عدالت کی دہلیز

16 اپریل 2018

میں سنتا رہا، وہ تاریخ کے اوراق پلٹتا رہا، وہ بھی ایک محتسب کی عدالتی تاریخ کے اوراق!
میری معلومات یا جو میں نے دیکھا اس کے مطابق ازخود نوٹس کو دوام سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری نے بخشا۔ کیونکہ یاد پڑتا ہے، ایک رپورٹ جو سینٹ میں 5 مارچ 2013ءکو پیش کی گئی کہ، پچھلے 5 سالوں میں 86 سو موٹو لئے گئے۔ اسی طرح سن 2009ءمیں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خواجہ محمد شریف نے بھی کہا تھا کہ اگر اداروں نے فعال کردار ادا نہ کیا تو ازخود نوٹس لیتا رہوں گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ، خواجہ محمد شریف کے دور میں ازخود نوٹس SUO MOTU لئے گئے تاہم جسٹس عظمت سعید کے نزدیک ہائی کورٹ ازخود نوٹس ٹو نہیں لے سکتا تاہم جسٹس خواجہ محمد شریف نے لاہور میں ایک بچی کے کھلے گٹر میں گرنے، گنے کے کسانوں کو شوگر ملز کے خراب کرنے اور لاہور اقبال ٹاو¿ن پولیس کے ہاتھوں ایک نوجوان کی تشدد سے موت پر ازخود نوٹس لئے جن پر خواص و عوام کی جانب سے انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا تھا۔ لیکن اس دوست کے مطابق ازخود نوٹس کو کمال تک 1996ءکے آخری 2 ماہ میں، ایک ایسے جسٹس نے پہنچایا جو لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی سروسز کے بعد صوبائی محتسب بنے۔ انہوں نے پہلے صوبائی محتسب پنجاب کی حیثیت سے 22 اکتوبر 1996ءکو حلف اٹھایا، اور 28 دسمبر 1996ءکو شہادت پائی، یوں صرف 2 ماہ 6 دن بحیثیت محتسب کام کیا، اور بہت کام کیا۔ ذہن نشین رہے کہ، پانچ نومبر 1996ءتا 17 فروری 1997ءنگران وزیر اعظم ملک معراج خالد کا دور حکومت تھا اور پنجاب کے نگران سیٹ اپ میں میاں افضل حیات وزیر اعلیٰ اور خواجہ احمد طارق رحیم گورنر پنجاب تھے۔ یہ گفت و شنید اس وقت کے ترجمان منیر احمد خان کے ساتھ چل رہی تھی، احمد علی عتیق کی گفتگو بچ بچا کر تھی تاہم احمد علی کے یادوں کے دریچے سے کچھ اخذ کرنا مشکل نہیں تھا۔ اب اگر ایک شخص بطور محتسب ببانگ دہل کہتا ہے کہ، میں ایک چوکیدار سے چیف سیکرٹری تک کو بدعنوانی و لاقانونیت ، پبلک انٹرسٹ اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پر پوچھوں گا، جعلی پولیس مقابلے نہیں چلیں گے۔ آہ! محمود و ایاز کو ہمارے معاشرے یا تھرڈ ورلڈ کے ممالک میں شعر وادب میں تو ایک صف میں کھڑا کرسکتے ہیں بصورت دیگر کہاں ممکن ہے؟ پھر صوبائی سطح پر وہ پہلا محتسب ہو تو بیورو کریسی کے شتر بے مہار کی طبع نازک پر گراں تو گزرے گا۔ بےشک یہ اختیار اس کے ایکٹ میں موجود ہو۔ بیوروکریسی کسی بھی قسم کی ہو یا پولیس افسران کا مرتبہ کچھ بھی ہو یہ سبھی بڑے "نازک مزاج" ہوتے ہیں کیونکہ انہیں جواب سننے کی عادت اور پیشی بھگتنا پسند نہیں ہوتا۔ "مزے" کی بات یہ ہے کہ، آرمی آفیسر سے پولیس آفیسر تک کو جواب دیتے وقت عادل یا عدلیہ کو سیلوٹ کرنا پڑتا ہے ، اور بار بار کرنا پڑتا ہے جو صاحب بہادروں کے لئے کہاں آسان ہوتا ہے۔ خیر یہ باتیں تو پچھلی صدی کے آخری عشرے کی تھیں جبکہ سو موٹو لینا چاہئے ، نہیں لینا چاہئے، سپریم کورٹ کو کس حد تک لینا چاہئے، ہائی کورٹ ازخود نوٹس لے سکتا ہے، نہیں لے سکتا ، یہ بحث اکیسویں صدی کے 2009ءاور 2010ءمیں زور پکڑتی رہی۔ بلوچستان کی ایک جرح اور عدالتی معاونت کے حوالے سے معروف قانون دان افتخار گیلانی کا مو¿قف تھا کہ ہائی کورٹس کے پاس ازخود نوٹس کا اختیار ہے۔ عاصمہ جہانگیر کا خیال تھا کہ نہیں ہے۔ پھر ایس ایم ظفر کے نزدیک ففٹی ففٹی والا معاملہ تھا اور وہ بھی سپریم کورٹ کے تناظر میں، ان کے نزدیک والوں کو تحمل سے اور محدود پیمانے پر سو موٹو لینا چاہئے۔ (بہرحال نتیجہ یہ سامنے آیا کہ، ہائی کورٹ کے نزدیک آرٹیکل 199 انسانی حقوق کے حوالے سے پاورز فراہم کرتا ہے، اور آرٹیکل 184 (3) سپریم کورٹ کیلئے ازخود نوٹس کے دریچے کھولتا ہے۔) مگر تحمل اور محدود پیمانے والی بات دل کو لگتی ہے، مگر وہاں جہاں پر جمہوریت بالغ ہو، ادارے کم سنی والی حرکات میں ملوث نہ ہوں اور جہاں حاکم وقت اور اس کی ٹیم مثالی ہو ، وہاں عدلیہ ایسے "پھڈوں" میں پڑے گی ہی کیوں؟ جس ریاست میں اشرافیہ کا حق زمینی جنت الفردوس ہو، کسی صراط سے بھی گزرنے کا تکلف وجود نہ رکھتا ہو ، انسانی حقوق 1973ءکے آئین کے پہلے باب میں اداسی کا راگ الاپ رہے ہوں۔ 6 تا 28 دفعات پر عمل تو کیا کوئی تھیوری ہی میں نہ لاتا ہو، کوئی بتائے وہاں کیا ہوگا؟ یہی ہوگا ،نا۔۔۔۔ جمہوریت کے کوکھ سے آمریت جنم لے گی، کوئی آٹھویں ترمیم جنم لے گی، کوئی ایل ایف او آئے گا، کہیں پی سی او کے تحت گل کھلائے جائیں گے، پھر کوئی این آر او متشکل ہوں گے، آئین اور قانون کے ہوتے ہوئے کوئی میثاق جمہوریت تشکیل دینا پڑے گا، وغیرہ وغیرہ۔ صداقت عامہ یہ ہے کہ، کسی صدر یا وزیر اعظم کے اختیارات سے بھی زیادہ پاورفل چیز اس کا ذاتی کریکٹر ہوتا ہے، کردار کا پس منظر اور پیش منظر ہوتو کسی قسم کی اسٹیبلشمنٹ اس کی ہوا کی طرف بھی دیکھنے کی جرا¿ت نہیں کرتی!
واپس آتے ہیں منیر احمد خان کی جانب، ایک بچہ لاہور کے کینٹ ایریا میں کھلے سیوریج ہول میں گر کر مر گیا۔ محتسب صاحب نے سو موٹو کی ٹھان لی، نیا نیا شعبہ، نیا عملہ، نئے تجربات، معاشی و انتظامی معاملات ابھی نوزائیدہ، بہرحال کسی نے کہا، "سرکار علاقہ چھاو¿نی ہے جو صوبے میں نہیں‘ فیڈرل کے زیر انتظام ہے، لہذا اجتناب بہتر ہے۔ لیکن جواب ملا "متعلقہ ایس ایچ او کو کہیں انکوائری کرے کہ قصور کس محکمہ کا ہے، اور قتل یا دانستہ نظرانداز کر نے یا کچھ اور جو دفعہ لگتی ہے، وہ دیکھے، " پولیس تو صوبے کی ہے نا؟ " ایک سابق آئی جی سلیم ڈوگر جب ایس ایس پی لاہور تھے تو یہاں ناکوں کا راج آگیا۔ محتسب نے بلاکر ایکٹ آگے رکھ دیا اور کہا ناکے غیر قانونی ہیں۔ اسی طرح کسی پولیس افسر نے کسی مجرم کے ناک میں نکیل ڈال کر اسے سرعام گھمایا، تو پولیس کے خلاف ازخود نوٹس لے لیا۔ نام یاد نہیں، ایک ٹی وی آرٹسٹ بیماری کے سبب بے یارومدگار زندگی اور موت کی کشمکش میں تھی، محتسب نے کہا جب وہ مر جائے گی تو اسے خراج تحسین پیش کئے جائیں گے۔ تعزیتی ریفرنس ہوں گے مگر آج زندہ ہے تو کوئی پرسان حال نہیں، پس میو ہسپتال کے ایم ایس کو آرڈر کیا گیا کہ، گھر جاکر اس کا طبی معائنہ کیا جائے اور علاج معالجے کا اہتمام کیا جائے!
