سندھ کے وزراءکی جمہوریت کش پریس کانفرنس

15 ستمبر 2015
سندھ کے وزراءکی جمہوریت کش پریس کانفرنس

سندھ کے وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ نے وزیر اطلاعات نثار احمد کھوڑوکے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیراعظم محمد نوازشریف کوآئین توڑنے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہر تین ماہ بعد مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلایا جانا آئینی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سندھ کو گیس میں آئین کے آرٹیکل 158کے تحت حصہ نہ ملا تو مزاحمت کرینگے، پنجاب کیلئے گیس بند کرسکتے ہیں ۔پیپلز پارٹی کی قیادت کل تک مسلم لیگ ن کی حکومت کی ڈھال بنی ہوئی تھی۔ اس کا کردار فرینڈلی اپوزیشن کا رہا۔ پیپلز پارٹی کے دور میں میگا کرپشن سکینڈل سامنے آئے۔ ان کو کھڈے لائن لگائے رکھنے کیلئے پیپلز پارٹی کے لیڈر مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی خوشامد کی حد تک سپورٹ کرتے رہے۔ اب ان کیخلاف کرپشن کیسز کھل رہے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم رینجرز کی تحویل میںاور ایم پی اے علی نواز کو جیل ہوئی۔ گیلانی‘ زرداری اور امین فہیم بھی زیر عتاب ہیں۔ اس پر پیپلز پارٹی اشتعال میں ہے۔ حالانکہ ان معاملات میں مسلم لیگ ن کا نہ صرف کوئی ہاتھ نہیں بلکہ وہ مجبور محض ہے اور اپنے احتساب سے خوفزدہ بھی ہے۔ پیپلز پارٹی کو یہ غصہ بھی ہے کہ زرداری صاحب کی طرف سے فوج کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی میں ن لیگ نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ ہر تین ماہ بعد مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانا وزیراعظم کی ذمہ داری ہے جس سے روگردانی کی گئی۔ اس پر اب تک پی پی پی کیوں سوئی رہی تاہم اسکی خاموشی سے بھی آئین سے روگردانی اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔ اس کا جواب اور حساب حکومت کو یقیناً دینا ہو گا لیکن اپنے اختلافات کو لیکر صوبائیت کو ہوا دینا بھی ملک دشمنی سے کم نہیں۔ سیاسی اختلافات میں اخلاقیات اور صوبائی ہم آہنگی کی حدیں کراس کرنا بھی مناسب نہیں۔ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ فلاں صوبے کو گیس نہیں دینگے‘ بجلی نہیں دینگے ہر صوبہ ایسے رویے کا اظہار کرے تو قومی یکجہتی اور ہم آہنگی تو تار تار ہو جائیگی۔ ایسی زبان ایک صوبے کے حکمران بولیں گے اور دوسری طرف ایسا ہی جواب آئےگا تو سیاستدان جمہوریت کے کفن دفن کا خود ہی اہتمام کر رہے ہونگے۔