سسلین مافیا کے ہتھکنڈے قبول نہیں عمران : عدالتی تحقیقات کرائی جائے : زرداری

16 اپریل 2018

لاہور‘اسلام آباد (خبرنگار‘خصوصی نامہ نگار‘ایجنسیاں) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ پر دباو¿ ڈالنے کے لیے سسلین مافیا کے ہتھکنڈے جمہوری دور میں ناقابل قبول ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف عدلیہ اور قانون کی حکمرانی کے ساتھ ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ججز کو دھمکانہ ناقابل معافی عمل ہے،فائرنگ کی آزاد تحقیقات کرائی جائے اور ملزمان کو گرفتار کرکے بے نقاب اور سخت سزا دی جائے۔ سابق صدر اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجازالاحسن کی رہائشگاہ پر فائرنگ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کی اعلیٰ عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی جسٹس اعجاز الحسن کی رہائشگاہ پر فائرنگ کی شدید مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں بلاول بھٹو نے کہا ججز کو دھمکانہ ناقابل معافی عمل ہے۔ شہید بھٹو کا عدالتی قتل کئے جانے کے باوجود پی پی پی عدالتوں کا احترام کرتی ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھاکہ اتنی بڑی ناانصافی کے باوجود پیپلز پارٹی کی جانب سے عدلیہ پر ایک پتھر بھی نہیں پھینکا گیا۔ قائد حزب اختلاف سینٹ سینیٹر شیری رحمان‘ سینیٹر رحمان ملک‘ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے بھی واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر حملہ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس پر دلی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے عدلیہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج پوری قوم آئین و قانون کی بالادستی کیلئے عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ واقعہ انتہائی شرمناک اور لاقانونیت کا مظہر ہے یہ حملہ آئینی ادارے سپریم کورٹ پرہے، واقعہ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ فائرنگ میں کون ملوث ہو سکتے ہیں، معمولی سی تفتیش سے یہ راز کھل جائے گا۔ امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ جسٹس اعجاز الحسن کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ قابل مذمت ہے۔ اسے اداروں سے تصادم یا سیاسی عداوت سے تعبیر کرنے کی بجائے شواہد کا انتظار کیا جائے۔ ملک کسی بھی قسم کے فتنے یا تصادم کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ بعض قوتیں جلتی پر تیل چھڑک رہی ہیں۔ انجینئرڈ الیکشن اور کنٹرولڈ ڈیموکریسی کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ اس امر کا اظہار انہوں نے جامعہ محمد یہ جی ٹی روڈ میں آل پاکستان اہل حدیث کانفرنس کی کامیابی کی خوشی میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائشگاہ پر فائرنگ کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کو فی الفور گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
سیاستدان/ ردعمل