ فریق کی بھی ہو سکتی ہے۔ معاملہ جوڈیشل انکوائری کا متقاضی ہے۔
قوم کی قیادت کی امانت کا بار اٹھانے کا کون اہل ہے اور کون نااہل، عدالت عظمیٰ نے توفیصلہ سنا دیا لیکن اس فیصلے سے بحث کیاختم ہوئی، الٹانئے مباحث شروع ہوگئے۔ 5 رکنی لارجر بنچ کے اپنے معزز جج جسٹس عظمت سعید شیخ نے بلاشبہ دانائی کی باتیں فیصلہ سے منسلک اپنی اضافی تحریر میں شامل کی ہیں۔ گہری نظر سے دیکھا جائے تو معاملہ پھر پارلیمنٹ کے سپرد ہوگیا ہے۔ عدالت عظمی نے تسلیم کیا کہ اسے آئین بنانے کا اختیار ہے نہ ہی اس میں ترمیم کرسکتی ہے۔ اس کے ذمے تو صرف تشریح و تعبیر کرنے کی ذمہ داری ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ سمجھا جائے کہ پارلیمنٹ قانون سازی کرکے نااہلی کی مدت کا تعین کرسکتی ہے۔ یا یوں کہیں کہ عدالتی فیصلے کے قائم رہنے کو ختم کرنے کی کوئی سبیل پیدا ہوجائے گی؟
ہماری تاریخ میں عدالتوں کے فیصلوں کے بارے میں ایک بات عمومی طورپر وکلاءبرادری اور سائلین میں کہی جاتی ہے کہ عدالتی فیصلے ایسے ہوتے ہیں کہ فریقین اپنی اپنی تاویل کرکے کام چلالیتے ہیں۔ کئی نکات وضاحت طلب ہوتے ہیں جن کی من مرضی توجہیہ کرکے فریقین مقدمہ اپنی اپنی دلیل اخذ کرتے ہیں۔ اس طرح مسائل ومعاملات سلجھنے کے بجائے مزید الجھتے چلے جاتے ہیں۔ ایک مقدمہ بڑھ کر کئی مقدموں میں تقسیم ہوجاتا ہے اور ایک قضیہ بکھر کر کئی اور قضیوں میں سما جاتا ہے۔قاضی حسین احمد مرحوم ومغفور آج حیات ہوتے تو شاید بے حد مسرور ہوتے کہ 62اور63 کی سب سے زیادہ گردان انہوں نے کی تھی۔ کئی مہمات کا قصد کیا۔ ملک میں دیانت دار اور اہل قیادت کا شعور بانٹتے اس دنیا سے رخصت ہوئے اور انکے جانشین بانکے میاں نے مسجد اور مدرسے کے لئے مختص 20 کنال کے اربوں روپے مالیت کے پلاٹ کو جس طرح 82 ہزار روپے ماہانہ پر 20 سال کی لیز پر ایک مخلوط تعلیم دینے والی 7 سٹار یونیورسٹی کے حوالے کیا ہے اس سے صداقت امانت اور دیانت کے مروجہ معیارات یکسر بدل گئے ہیں۔60 صفحات پر پھیلافیصلہ’ قرآن وحدیث کے حوالوں سے مزین’ جسٹس عمر عطاءبندیال کے قلم کا شاہکار ہے۔ نوازشریف اور جہانگیر ترین دونوں دولت مند تھے، دونوں باہم متصادم اور مخالف سیاست کررہے تھے لیکن دونوں تاحیات نااہل قرار پائے ہیں۔ دونوں کا دکھ ایک طرح کا لیکن یادیں الگ الگ ہیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے جسٹس طارق محمود نے اس مقدمے کے ایک بالکل مختلف پہلو کی طرف توجہ دلائی ہے کہ نواز شریف یا جہانگیر ترین نہ تو درخواست گزار تھے اور نہ اس فیصلے میں ان کا کوئی ذکر کیا گیا ہے۔ساری دنیا اس فیصلے کو نواز شریف یا جہانگیر ترین کے خلاف فیصلہ کہہ رہی ہے۔ ان کی تصویریں نشر ہو رہی ہیں اور ملامت جاری ہے۔ نواز شریف کا نہ یہ کیس تھا نہ ان کا کہیں نام ہے اور نہ ہی ان کا اس کیس سے کوئی تعلق ہے۔‘جج صاحب نے عین عروج پر آمر مطلق جنرل مشرف کو چیلنج کردیا تھا اور پھر ان پر اوران کے بچوں پر زمین کیسے تنگ کردی گئی تھی۔ وہ کہانی سننے کے لائق ہے ایک بار جج صاحب اور یہ کالم نگار فرصت کے طویل لمحوں میں اکٹھے ہو گئے تھے انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ جنرل مشرف کے ساتھ تنازع کے دنوں میں ان کے بھائی کا انتقال ہو گیا تو جرنیل کے خوف و دہشت کا یہ عالم تھا کہ برادر جج فاتحہ کےلئے ان گھر نہیں آسکے تھے اگرچہ ہم ایک ہی کالونی میں رہتے تھے اور ہفتہ وار تعطیل پر دوپہر کو میرے گھر کھانا معمول ہوتا تھا۔ مرحوم ارشاد حقانی نے انہی دنوں لکھا تھا کہ جج صاحب کے بچوں کے ساتھ کلاس فیلوز کا میل جول بند کرادیا تھا کہ ان کے والد عدم توازن کا شکار ہیں کہ آمر مطلق جرنیل کو للکار رہے ہیں۔اگرچہ جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سابق وزیر اعظم کے خلاف نہیں ہے جبکہ ہر پل متحرک اور بروئے کار رہنے والی وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ فیصلہ پہلے آتا ہے سماعت اور مقدمہ بعد میں کیا جاتا ہے’ کیا گہری بات کی ہے لیکن ان پر توہین عدالت کا کوئی الزام بھی نہیں لگایا جاسکتا۔اسے کہتے ہیں سانپ مار دینا اور لاٹھی بھی بچا لینا’ مریم اورنگ زیب کھلے ڈلے انداز میں بے تکلف گفتگو کی عادی ہیں۔ فرماتی ہیں صادق و امین والی دونوں شقیں نہ نکالنا ہماری سنگین غلطی تھی کیا وقت آن لگا ہے کہ مغرب اپنے قائدین سے پیغمبروں والی امانت و دیانت کا تقاضا کرتا ہے جبکہ ہم ان کے لئے ہر قسم کا استثنیٰ چاہتے ہیں۔آئین کی شق 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق مقدمہ کے فیصلہ کا شدت سے انتظار کیاجارہا تھا۔ کیس کا فیصلہ 14فروری 2018 کو محفوظ کیا گیا تھا۔ مقدمہ کی سماعت منصف اعلی جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے کی۔ عدالت عظمی عبدالغفور لہڑی کیس میں 62ون ایف کے تحت نا اہلی کو تاحیات قراردے چکی تھی۔ عام فہم تھا کہ عدالت عظمیٰ جب ایک اصول طے کردے تو پھر مقدمہ بدلنے سے اصول نہیں بدلا کرتا۔ نتائج یکساں رہتے ہیں۔ فیصلہ ایک ہی رہتا ہے خواہ مقدمہ اور فریق کوئی بھی ہوں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ تلوار گرانے میں نوازشریف نہ جہانگیر ترین خود درخواست گزارتھے۔ نواز شریف ، جہانگیر ترین کے حوالے سے یہ فیصلہ خاص نہ تھا بلکہ عام فیصلہ ہے جس کی لپیٹ میں عام اصول کے طورپر نوازشریف اور جہانگیر ترین جیسے بااثر اور اہل ثروت بھی آگئے۔ دوہری شہریت سمیت ایسے تمام افراد بھی ’رگڑے‘گئے ہیں جو ’صادق امین‘ کی آئینی شق کانشانہ بنے ہیں۔ ان کی نااہلی کی مدت کا فیصلہ ہونا تھا۔ نواز شریف اور جہانگیر ترین آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ہی نااہل قرار پائے تھے۔اس شق کی تشریح کے لئے سپریم کورٹ میں 13 مختلف درخواستیں دائر تھیں۔ درخواست گزاروں میں جعلی تعلیمی اسناد پر نااہل ہونے والے ارکان اسمبلی بھی شامل تھے۔ درخواستوں میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا قانون ختم کرکے اس کی مدت کا تعین کیا جائے۔عدالت نے قرار دیا کہ ’جو شخص صادق اور امین نہ ہو اسے آئین تاحیات نااہل قرار دیتا ہے۔ عدالتی حکم کی موجودگی تک اس کی نااہلی برقرار رہے گی۔ آرٹیکل 62 ون ایف اسلامی اقدار کے مطابق ہے۔‘ یہ بھی کہاگیا کہ ’آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق مسلم غیر مسلم دونوں پر ہو گا۔‘ اخلاقی جرائم میں دھوکہ دہی، اعتماد توڑنا، بے ایمانی، شامل ہیں۔ اخلاقی جرائم بھی 62 ون ایف کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ بھی واضح کیاگیا کہ ’آئین میں جہاں نااہلی کی مدت کا تعین نہ ہو وہاں نااہلی تاحیات سمجھی جاتی ہے۔فیصلہ سناتے وقت پانچ رکنی بنچ کے رکن جناب جسٹس سجاد علی شاہ موجود نہیں تھے۔ عدالت عظمیٰ کے بارے میں یہ بات بھی سننے میں آئی کہ اہم فیصلے جمعہ کے روز جاری کئے جارہے ہیں۔ یہ فیصلہ بھی جمعہ کو سنایاگیا۔ جمعہ ’سید الایام‘ (دنوں کا سربراہ) کہلاتا ہے۔ اسلامی ہفتہ کی ترتیب میں پہلا دن ہوتا ہے۔ پاکستان میں قیادت کی تطہیر قوم کا ایسا خواب ہے جس کی تعبیر کا بے چینی سے انتظار ہے۔
جسٹس عظمت سعید شیخ نے اضافی نوٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کے اخذکردہ نتائج سے اتفاق کیا ہے تاہم انہوں نے کئی پُرمغز سوال اٹھائے ہیں۔ ایک بات تو بہت دلچسپ انہوں نے بیان کی کہ ارکان پارلیمان خود ہی اس عدالتی نتیجہ کے ذمہ دار ہیں کیونکہ انہوں نے قانون سازی کے ذریعے خود ہی یہ حدبندی کی ہے۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے تشریح اور تفہیم کے حوالے سے جو اہم نکات اٹھائے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس پر کس حد تک پارلیمان میں بیٹھنے والے جید رہنما غور کرتے ہیں۔میاں نوازشریف کو البتہ جسٹس ملک قیوم کی یاد ضرورآرہی ہوگی۔ اب ایوان عدل سے صداآرہی ہے کہ اب صرف عدل ہوگا۔ انصاف اور قانون کے مطابق فیصلے ہوں گے۔62 اور 63 کی شقیں مذاق بنادی گئی تھیں لیکن عدالت عظمی کے فیصلوں سے ہنسی اب رنج وغم اور عبرت کی کہانی بن چکی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آئین کی صحت، تعلیم اور امن وامان سے متعلق دیگر شقوں کا مذاق بندکرکے اس پر عمل درآمد کب ہوگا۔ جو سب سے اہم ہیں۔ قوم کی بنیادی ضروریات کے متعلق ہیں۔ دستور تو عمرانیات سے متعلق ہے۔ لوگوں کی فلاح وبہبود، خیر کا سلسلہ بھی تو چلنا چاہئے۔ سزا ضرور ہو لیکن فلاح پر توجہ دینا اس سے بھی اہم ہے۔ متاثرین فیصلہ نے سوگ کی چادر بچھا لی ہے۔ بین جاری ہے۔ کارکنوں کو پکار پکار کر کہاجارہا ہے کہ تیار رہیں۔ کال دینے والاہوں۔ جنرل جیلانی کی ’مہربانی‘ سے حادثاتی طورپر سیاست میں آنے والے اب حادثہ کے ذریعے ہی واپسی کا سفر طے کررہے ہیں۔ جنرل حمید گل بھی عالم ارواح میں زیرلب مسکرارہے ہوں گے کہ میاں صاحب سیاسی منطقی انجام تک پہنچ ہی گئے۔ ویسے ہمارے پیارے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نیا فلفسہ پیش کر رہے ہیں کہ اگر نواز شریف کو گرفتار کرنے کا عدالتی حکم آیا تو اس پر عمل درآمد کیا جائے گا اور اسی سانس میں یہ بھی فرما رہے ہیں کہ سب کچھ تو نواز شریف کا ہے یہ سیاسی اثاثہ’ یہ سیاسی جماعت نواز شریف کی ہے ایک عدالت کا فیصلہ ہے ایک فیصلہ تاریخ کرے گی۔
حرف آخر ایک محترم دوست نے مختلف گروپوں میں مقبول عام حسب احوال نیا لطیفہ بھجوایا ہے بیرون ملک تازہ وارد دوست سے استفسار کیا گیا کیا حال ہے آپ کے م±لک کا؟کہنے لگا؛ بالکل ویسا ہی جیسا جیل میں ہونے والی جمعہ کی نماز کا ہوتا ہے۔اذان فراڈیا دیتا ہے،امامت قاتل کراتا ہے اور نمازی سب کے سب چور ہوتے ہیں۔ !!!