یہ واردات جنوبی پنجاب میں اپریشن کی اطلاعات پر قاتلانہ وارننگ ہو سکتی ہے

15 ستمبر 2015

ملتان کے گنجان آباد علاقے میں خودکش دھماکے سے دس قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع

ملتان میں وہاڑی چوک پر دھماکے میں اتوار کی شام دس افراد جاں بحق اور 57 زخمی ہو گئے۔ سکیورٹی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ خودکش تھا اور اس قدر شدید تھا کہ اس سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور دور دور تک آواز سنائی دی۔ سی پی او ملتان کے مطابق اس دھماکے کی تحقیقات جاری ہے اس لئے اسکے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ جہاں دھماکہ ہوا وہ نہایت گنجان آباد علاقہ ہے جہاں دھماکے کے وقت بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ ڈی سی او ملتان نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ یہ دھماکہ بارودی مواد پھٹنے سے ہی ہوا ہے۔ جائے وقوعہ سے دو مشکوک نعشیں قبضہ میں لے لی گئی ہیں۔ عینی شاہدین کے بقول موٹر سائیکل پر سوار ایک نامعلوم شخص مظفرگڑھ روڈ پر مخالف سمت سے وہاڑی چوک آیا اور راستے سے گزرنے والے رکشہ سے موٹر سائیکل ٹکرا دی جس سے زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکے سے ایک کار‘ چار رکشے اور قریبی دکانیں تباہ ہو گئیں جبکہ علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ جائے وقوعہ پر زخمیوں کی چیخ و پکار سے قیامت صغریٰ کا منظر محسوس ہوتا تھا۔ دوسری جانب سکیورٹی ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور بس سے اترا تھا اور اس کا ہدف کوئی اور تھا تاہم خودکش جیکٹ میں خرابی کے باعث وہیں پر پھٹ گیا۔ وزیراعظم میاں نوازشریف‘ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف‘ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور متعدد جماعتوں کے قائدین نے اس دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی وارداتوں سے دہشت گردوں کی سرکوبی کے عزائم میں کوئی دراڑ پیدا نہیں کی جا سکتی۔ پنجاب حکومت نے دھماکے میں جاں بحق ہونیوالوں کے لواحقین کیلئے پانچ پانچ لاکھ اور زخمیوں کیلئے 25 ہزار فی کس امداد کا اعلان کیا ہے۔
اس وقت جبکہ دہشت گردی کی جنگ میں سکیورٹی فورسز کو نمایاں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں اور حکومتی و عسکری قیادتوں نے باہمی مشاورت سے دہشت گردوں کو نکیل ڈالنے کیلئے ملک کے کسی بھی حصے میں موجود انکے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کی حکمت عملی طے کی ہے جس کے تحت اپریشن ضرب عضب کا اگلا مرحلہ جنوبی پنجاب میں شروع ہونے کا عندیہ مل رہا ہے‘ ملتان میں خودکش حملہ کی یہ واردات دہشت گردوں کی جانب سے یہ پیغام بھی ہو سکتا ہے کہ اپریشن ضرب عضب کا رخ جنوبی پنجاب کی جانب نہ کیا جائے‘ بصورت دیگر سکیورٹی فورسز کو دہشت گردوں کی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑیگا۔ اگر تو بادی النظر میں دہشت گردوں کا مقصد حکومت اور سکیورٹی فورسز کو یہی پیغام دینا ہے تو اس پر مرعوب ہونے یا ماضی جیسی کوئی مفاہمت کی پالیسی اختیار کرنے کے بجائے حکومت اور سکیورٹی قیادتوں کو پہلے سے بھی زیادہ یکسوئی کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمہ کے متعینہ اہداف پر اپریشن کو ہر صورت کامیاب بنانے کی ٹھوس حکمت عملی طے کرنی چاہیے اور اپنی صفوں میں کسی قسم کی کمزوری کا تاثر پیدا نہیں ہونے دینا چاہیے کیونکہ اس مرحلہ پر سکیورٹی اداروں میں کسی کمزوری کے تاثر سے دہشت گردی کے ذریعے ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے درپے عناصر کو فائدہ اٹھانے اور اپنے مقاصد پورے کرنے کا نادر موقع مل جائیگا۔
