جسٹس اعجاز الحسن پر حملہ

16 اپریل 2018

امریکی سپریم کورٹ کے جج اسٹیفن برئیر اپنی کتاب ”میکنگ آور ڈیموکریسی ورک“ میں لکھتے ہیں کہ سیاسی کیسز کی سماعت سے عدلیہ متنازع بن جاتی ہے، وہ اس کی وجوہات، مجبوریاں اور ملک کی خاطر سیاسی مقدمات کی سماعت پر تاریخ کے حوالے بھی دیتے ہیں۔ اس کتاب میں اسٹیفن برئیر نے سیاسی معاملات کو عدالتوں میں لانے سے گریز کی نصیحت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کس طرح امریکہ جیسے ملک میں سیاسی مقدمات کی سماعت سے عدلیہ کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ کیوں کہ سیاسی لوگ اپنے اثر ورسوخ کے ذریعے عدالتوں کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں اور دباﺅ میں رکھنا چاہ رہے ہوتے ہیں کہ عدالتوں کی تمام فیصلے ان کی منشاءکے مطابق ہوں، چونکہ عدالتیں عمومی طور فیصلوں کو میرٹ پر کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا نظر آتی ہیں اس لیے انہیں سیاسی کیسز میں جن کے خلاف فیصلہ آ چکا ہو ان کی طرف سے سخت تنقید کا نشانہ بنانا فطری امر بن جاتا ہے۔
گزشتہ رو زسپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے ۔ یہ وہی جج ہیں جنہیں چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے پاناما کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے نگراں جج تعینات کیا ہے۔ وہ شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے خلاف نیب میں دائر ریفرنسز میں پیش رفت کو مانیٹر کر رہے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن 28 جولائی کو وزیراعظم نواز شریف کو نااہل کرنے کا فیصلہ سنانے والے 5 رکنی لارجر بینچ کا بھی حصہ تھے۔جبکہ دو روز سے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بنچ از خود نوٹسز کی سماعت کررہا ہے۔ گزشتہ روز بھی بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کیس میں انصاف کی فوری فراہمی اور روزانہ سماعت کا حکم دیا تھا۔ یہ فائرنگ نامعلوم افراد کی جانب سے دو بار کی گئی ۔ فائرنگ کے واقعات گزشتہ شب دس بجکر 45منٹ اور آج صبح پونے دس بجے پیش آئے۔ تادم تحریر حملے میں ملوث کسی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ۔فرانزک ٹیموں نے دو مرتبہ جسٹس اعجازلاحسن کے گھر کا دورہ کیا اور گولیوں کے سکے و دیگر شواہد اکٹھے کیے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق رات کو فائر کی گئی ایک گولی مرکزی دروازے اور صبح فائر کی گئی دوسری گولی کچن کی کھڑکی پر لگی ہے، فائرنگ نائن ایم ایم پستول سے کی گئی ہے۔صورتحال کی خود نگرانی کرنے چیف جسٹس‘ جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پہنچے، جبکہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے بھی نوٹس لے لیا۔ اور دیگر جسٹس صاحبان کی سیکیورٹی سخت کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔ یہ ایک افسوس ناک واقعہ ہے جس کی کوئی بھی حمایت نہیں کر سکتا۔ فوری طور پر تو کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ حملہ کس نے کروایا ہے، یہ ججز کو ڈرانے دھمکانے کا ہی ایک انداز ہے۔
لیکن عوام کے ذہنوں میں یہ چیز پنپ رہی ہے کہ جو لوگ عدلیہ کو گالیاں دے رہے ہیں، دھمکیاں دے رہے ہیں، ججز کے بچوں کے بارے میں باتیں کرتے ہیں، کیا یہ انہی کا کام تو نہیں؟کیوں کہ جب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل کیا گیا ہے تب سے وہ عدلیہ کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں عدالتِ عظمیٰ پر حملہ کرنے کے بعد اب انصاف کی بحالی کے لیے عدل تحریک بھی چلا رہے ہیں۔ وہ بار بار کسی ”کال“ کی طرف عوام کو اُٹھنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ (ن) لیگ کے کارکنان تیار ہوجائیں ملک بھر میں جلسے جلوس کریں ۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) آئندہ انتخابات میں ووٹ کے تقدس اور عدل کی بحالی کے لیے میدان میں نکلے گی جب کہ کھوکھلے نعرے لگانے والے ہمارے ترقیاتی کاموں کامقابلہ کرکے دکھائیں۔ جب کہ ناقدین اور سیاسی مبصرین کے مطابق عوام موجودہ حکمرانوں کی ترجیحات سے جان چ±کی ہے کہ یہ کام کس کے مفاد میں ہیں۔ ان تمام منصوبوں سے ملک کہاں جائے گا اور مفاد پرست سیاست دانوں کے کاروبار کس قدر ترقی کریں گے۔ چیف جسٹس اس حوالے سے کہہ چکے ہیں کہ عدلیہ پر دباﺅ ڈالنے والا کوئی پیدا نہیں ہوا۔ ایسا ہوتا تو حدیبیہ کا فیصلہ مختلف ہوتا۔ فیصلہ خلاف آنے پر گالیاں مت دیں۔ آئندہ بھی ایمانداری سے فیصلے کرتے رہیں گے۔چیف جسٹس اکثر کہتے ہیں کہ عدلیہ کا ادارہ ایک بزرگ کی طرح ہے۔ اس کی ساکھ پر شک نہ کریں۔ تمام اداروں کی بقا جمہوریت میں ہے۔
