جنگ ستمبر: چونڈہ بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنا‘ ہزاروں فوجی جہنم واصل ہوئے: رحمت اللہ بٹ

15 ستمبر 2015

بڈیانہ (صاحبزادہ واصف ظہور بڈیانوی سے) چونڈہ بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بن گیا۔ پاک فوج کے نوجوانوں کے ہاتھوں ہزاروں بھارتی فوجی واصل جہنم ہوئے۔ حاجی رحمت اللہ بٹ نے بتایا کہ فیلڈ مارشل صدر محمد ایوب خان کی جذبہ سے بھرپور تاریخی تقریر جس میں انہوں نے کہا ’’میرے عزیز ہم وطنو ہمارے مسلمانوں کیلئے اب امتحان کا وقت آ چکا ہے‘‘ چونڈہ کے مین بازار میں دکانداروں کے ساتھ شہر میں تمام رضاکار تیار ہو کر باہر آ گئے۔ اس وقت بارڈر چارواہ گائوں تک گولے آ رہے تھے ہم لوگ پھلورہ گائوں اور چوبارہ گائوں تک جا سکے آگے جانا مشکل ہو گیا۔ پاک فوج کے جوانوں نے روک کر واپس جانے کیلئے کہا رات بھر چونڈہ کے چاروں اطراف آگ برستی رہی لیکن حوصلے بلند رہے۔ نوائے وقت سے گفتگو میں انہوں نے کہا چونڈہ میں بھارتی فوج کا ایک جاسوس تھا جو بھارتی فوج کو گولہ باری کے بارے میں اطلاع دیتا تھا 7 ستمبر 1965ء کو رات کی تاریکی میں جاسوس کی ہدایت پر 600 بھارتی ٹینکوں نے چونڈہ محاذ پر حملہ کردیا وہ پھلورہ، خانیوانی الہڑ چونڈہ کا درمیانی راستہ اختیار کرکے بڈیانہ تک پہنچ چکا تھا کہ ادھر ہماری پاک فوج نے جوابی حملہ کرکے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور حملہ کو پسپا کر دیا اور بھارتی افواج بھاگنے پر مجبور ہو گئی۔ ادھر ہمارے فضائی حملے نے چونڈہ کے بھارتی جاسوس کو مار ڈالا جس سے نقشہ تبدیل ہو گیا محمد سعید بٹ اور صوفی عابد حسین، محمد رفیع باجوہ نے بتایا کہ بھارتی فوج کی گولہ بھاری اور بھارتی فضائیہ کے جہازوں گولہ باری نے چونڈہ میں کئی حملے کئے لیکن چونڈہ ایک شہدا کے خون کی بستی کا شہر ہے بالکل محفوظ رہا گولہ باری چونڈہ سے دومیل فاصلہ پر ہوتی رہی اب چونڈہ شہداء کے خون کے علاوہ بھارتی فوجوں کا قبرستان بھی ہے پاک فوج نے بھارتی فوج کے چار ٹینک اصلی حالت میں بھی پکڑ لئے جو آج بھی چونڈہ اور پھلورہ میں یادگار کے طور پر نصب ہیں۔ حاجی رحمت اللہ نے بتایا کہ اللہ کے فضل و کرم سے بھارت اب کبھی بھی حملے کی جرأت نہیں کریگا۔ حاجی رحمت اللہ بٹ نے بتایا کہ چونڈہ شہدا یادگار میں پاک افواج کے شہداء کی یاد مزید آئندہ نسلوں کے لئے ایک میوزیم ہال تعمیر ہونا ضروری ہے جس میں شہدا کے فوٹو اور کارنامے آویزاں ہونے چاہئے بلکہ پانی کے لئے ٹربائن ٹیوب ویل چالو کرکے پانی کی کمی یادگار میں دور کی جائے۔ انہوں نے کہا میجر ضیاء الدین عباسی شہید کی یادگار تک پھلورہ روڈ سے پکی پختہ سڑک بھی تعمیر ہونا ضروری ہے۔ بھارتی فوج کا الہڑ ریلوے سٹیشن پر قبضہ ضرور تھا لیکن چونڈہ میں قبضہ بالکل نہیں ہوا صرف گھنٹے بھر کے لئے بھارتی فوج چونڈہ ضرور داخل ہوئی لیکن ہماری پاک فوج کے جوانوں نے جوابی حملہ کرکے واپس جانے پر مجبور کردیا صرف ریلوے سٹیشن چونڈہ اسسٹنٹ سٹیشن ماسٹر محمد اعظم خان کا کوارٹر کے صندوق ضرور لے گئے جو بھارت نے جالندھر سے اعلان کیا تھا قبضہ کرنے میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ چونڈہ کے مشہور مذہبی رہنما حافظ رانا سرفراز احمد جو ایک مدرسہ کے مہتمم بھی ہیں نے بتایا کہ 6 ستمبر اپنے مدرسہ پسرور روڈ پر رات کو بچوں کو حفظ قرآن کی تعلیم میں مشغول تھا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے چونڈہ میں ہر طرف سے آگ ہی آگ برستی دیکھی تو بڑی بڑی گرج کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی لیکن چونڈہ میں کوئی گولہ اور فضائی حملوں کی گولیاں نظر آتی تھیں لیکن وہ آسمان میں نظر آ رہی تھیں زمین پر بالکل گرتی نظر نہیں آئی دن کو دیکھا تو شہر بالکل پرسکون تھا۔ چونڈہ بزرگوں اور شہداء کی بستی کا شہر ہے۔