بلاشبہ ہماری سکیورٹی فورسز نے ایک سال سے زائد عرصے سے جاری اپریشن ضرب عضب اور کراچی میں گزشتہ دو سال سے جاری رینجرز کے ٹارگٹڈ اپریشن میں نمایاں کامیابیوں کی سرخروئی حاصل کی ہے جس کے پیش نظر عسکری قیادتوں کے دہشتگردوں کی کمر توڑنے کے دعوے بھی بادی النظر میں درست نظر آتے ہیں۔ اسی لئے تو دہشت گرد مایوسی کا شکار ہو کر تتربتر ہو رہے ہیں اور انہیں جہاں بھی جائے پناہ ملتی ہے وہ وہاں چھپ کر اپنی جان بچانے اور اپنی جنونی کارروائیوں کی نئی حکمت عملی طے کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اپریشن ضرب عضب کے دوران بیشتر دہشت گرد تو اپنی جانیں بچا کر افغانستان جا بسے ہیں جہاں انہوں نے اپنے محفوظ ٹھکانے بنا رکھے ہیں اور وہیں وہ دوبارہ منظم ہو کر پاک افغان سرحد عبور کرتے ہیں اور پاکستان میں دہشت گردی کا نیا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں۔ ملتان میں دہشت گردی کا سفاکانہ واقعہ بھی اسی سلسلہ کی کڑی نظر آتا ہے اور آج دہشت گردی سے کافی عرصے سے محفوظ رہنے والے شہر ملتان میں خودکش حملہ کے ذریعہ خوف و دہشت کی دھاک بٹھانے کی سازش کی گئی ہے تو اس میں حکومتی ردعمل میں کسی قسم کی نرمی کو ظاہر کرکے اور حفاظتی انتظامات میں موجود خامیوں کو دور نہ کرنیوالی بے نیازی اختیار کرکے دہشت گردوں کے حوصلے مزید بلند کئے جائینگے جبکہ آج ملک کو دہشت گردی کی جڑوں تک کو اکھاڑنے کی کامیابی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں ملتان کی دہشت گردی کی واردات کی بنیاد پر سکیورٹی اداروں میں موجود خامیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کرکے انہیں جلدازجلد دور کرنے اور دہشت گردی کی ہر سفاکانہ واردات کو ناکام بنانے کیلئے سول اور عسکری قیادتوں کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر کسی ایک ہدف کی کامیاب تکمیل پر دہشت گردوں کے حوصلے بلند ہونگے تو انہیں سکیورٹی لیپس سے فائدہ اٹھا کر ملک کی سلامتی اور انسانی زندگیوں سے کھیلنے کا مزید موقع مل جائیگا۔
اس وقت ہمارا موذی دشمن بھارت جس سفاکی کے ساتھ دہشت گردوں کو تربیت دے کر اپنی سرپرستی میں پاکستان بھجوا رہا ہے اور انکے ذریعے پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی سازشیں پروان چڑھا رہا ہے اسکے پیش نظر ملتان کی دہشت گردی ہماری سول اور عسکری قیادتوں کیلئے ایک سبق ہونا چاہیے۔ اگر کل کو اپریشن ضرب عضب کا دائرہ جنوبی پنجاب تک وسیع کرنا مقصودہے تو اس اپریشن کی کامیابی کیلئے سکیورٹی اداروں میں موجود خامیوں کو بہرصورت دور کرنا ہوگا اور ساتھ ہی ساتھ دہشت گردوں کے ہر ٹھکانے کا کھوج لگا کر اسے اپریشن کی زد میں لانا چاہیے تاکہ دہشت گردوں کے قدم اٹھنے سے پہلے ہی اکھڑ جائیں۔ شمالی وزیرستان میں تو اپریشن ضرب عضب سول اور عسکری قیادتوں کی یکسوئی سے کامیابی سے ہمکنار ہو رہا ہے اور گزشتہ روز بھی شمالی وزیرستان کی کوہستانی وادی شوال میں ایک فضائی اپریشن کے دوران 15 دہشت گردوں کو ہلاک کرکے انکے ٹھکانے تباہ کئے گئے ہیں جبکہ وہاں پاکستانی ساختہ ڈرون کو بھی دہشت گردی کی جنگ میں بروئے کار لایا جا چکا ہے جس سے دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ہر ہدف پر میزائل حملہ کرکے اسے تباہ کرنا اور بھی آسان ہو گیا ہے تاہم ملک کے دوسرے حصوں بالخصوص جنوبی پنجاب میں دہشت گردوں کی سرکوبی کے اہداف متعین کرتے ہوئے زیادہ احتیاط سے کام لینا ہوگا کیونکہ ان میں سے اکثر علاقے گنجان آباد ہیں جہاں کسی اپریشن کی صورت میں عام شہریوں کا نشانہ بننے کا زیادہ امکان رہے گا۔ ملتان کی دہشت گردی بھی گنجان آباد علاقے میں ہوئی ہے جس کے باعث جاں بحق اور زخمی ہونیوالوں کی تعداد بڑھی ہے اس لئے اس صورتحال کو پیش نظر رکھ کر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر اپریشن کی ایسی جامع حکمت عملی طے کرنا ہو گی کہ اس میں عام شہریوں کا کم سے کم جانی اور مالی نقصان ہو۔ اسی طرح ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس بھارتی ایجنسی ”را“ کے پاکستان میں موجود نیٹ ورک کی جو بھی معلومات حاصل ہیں‘ انکی بنیاد پر دہشت گردی کے خاتمہ کے اہداف متعین کئے جائیں۔ یقیناً دہشت گردوں نے جنوبی پنجاب میں اپنے ٹھکانوں کیلئے گنجان آبادیوں کا ہی انتخاب کیا ہوگا تاکہ ان کیخلاف اپریشن کی صورت میں زیادہ سے زیادہ شہریوں کا جانی نقصان ہو جبکہ ایسی حکمت عملی کا مقصد شہریوں کے زیادہ جانی نقصان کی صورت میں عوام کو اپریشن سے متنفر کرنا ہی ہوتا ہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ ملتان دہشت گردی کی تحقیقات میں اسکے پس پردہ تمام محرکات کا کھوج لگایا جائے اور مضبوط ہاتھوں کے ساتھ دہشت گردوں کو نکیل ڈالی جائے۔ راہ فرار اختیار کرتے دہشت گردوں پر ضرب لگاتے ہوئے احتیاط کے ہر تقاضے کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے کیونکہ اپنے حالات سے مایوس ہونیوالے دہشت گرد انسانی جانوں کو زیادہ نقصان پہنچانے کا موجب بن سکتے ہیں۔