پیر‘29 رجب المرجب ‘ 1439 ھ ‘ 16 اپریل 2018ء

16 اپریل 2018

قوم پرستوں نے پہلے روس پھر امریکہ کا
ساتھ دیا، فضل الرحمن
کیسے کیسے لوگ ہمارے دل کو جلانے آ جاتے ہیں
اپنے اپنے دل کے فسانے ہمیں سُنانے آ جاتے ہیں
اب مولانا نے بات چھیڑ دی ہے قصہ¿ غم بھی انہیں سُننا ہی پڑے گا۔ جب یہ قوم پرست روس کی واٹکا چڑھا رہے تھے تو اس وقت یہ مذہبی لوگ بھی امریکی حلوے کے جلوے لوٹ رہے تھے۔ ایک طرف ماسکو کا میخانہ تھا تو دوسری طرف واشنگٹن کا مال خانہ۔ ایک لادین اور دوسرے اہل کتاب قرار پائے۔ یوں سیاسی تقسیم ہوئی اور سب نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ کل تک مولانا اور ان کے حامی امریکہ کی مدد سے جہاد اور طالبان کی سرپرستی پر فخر کرتے تھے۔ آج انکاری ہو رہے ہیں۔ ورنہ ان کے واشنگٹن سے یوں رابطے تھے کہ یہ سب واشنگٹن کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے تھے۔ یہ کوئی ماضی کا قصہ نہیں کل کی بات ہے۔ اب امریکہ کومذہبی نہیں لبرل قیادت کی ضرورت ہے۔ تو واشنگٹن نے قوم پرستوں کو گود لے لیا ہے۔ جس سے ظاہر ہے پہلے گروپ کو تکلیف تو ہو گی ہی۔ اب قوم پرست امریکہ کی گڈ بک میں ہیں۔ یوں اس حمام میں سب ننگے ہیں۔
کل کے مجاہد آج باغی اور کل کے سیکولر آج لبرل بن چکے ہیں۔ یہ سب وقت وقت کی بات ہے۔ کل کے دوست آج کے دشمن بن چکے ہیں۔ تو پھر یہ طعنہ زنی کیسی۔ عوام گذشتہ 70 سال سے سب کچھ دیکھ رہے ہیں اب سمجھنے بھی لگے ہیں۔ آج روس افغانستان میں امریکہ کیخلاف میدان میں اُتر جائے تو یہی جماعتیں اس کے شانہ بشانہ ایک نئے جہاد کی تیاری کر رہی ہوں گی....
٭........٭........٭
سعد رفیق کی عدالت میں پیشی اور لوہے کے چنوں کا تذکرہ
اب معلوم نہیں سعد رفیق نے لوہے کے چنے جیب میں رکھے تھے یا نہیں۔ ہو سکتا ہے عدالت کی طرف سے جب انہیں کہا گیا کہ وہ لوہے کے چنے ساتھ لے کر کٹہرے میں آئیں تو کسی صاحب ذوق نے ان کی جیب میں ایک دو مٹھ لوہے کے چنے ویسے ہی ڈال دئیے ہوں جس طرح قدرت نے یکے بعد دیگرے کروڑوں روپے کے انعامی بانڈز قرعہ اندازی میں نکال کر ان کی تجوری بھر دی تھی۔ جس کی بدولت وہ دیکھتے ہی دیکھتے خواجہ سعد رفیق سے سیٹھ سعد رفیق بن گئے۔ اب انعام سمیٹنا اپنی جگہ لوہے کے چنے چبانا اپنی جگہ۔ عدالت میں ریلوے کے خواجہ نے نہایت ادب سے کہا کہ یہ الفاظ انہوں نے عدالت کے لیے نہیں مخالفین کے لیے کہے تھے۔ معلوم نہیں عدالت نے ان کے اس بیان پر یقین کیا یا نہیں۔ مگر لگتا ہے عدالت میں گزرے یہ چند لمحات خواجہ صاحب پر کافی بھاری (گراں) گزرے ہیں جبھی تو عدالت سے قبل فراٹے بھرتی ان کی شوخ گفتاری عدالت سے نکلنے کے بعد پسنجر ٹرین کا روپ دھار چکی تھی۔ کہاں چھک چھکا چھک اور کہاں چھک چھک چھک۔ عدالت نے ریلوے کے 60 ارب کے خسارے کے بارے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔ جس کے بعد پتہ چلے گا کہ ریلوے میں جو ترقی کے بلندبانگ دعوے کیے جاتے رہے ہیں ان میں حقیقت کتنی تھی مگر ہمیں ترقی سے انکار نہیں ہے تاہم یہ بات بھی سچ ہے کہ بلور صاحب کے ہاتھ ریلوے کی بربادی کی داستان سُننے اور دیکھنے والے یہ ضرور کہہ رہے ہیں کہ خواجہ صاحب نے ریلوے کو انتہائی نگہداشت وارڈ سے نکال کر جنرل وارڈ تک ضرور پہنچایا ہے....
محکمہ پولیس کا لاہور میں پرانا چوکیداری
