وزیراعظم نوازشریف نے کسانوں کے لیے تین سو اکتالیس ارب کے زرعی پیکج کا اعلان کردیا

15 ستمبر 2015 (16:42)


کنونشن سینٹر میں تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ کسانوں کے لیے ریلیف پیکج کے چار حصے ہیں۔ پیکج کا پہلا حصہ کسانوں کو براہ راست مالی تعاون کی فراہمی ،دوسرا پیداواری لاگت کو کم کرنے،تیسرا کسانوں کو زرعی قرضوں کی فراہمی اور چوتھا حصہ کسانوں کے لئے قرضے کے حصول کو آسان بنانے پرمشتمل ہے۔ انکا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں سے تعاون کرے گی۔ چھوٹے کسانوں کو پانچ ہزار روپے فی ایکڑ ریلیف دیا جائے گا۔ ساڑھے بارہ ایکڑ رقبہ رکھنے والے چھوٹے کسانوں کو پانچ ہزار روپے فی ایکڑ نقد دیے جائینگے۔ کھاد کی قیمتیں کم کرنے کے لیے بیس ارب روپے کا فنڈ قائم کررہے ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ ساڑھے بارہ ایکڑسے کم زمین رکھنے والے کسانوں کو بلاسود قرضے دیے جائینگے۔ فصلوں کی انشورنس کا پریمیئم حکومت ادا کرے گی۔ ٹیوب ویلوں کی بجلی کے لیے سات ارب روپے کی رعایت دیں گے۔ ٹیوب ویل شمسی توانائی پرمنتقل کرنے کیلئے بلاسود قرضے دیے جائیں گے۔

وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے کسانوں کیلئے تین سو اکتالیس ارب کے زرعی پیکج کا اعلان کیا گیا ہے۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ زرعی ٹرن اورٹیکس ختم کیا جارہا ہے۔ کسانوں کو تین سال کے لیے انکم ٹیکس پرچھوٹ ہوگی۔ زرعی قرضوں کے مارک اپ ریٹ پردو فیصد کمی کی جائے گی۔ حلال گوشت کے پیداواری یونٹ کیلئے چار سال کی انکم ٹیکس چھوٹ دی جائے گی۔ زرعی اجناس، پھلوں کی درآمد پرتین سال کیلئے انکم ٹیکس میں چھوٹ دی جائے گی۔ کولڈ چین کیلئے مشینری کی خریداری پرسیلزٹیکس سترہ فیصد سےکم کرکے سات فیصد کردیا گیا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ حکومتی اقدامات سے چھوٹے کسانوں کو ایک سوسینتالیس ارب روپے کا فائدہ ہوگا.

نواز شریف نے مخالفین پر بھی تنقید کے نشتر برسائے۔کہا کہ مخالفین تنقید کرنے کا بہانہ تلاش کرتے ہیں ۔دہشتگردی کیخلاف جنگ اور کراچی آپریشن پہلے کیوں نہیں شروع کیا گیا۔ تمام بڑے منصوبے مسلم لیگ نون نے شروع کیے۔یہ منصوبے پہلے کیوں نہیں لگائے گئے۔کچھ لوگ چاہتے ہیں نواز شریف چلیں جائیں اور وہ خود اقتدار میں آجائیں ۔حکومت پیسہ بنانے نہیں آئی بلکہ جیب سے پیسہ لگاتی ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ قوم کو مصیبتوں سے نکالنے کیلئے دن رات محنت کررہے ہیں ۔ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔حکومت نے تمام برائیوں کو ٹھیک کرنے کا عزم کر رکھا ہے