ایک ایسی مثال بھی موجود ہے اور یہ میرے ذاتی مشاہدے میں ہے جس میں پولیس اہلکار کی شنوائی ہوئی۔ غالباً 2005ءکی بات ہے کہ، گوجرانوالہ کے ایک پولیس اہلکار کو، جب وہ سول کپڑوں میں مارننگ واک کر رہاتھا تو کچھ تگڑے خاندان کے نوجوانوں نے فیشن فیشن میں نہ صرف اسے مارا پیٹا اور لوٹا بعد ازاں معطل بھی کرادیا۔ میں نے اس پر کالم لکھا جس پر سپریم کورٹ نے ایکشن لے لیا، اور مجھے ایک عرصہ بعد پتہ چلا کہ، وہ شخص پھر کورٹ کے ایکشن سے بحال بھی ہوگیا۔پاکستان میں عصر حاضر کو ایک دفعہ پھر "جوڈیشل ایکٹوزم" سے منسوب کیا جارہا ہے۔ بحیثیت ڈیموکریٹ مجھے بھی اس سے الرجی ہے۔ مگر وقت کی آواز ہے کہ، جب میری الرجی کی بیماری پر معاشرتی و معاشی پلیٹ فارم کا کینسر جان لیوا حد تک بڑھ چکا ہو تو پھر کیا ہو؟ جب زرخیزیاں کوڑھ کی کاشت کے لئے مس یوز ہورہی ہوں پھر کون ہے جس کے در پر دستک دی جائے؟ مانا کہ قصور ایک شخص کا نہیں، آوے کا آوا بگڑا ہے، تند نہیں تانی بگڑی ہوئی ہے، پھر کہاں سر پیٹا جائے؟ جب وزارت تعلیم ہائر ایجوکیشن کمیشن سے یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تعیناتی تک اقرباپروری اور ایڈہاک ازم سے کام لیں، وزارت صحت تک میں من مانی اور ڈنگ ٹپا¶ مہم ہو، بیوروکریسی پبلک سرونٹ کے بجائے پرائیویٹ سرونٹ بن جائے۔ ریٹائرڈ جنرل بھی حاضر سروس پروٹوکول پائے۔ پی آئی اے، سٹیل مل اور ریلوے جیسے ادارے دس پندرہ سالوں سے وزارتوں اور بابوو¿ں کی توجہ کے محتاج ہوں۔ پولیس مقابلوں کا رجحان ہو، پرائیویٹ ادارے میڈیکل اور دیگر طلبہ کو بلیک میل کریں، جگہ جگہ تقرریوں میں بدعنوانی ہو۔ تحقیق و تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی میں دوسروں کی تحقیقات چوری کرنے کا چلن عام ہو جائے، صحافت میں آلودگی کے عناصر ہوں ، پارلیمنٹ میں حل طلب امور کو قحط الرجال گھسیٹ کر عدالت کی دہلیز تک لے آئے پھر امریکہ جیسا آرٹیکل iii سیکشن 2 کلاز 1 چلے گا کہ، انتظامیہ و مقننہ کی مشاورت سے عدالت ازخود نوٹس لے یا کینیڈا کا ماڈل "نو جوڈیشیل ایکٹوزم " ممکن ہوگا؟ پھر تو ویسے ہی ہوگا جیسے آج بھارت اور بنگلا دیش میں بھی ہورہا ہے! اگر مقننہ اور انتظامیہ نارمل ہوں تو وفاقی و صوبائی محتسب ایسے اداروں کی ضرورت ہی کیا ہے؟
ایک امریکن جج نے کہا تھا " غیر یقینی کی صورتحال کبھی آزادی کی جائے پناہ نہیں ہو سکتی۔" کوئی بتلائے کہ عوام (غیر اشرافیہ) کی پناہ گاہیں کہاں ہیں؟ گھر کی چوکھٹ پر گر عدل ملتا ہو تو کیامدعی تو کیا ملزم، کوئی بھی عدالت کی دہلیز پر نہیں جانا چاہتا!

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...