محسود قبائل کا لویہ جرگہ‘ واپسی میں تاخیر نہ کرنے‘ متاثرین کو معاوضے کا مطالبہ

15 ستمبر 2015

لدھا (نامہ نگار) تحریک محسود قبائل نے جنوبی وزیر ستان میں محسود قبائل نے جاری استحصال کے خلاف احتجاجی لویہ جر گہ کا انعقاد کیا جس میں سینکڑوں قبائلیوں نے شر کت کی۔ پولیٹیکل کمپاونڈ جنوبی وزیرستان میںاحتجاجی لو یہ جر گہ سے اپنے خطاب میں تحریک محسود قبائل کے صدر شیرپائو ایڈووکیٹ، جنرل سیکر ٹری کلیم اللہ ایڈوکیٹ اور دیگر نے کہا کہ گذشتہ 8 برسوں سے محسود قبائل پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے گئے، ہمارے تمام تر نقصانات کا معاوضہ دیا جائے جس میں آپر یشن راہ نجات میں ڈرون حملوں اور دوران جنگ جتنے بے گنا ہ محسود قبائل مارے جا چکے ہیں ان بیوائوں کو 8 لاکھ، زخمی ہو نے والوں کو 4لاکھ اور تباہ شدہ گھروں کی تعمیر کیلئے فی گھرانہ 10 لاکھ روپے دئیے جائیں۔ انہوں نے کہا موجودہ تحصیل تیارزہ کے متاثرین کو سینکڑوں کلو میٹر دور وانا کے بجائے اپنے علاقائی راستے سنزلہ سے بھیج دیا جائے اور محسودقبائل کی مکمل واپسی میں مزیدتاخیرنہ کی جائے۔ انکا کہناتھا کہ متاثرین آپریشن راہ نجات پرورلڈ فوڈ پروگرام کی جانب سے نت نئے حربے استعمال کئے جارہے ہیں جس کا واحد مقصد انکو راشن سے محروم کر کے خوار وذلیل کرنا ہے۔ انہوں نے ورلڈ فوڈپروگرام اور غیر سر کاری تنظیم LHO کو 48 گھنٹوں کی ڈید لائن دیتے ہو ئے کہا انہوں نے سابقہ روایات کے مطابق راشن کی فراہمی متاثرین کو یقینی نہ بنائی تو ان کے خلاف راست اقدام پر مجبور ہونگے جس کی تمام ترذمہ داری عالمی ادارہ خوراک اور LHO پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے جائز مطالبات پورے نہ کئے گئے تو گورنر ہائوس پشاور اور پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد کے سامنے احتجاجی تحریک سمیت دھرنا دیا جائیگا۔ انہوں نے حتمی لائحہ عمل طے کر نے کیلئے 30 ستمبرکو درے محسود قبائل کا گرینڈ جر گہ طلب کرلیا۔