عملِ تطہیر

16 اپریل 2018

٭ امیر المومنین حضرت عثما ن بن عفان رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ پانی منگوایا،وضوفرمایااورپھر ہنس پڑے ، اپنے ساتھیوں سے پوچھا : کیا تم مجھ سے پوچھو گے نہیں کہ مجھے کس بات نے ہنسایا ہے ۔ آپ کے رفقاءنے پوچھا :اے امیر المومنین آپ کو کس امر نے مسکرانے پر مجبورکیا ، آپ نے فرمایا:میںنے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اسی طرح وضو فرمایااورپھر تبسم کنا ں ہوگئے اورہم سے استفسار فرمایا:کیا تم پوچھو گے نہیں کہ مجھے کس بات نے ہنسایا ہے۔آپ کے صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ !آپ کو کس چیز نے ہنسایا ؟آپ نے ارشادفرمایا:بے شک جب بندہ وضو کے پانی منگواتا ہے پھر اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی وہ تمام خطائیں معاف فرمادیتا ہے جس کا ارتکاب اس نے اپنے چہرے سے کیا ہوتا ہے (یعنی منہ ، آنکھ اورکان کے گناہ )۔جب اپنے بازو دھوتا ہے تو بھی ایسا ہی ہوتا ہے اورجب اپنے پاﺅں دھوتا ہے پھر بھی ایسا ہی (فضل )ہوتا ہے ۔(مسند امام احمد بن حنبل)
٭ حضرت حمران رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ایک سرد رات میں نماز کے لیے باہر جانا چاہتے تھے آپ نے وضو کے لیے پانی منگوایا ، میں پانی لے کر حاضر ہوا آپ نے وضوفرمایا،تو میںنے عرض کیا:اللہ آپ کے لیے کافی ہورات تو شدید سرد ہے آپ نے فرمایا:میںنے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے ”کہ کوئی بندہ مکمل وضو نہیں کرتا مگر اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرمادیتا ہے “۔(بزار)
٭ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:بلاشبہ اگر بندے میں کوئی نیک خصلت ہوتو اللہ تعالیٰ اس کے صدقے سے اس کے تمام اعمال کی اصلاح فرمادیتا ہے۔جب انسان نماز کے لیے وضو کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرمادیتا ہے اورنماز اس کے ثواب میں اضافہ کے لیے باقی رہتی ہے ۔ (ابویعلیٰ، بزار،طبرانی)
٭ حضرت ابواما مہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر میںنے اس حدیث پاک کو جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے سات مرتبہ نہ سنا ہوتا تو میںاسے بیان نہ کرتا ،آپ نے ارشادفرمایا :جب انسان اس طرح وضوکرتا ہے کہ جس طرح کہ اس کو حکم دیا گیا ہے تو گناہ اس کے کانوں ،آنکھوں ، ہاتھوں اورپاﺅں سے دور ہوجاتا ہے۔(طبرانی)
٭ حضرت عقبہ بن عامررضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا”کوئی ایسا مسلمان نہیں جو وضو کرے توکامل وضوکرے،جو نماز کے لیے کھڑا ہو توجو پڑھتا ہے اسے جانتا ہو(یعنی ہمہ تن متوجہ ہو)مگر وہ گناہوں سے ایسے نکل جاتا ہے جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو۔(مسلم، ابوداﺅد،ابن ماجہ،نسائی)