آرمی چیف کا بھارت پر کشمیر سمیت تمام تنازعات مذاکرات سے حل کرنے پر زور

16 اپریل 2018

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز ملٹری اکیڈمی کاکول میں پی ایم اے کے 137 ویں لانگ کورس 8 ویں مجاہد کورس اور 56 ویں انٹیگریٹڈ کورس کی پاسنگ آﺅٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری جاگے اور برصغیر کے بدقسمت حصے میں امن کے لئے کردار ادا کرے۔ پاکستان کشمیر سمیت تمام تنازعات کا حل مذاکرات اور بھارت سے برابری کی سطح پر بات چیت کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو قوم کی مکمل حمایت حاصل ہے، آرمی چیف نے کہا کہ ہماری بہادر افواج کسی بھی خطرے کا منہ توڑ جواب کے لئے مکمل تیار ہیں۔ تاہم پاکستان امن پسند ملک ہے اور تمام ممالک بالخصوص اپنے ہمسایوں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی اور ہم آہنگی کا خواہاں ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مقبوضہ کشمیر کو بجا طور پر ”بدقسمت حصہ“ کہاہے کہ کشمیریوں کے ساتھ تاریخ کا سب سے سنگین دھوکہ ہوا ۔ تقسیم کے فارمولے کے تحت اُنہیںاپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کا اختیار حاصل تھا‘ جسے بھارت نے کشمیر کے ڈوگرہ حکمران راجہ ہری سنگھ سے ساز باز کرکے سلب کرلیا‘ جس پر کشمیری اُٹھ کھڑے ہوئے تو بھارت اس مسئلہ کو سلامتی کونسل لے گیا‘ جہاں بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو استصواب رائے کے ذریعے اپنی قسمت کا خود فیصلہ کرنے کا حق دینے کا وعدہ کیا لیکن پھر مُکر گیا۔ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام تنازعات کی جڑ ہے۔ پاکستان نے اس مسئلے کے پرامن حل کے لئے بھارت کو بارہامذاکرات کی پیشکش کی ہے جنہیں بھارت نے ہمیشہ ٹھکرا دیا۔بھارت آرمی چیف کے اس مشورے کو قبول کرتے ہوئے خطے کا امن خطرے میں نہ ڈالے۔ کشیدگی یا لڑائی میں تباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔کشمیریوں کو جلد یا بدیر حق خودارادیت دینا ہی پڑے گا۔ آرمی چیف کا مشورہ پوری پاکستانی قوم کی آواز ہے، فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں۔اگر اس بارے میں اُسے کوئی غلط فہمی ہے تو اُسے دور کرلینا چاہئے۔ گزشتہ روز وزیراعظم اور آرمی چیف کا ایک ساتھ سعودی عرب کا دورہ اس کا بین ثبوت ہے۔ اگر بھارت کی ہٹ دھرمی جاری رہی تو پاکستان کو تنازع کشمیر کے پرامن حل کے لئے بین الاقوامی برادری اور عالمی اداروں سے رجوع کرنا پڑے گا‘ پاکستان بے گناہ اور نہتے کشمیریوں کی مزید خونریزی برداشت نہیں کرسکتا۔