سینٹ: سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس‘ فیصلوں پر نظرثانی کیلئے قانون سازی کے حق میں متفقہ قرارداد

15 ستمبر 2015
سینٹ: سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس‘ فیصلوں پر نظرثانی کیلئے قانون سازی کے حق میں متفقہ قرارداد

اسلام آباد (وقائع نگار+ نیوز ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ+ بی بی سی) سینٹ کے اجلاس میں گزشتہ روز سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے فیصلوں پر نظرثانی کیلئے قانون کے حق میں پیش کی جانے والی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ہے۔ اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حکومت آئینِ پاکستان کی دفعہ 184 کی شق نمبر تین، جس کے تحت سپریم کورٹ از خود نوٹس لیتی ہے پر نظرثانی کے لیے مناسب قانون سازی کرے۔ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے مختلف معاملات پر لیے جانے والے ازخود نوٹس کے فیصلوں پر قانون سازی کے لیے کوئی قرارداد منظور کی گئی ہے۔ یہ قرارداد پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے پیش کی اور حکومت کی جانب سے اس کی مخالفت نہیں کی گئی۔ فرحت اللہ بابر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس قرارداد کی منظوری کو ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ حکومت اس ضمن میں مناسب قانون سازی کرے گی تاکہ ازخود نوٹس کے طریقہ کار کے عمل کو مربوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سپریم کورٹ کی جانب سے لیے گئے ازخود نوٹس کی وجہ سے لوگوں کو ریلیف ملا لیکن اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اس سے عدلیہ کو وسیع اختیار دے دیا گیا۔ علاوہ ازیں سینٹ کے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ کرپشن کے خلاف کارروائی بلا امتیاز نہیں ہے، کسی ایک صوبے اور پارٹی کو ٹارگٹ نہ کیا جائے، اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ اگر پیپلز پارٹی میں دس سے پندرہ فیصد لوگ برے ہیں تو دوسری جماعتوں میں بھی فرشتے نہیں بیٹھے‘ یہ رویہ جاری رہا تو ہم کرپشن کے خلاف جنگ جیت سکیں گے نہ ہی دہشت گردی کے خلاف۔ جبکہ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے کہا کہ کرپشن اور دہشت گردی نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کیا، کرپشن کرنے والوں کو ہمیں مل کر کیفرکردار تک پہنچانا ہے۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران فرحت اللہ بابر نے عوامی اہمیت کے معاملہ پر کہا کہ کرپشن کے ایشوز سے نمٹنے کے لئے دہشت گردی کے الزامات کا سہارا لینا افسوسناک اور خطرناک معاملہ ہے۔ صاف پتہ چل رہا ہے کہ کرپشن کے خلاف کارروائی بلا امتیاز نہیں ہے‘ عسکری اداروں کی ہم عزت کرتے ہیں اور کرپشن کے بھی خلاف ہیں لیکن این ایل سی کے کیس میں کیا کیا گیا۔ سینیٹر سعید غنی نے کہا کہ آئین اور قانون کی خلاف ورزی پر بات کرنا اور آواز اٹھانا ایوان کے ہر رکن کی ذمہ داری ہے۔ ایف آئی اے وفاق کا ادارہ ہے اور سندھ میں جاکر مداخلت کرتا ہے۔ اگر پیپلز پارٹی میں دس سے پندرہ فیصد لوگ برے ہیں تو دوسری جماعتوں میں بھی فرشتے نہیں بیٹھے۔ تحریک انصاف کے رکن سینیٹر نعمان وزیر نے اس موقع پر کہا کہ آرمی کی مداخلت کی وجہ سے ہمیں آج غلط دکھائی دے رہا ہے۔ سینیٹر اعتزاز ہوں یا سعید غنی کیا وہ کسی کرپٹ شخص یا کریمنل کی حمایت کرتے ہیں۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ کراچی آپریشن کرنے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں اس سے کراچی میں امن آیا ہے‘ کراچی میں حالات بہتر ہوئے ہیں‘ نندی پور کے منصوبے میں بھی دال میں کچھ کالا ہے۔ بلا امتیاز احتساب ہونا چاہئے۔ سینیٹر اعتزاز احسن ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری پر پھٹ پڑے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ ایک معالج پر دہشت گردی کا الزام لگایا گیا۔ حکومت کا رویہ متعصبانہ ہے۔ حکومت یا جمہوریت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ نندی پور منصوبے پر اضافی لاگت لگائی گئی۔ پیپلزپارٹی کرپشن کی حمایت نہیں کرتی لیکن حقیقت میں ایک صوبے کے اندر ایک پارٹی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ہم 1990ء کی سیاست کو نہیں دہرانا چاہتے لیکن مجبور کیا تو ہم بھی نندی پور پراجیکٹ میٹرو بس اصغر خان کیس سمیت دیگر اہم کیسز پر عوام کے ساتھ سڑکوں پر نکلیں گے۔ مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے سینیٹر نے کہا ہے کہ کرپشن اور دہشت گردی نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کیا‘ ایپکس کمیٹیاں سب کے اتفاق رائے سے بنی تھیں‘ کراچی آپریشن کسی فرد‘ رہنما یا جماعت کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف ہے‘ دہشتگردوں اور مجرموں کی مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ سینیٹر چودھری تنویر نے کہا کہ کرپشن اور دہشت گردی نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کیا ہے‘ ہم نے 12 مئی کے بعد بھی کسی خاص جماعت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ نہیں کیا تھا بلکہ عسکری ونگز کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ جس بھی جماعت کے اندر کالی بھیڑیں ہیں ان کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔ پہلی دفعہ جرنیلوں پر بھی ہاتھ ڈالا گیا ہے جو کرپشن میں ملوث تھے۔ نندی پور کے منصوبے میں کرپشن کی تحقیقات کے لئے وزیراعظم نے کمیشن بنا دیا ہے۔ میٹرو بس منصوبے پر عوام کی رائے معلوم کرلی جائے یہ غریبوں کی فلاح کا منصوبہ ہے۔ سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا کہ ہمیں ملک کو پرامن طور پر آگے لے کر جانا ہے۔ ایپکس کمیٹیاں سب کے اتفاق رائے سے بنی تھیں۔ کرپشن کرنے والوں کو ہمیں مل کر کیفر کردار تک پہنچانا ہے۔ سینیٹر نہال ہاشمی نے کہا کہ اس ایوان میں سب صوبے برابر ہیں‘ سب کی نمائندگی برابر ہے۔ اس لئے یہاں چھوٹے بڑے صوبے کی تفریق نہیں کرنی چاہئے۔ ق لیگ کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ شام کے پناہ گزینوں کے لئے یورپی یونین اور جنرل اسمبلی میں آواز بلند کی جائے‘ رنگ نسل اور مذہب کی بنیاد پر یورپ کے دوہرے معیارات سامنے آرہے ہیں۔ چیئرمین سینٹ سینیٹر میاں رضا ربانی نے فاٹا کی موجودہ حیثیت اور فاٹا کے عوام کی مرضی کے مطابق اس حیثیت میں تبدیلی کے معاملے پر بحث اور اس معاملے کا جائزہ لینے کیلئے پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیدی۔ سینیٹر جاوید عباسی نے تحریک پیش کی کہ یہ ایوان فاٹا کی موجودہ حیثیت اور ان علاقوں کے لوگوں کی مرضی کے مطابق اس حیثیت میں تبدیلی کیلئے بحث کرے۔ وزیر مملکت برائے پٹرولیم جام کمال نے کہا ہے کہ تربیلا ڈیم کی سکیورٹی کیلئے تربیلا ڈیم کی سیکیورٹی کے لئے بہتر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس معاملہ کو سنجیدہ لیا جائے۔ سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ تربیلا ڈیم ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ سکیورٹی ادارے اور وزارت داخلہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔ سینیٹر عبدالقیوم نے کہا کہ ڈیم کی حفاظت کے لئے آرمی نے رینجرز کا ایک ونگ بھی تعینات کر رکھا ہے۔ یہ ہمارا سٹریٹجک اثاثہ ہے۔ اس کی حفاظت اور سیکیورٹی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ تربیلا ڈیم کے متاثرین کو آج تک پیسے نہیں ملے۔ وہ کراچی میں پڑے ہوئے ہیں۔ تربیلا کو منگلا کی طرح اپ گریڈ کیا جائے۔ علاوہ ازیں پاکستان ماحولیاتی تحفظ ترمیمی بل 2015 ء متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔ بعدازاں اجلاس آج شام 3 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