نظام بحال کرنے کا فیصلہ
دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ لاہور پولیس نے چوریوں ، ڈکیتیوں ، لوٹ مار پر قابو پانے میں ناکامی پر یا اپنے ہی اہلکاروں کی اس کاروبار میں شرکت سے تنگ آ کر پرانے چوکیداری نظام کی بحالی کا فیصلہ کر لیا تاکہ جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پایا جا سکے۔ یہ چوکیداری نظام اب لاہور پولیس کے نزدیک وہ مجرب نسخہ ہے جو کرائم پرقابو پانے میں مدد دے سکتا ہے۔ مگر شاید لاہور پولیس بھول رہی ہے کہ اس پرانے نظام کے بارے میں مشہور ہے کہ چوکیدار رات کو گشت کرتے ہوئے کہہ رہا ہوتا ہے کہ ”جاگتے رہنا میرے تے نہ رہنا“ سکیورٹی گارڈ حالیہ دور کی پیداوار ہیں نت نئی وردی پہن کر سکیورٹی گارڈ مہیاکرنے والی کمپنیوں نے اچھے لوگوں کے ساتھ ساتھ کم تنخواہ پر لاتعداد جرائم پیشہ افراد بھی بھرتی کر لئے جس کی وجہ سے یہی سکیورٹی گارڈ اب خود رسک بن گئے ہیں۔ گھروں ، بنکوں اور دکانوں میں چوری ڈکیتی کے علاوہ بے گناہ شہریوں پر فائرنگ اور ان کے قتل تک کی وارداتوں میں بھی یہ لوگ ملوث نظر آتے ہیں۔
اب پہلے جیسے ایماندار چوکیدار کہاں ملیں گے جن پر فسانے لکھے گئے اور فلمیں بھی بنائی گئیں۔ اب دیکھنا ہے، محکمہ پولیس کہاں سے چن چن کر اصلی چوکیدار لائے گا۔ ان کی تنخواہوں کا ذمہ دار کون ہو گا کیا ان کی تنخواہ بھی عوام کے سر پڑے گی۔ عوام کے جان و مال کی حفاظت پولیس کی ذمہ داری ہے۔ جو کام پولیس والے جدید اسلحہ اٹھائے نہ کر سکے وہ کام خالی ڈنڈا اُٹھائے اکلوتا چوکیدار کیسے کر سکتا ہے....
٭........٭........٭
لاہور میں قدم بڑھاﺅ نواز شریف ہم
تمہارے ساتھ ہیں کے بینرز
یہ بے موسمی بینروں کی بہار عام طور پر وہ لوگ لاتے ہیں جو کُھل کر تو سامنے آ سکتے نہیں کچھ کر سکتے نہیں، بس پوسٹر اور بینرز لگا کر اپنی سعادت مندی ظاہر کرتے ہیں۔ میاں صاحب پہلے نااہل قرار پائے پھر تاحیات ہو گئے مگر ان دونوں فیصلوں کے روز پورے ملک میں یہ بینرز لگانے والے اگر ہزار ہزار لوگ لے کر ہی سڑکوں پر آتے تو دنیا کو معلوم ہوتا کہ میاں صاحب کے متوالے جوش میں ہیں۔ اگر لبیک تحریک والے 3 یا 4 سو افراد کا مجمع لے کر لاہور میں ٹریفک جام کر سکتے ہیں تو یہ پورے پاکستان میں مسلم لیگی ممبران اسمبلی کیا یہ صرف دودھ پینے والے مجنوں ہیں جو انگوٹھے چُوس کر سو رہے ہیں۔ یہ ”قدم بڑھاﺅ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں“ والے بینرز میاں صاحب پہلے بھی تین بار بھی دیکھ چکے ہیں۔ اب اُمید ہے چوتھی بار وہ اس جھانسے میں نہیں آئیں گے کیوں کہ انہی قدم بڑھاﺅ کے نعرے لگانے والوں نے آج انہیں یہاں تک پہنچایا ہے۔ یہ لوگ میاں صاحب کو سیاسی شہید بنا کر اپنے ووٹ کھرے کرنا چاہتے ہیں۔ ورنہ اگر میاں صاحب قدم بڑھا کر باہر نکلے تو ہمیشہ کی طرح سوائے چند ایک کے باقی سارے گھروں میں آرام کر رہے ہوں گے اور میاں صاحب کو ایک بار پھر کہنا پڑے گا کہ جب میں نے قدم بڑھایا اور پلٹ کر دیکھا تو پیچھے ایک بھی کھڑا نظر نہ آیا۔ بہرحال الیکشن سے قبل اس قسم کے بینرز اور پوسٹر کی بہار آ رہی ہے یہ سب ووٹروں کو لبھانے اور قائدین کو خوش کرنے کی کوشش ہوتی ہے....
٭........٭........٭

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...