آئین میں تمام قوانین کو اسلامی اصول و ضوابط اور پیغمبر عظیم الشان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق رکھنے کی ضمانت دی گئی ہے۔ اگرچہ عملی طور پر بد قسمتی سے حالات بعض صورتوں میں ان اصولوں کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں تاہم اس میں قصور اصول و ضوابط اور رائج قوانین کا نہیں بلکہ ان قوانین پر عمل درآمد میں بعض متعلقہ اداروں کی کوتاہی ہے جس کی جانب خود جناب چیف جسٹس نے بھی اشارہ کرتے ہوئے ایسے اداروں کو اپنی مقررہ حدود میں رہنے کی تلقین بھی کی ہے۔ ہمیں بانی پاکستان حضرت قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کے کردار کو سامنے رکھ کر ان کی جمہوری سوچ اور عدلیہ کی بالا دستی کے اصولوں کو اپنانا ہوگا۔ قائد اعظم نے ساری زندگی قانون اور آئین کی برتری کو تسلیم کرتے ہوئے آزادی کی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کیا تو کیا وجہ کہ ہم اپنے مسائل کو آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ کی صوابدید کے مطابق حل نہیں کرسکتے اور بلا وجہ افراتفری کا ماحول قائم کرکے زور زبردستی اپنی بات منوانا چاہتے ہیں۔ اس سوال پر ہمیں ضرور غور کرنا چاہئے۔
اسلام میں عدلیہ کو آزاد انہ حق کے ساتھ فیصلے کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کی اسلامی حکومت چلاتے ہوئے عدل و انصاف کی بہترین مثالیں قائم کیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ قانون وانصاف سے کوئی بالاتر نہیں ہے۔اگر ایک ہی نوعیت کا جرم کسی ایسے فرد سے ہوتا تو اسے وہی سزا ملتی جو کہ کوئی جرم عام فرد سے سرزد ہونے پر ملتی ہے۔ قانون کی نظر میں خاص و عام کا کوئی امتیاز نہ تھا اسلامی نظام حکومت میں بحثیت امیر مملکت ایک خلیفہ کو قاضی منتخب کرنے کا اختیار حاصل تھالیکن جب ایک شخص کو قاضی منتخب کر دیا جاتا ہے تو اس قاضی کو خلیفہ وقت کے خلاف بھی اگر فیصلہ کرنا پڑتا تو وہ اس میں آزاد تھا بلکہ قاضی کے لیے ضروری تھا کہ خلیفہ وقت اور ایک عام آدمی کے ساتھ برتاو¿ میں برابری کا سلوک روا رکھے۔خلفائے راشدین کے دور میں بھی انھی اصولوں کی بے شمار نظیر ملتی ہیں دراصل اس طرز حکومت کی ایک شکل جمہوریت ہے کہ جس میں آقا اور غلام کا فرق مٹ جاتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے اپنے دور حکومت میں حضرت زید بن ثابتؓ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”زید اس وقت تک قاضی ہونے کے قابل نہیں ہو سکتے جب تک کہ عمر اور ایک عام مسلمان ان کے نزدیک برابر نہ ہو۔یہ وہ وجوہات تھیں کہ جن کی بنا ءپر اسلامی حکمرانوں نے کرسی پر نہیں بلکہ عوام کے دلوں پر حکومت کی۔اگر ان تمام مثالوں کو ذہن میں رکھا جائے تو آج عدلیہ کے سنہرے دور سے ہم گزر رہے ہیں، عدلیہ کٹھن حالات میں مشکل فیصلے کر رہی ہے، اگرچہ عدلیہ کو سیاسی معاملات میں زبردستی گھسیٹا گیا ہے لیکن ہمیں اُن کے فیصلوں کی قدر کرنی چاہیے۔ عدلیہ میرٹ پر فیصلے کر رہی ہے اور کرتی رہے گی، جسٹس اعجاز الاحسن میرٹ پر فیصلے کرنے کی شہرت رکھتے ہیں ، ان کے ہوتے ہوئے اگر ماڈل ٹاﺅن کے شہیدوں کو انصاف مل جائے تو اور کیا چاہیے۔ میرے خیال میں موجودہ حملے سے ان کے کاز کو ہر گز نقصان نہیں پہنچے گا وہ سچے ہیں اور ہمیشہ سچ کا ساتھ دیں گے۔ سعید الظفر صدیقی نے خوب کہا تھا کہ
آج سچ بولتے رہنا ‘آسان نہیں
لوگ تو لوگ ہیں آئینے بھی مکر جاتے ہیں
٭....٭....٭

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...