ڈرگ ترمیمی آرڈیننس کیخلاف پنجاب بھر میں میڈیکل سٹور مالکان کی ہڑتال‘ مظاہرے‘ ریلیاں

15 ستمبر 2015

لاہور (نیوز رپورٹر+ نامہ نگاران) ڈرگ ترمیمی آرڈیننس 2015ء کیخلاف لاہور سمیت پنجاب بھر کے شہروں میں میڈیکل سٹورز مالکان نے سٹور بند کرکے ہڑتال کی۔ احتجاجی مظاہرے کئے اور ریلیاں نکالیں۔ مظاہرین نے پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب کیمسٹ کونسل نے اپنے مطالبات کے حق میں پنجاب بھر میںہڑتال کی۔ لاہور سمیت پنجاب میں تمام میڈیکل سٹور بند رہنے کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پنجاب ڈرگز آرڈیننس 2015ء کے خلاف تحصیل بھر میں پیرا میڈیکل سٹورز اور ایکسرے لیب دیگر لیبارٹریز بھی بند رہیں جس کی وجہ سے دوردراز سے آئے مر یضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کر نا پڑا۔ پاکستان کیمسٹ ریٹیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چودھری نثارنے بتایا کہ کہ پنجاب ڈرگز آرڈیننس2015ء منظور نہیں ہم تمام کیمسٹ برادری اس کا بائیکاٹ کرتی ہے اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسا ظلم نہ کیا جائے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ مجوزہ ترمیمی آرڈیننس واپس لیا جائے اور قانون کے مطابق رولز بنائے جائیں اور تمام سٹیک ہولڈر کو ساتھ لے کر چلا جائے۔ پنڈی بھٹیاں سے نامہ نگار کے مطابق میڈیکل سٹور ایسوسی ایشن نے مکمل ہڑتال کی تمام سٹور بند رہے۔ مریض تمام دن دوائیوں کیلئے مارے مارے پھرتے رہے۔ میڈیکل سٹور مالکان نے آرڈیننس واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ حافظ آباد سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق میڈیکل سٹورز مالکان نے ڈرگ ایکٹ میں ترمیم کے خلا ف شٹر ڈائون ہڑتال کرتے ہوئے احتجاجی ریلی نکالی اور بعد ازاں ونیکے چوک میں احتجاجی کیمپ لگا کر دھرنا دیا۔ ہڑتال کی وجہ سے شہریوں اور مریضوں کوشدید دشواری کا سامنا بھی کرنا پڑا، مالکان کا کہنا تھا کہ وہ ڈرگ ایکٹ1976ء میں کی جانے والی ترمیم کو کسی صورت بھی قبول نہیں کرتے۔ ننکانہ صاحب سے نمائندہ نوائے وقت اور نامہ نگار کے مطابق تمام میڈیکل سٹوروں نے تالا بندی کر کے مکمل شٹر ڈائون ہڑ تال کی اور ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی ریلی جو ڈاکٹروں والا بازار سے شروع ہو کر پریس کلب ننکانہ کے سامنے پہنچ کر ایک احتجاجی دھرنے کے ساتھ ختم ہوئی، احتجاج کے دوران ٹائر جلا کر روڈ کو بلاک کر دیا گیا اور پنجاب گورنمنٹ کے خلاف سخت نعرے بازی کی گئی ۔ میڈیکل سٹور بند ہونے کے باعث مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا درجنوں میڈیکل سٹور مالکان نے علی ہسپتال ننکانہ سے ایک احتجاجی ریلی نکالی۔ ریلی گوروبازار ننکانہ سے ہوتی ہوئی چوک دوآبہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی اس موقعہ پر مظاہرین نے مختلف کتبے اور پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے جس پر پنجاب ڈرگ ایکٹ 2015ء کے خلاف شدید نعرے درج تھے۔ قصور سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق میڈیکل سٹوروں کے مالکان نے شٹرڈائون ہڑتال کی۔ صدر کیمسٹ ایسوسی ایشن، مرکزی صدر ٹریڈ فیڈریشن چودھری علی صادق کی صدارت میں میڈیکل سٹور مالکان کا اجلاس ہوا۔ جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ڈرگ رولز جیسا کالا قانون ختم کیا جائے۔ بدوملہی سے نامہ نگار کے مطابق بدوملہی میں بھی تمام میڈیکل سٹور مکمل طور پر بند رہے۔ مریدکے سے نامہ نگار کے مطابق میڈیکل سٹورز کے مالکان نے مکمل ہڑتال کی اور جی ٹی روڈ پر دھرنا دیا۔ جس میں سینکڑوں لوگ شریک ہوئے۔ سادھوکے سے نامہ نگار کے مطابق شہر بھر کے میڈیکل سٹوروں کے مالکان نے ہڑتال کی جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا رہا۔ کامونکے، تتلے عالی میں میڈیکل سٹور مالکان نے شٹرڈائون ہڑتال کی۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق ضلع بھر میں میڈیکل سٹور مالکان نے شٹرڈائون ہڑتال کی جبکہ ادویات کی عدم دستیابی کے باعث مریض خوار ہو گئے۔ منیر چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا، ریجن صدر محمد اصغر بٹالوی کی قیادت میں ڈی سی او آفس تک ریلی نکالی اس دوران مظاہرین نے ہاتھوں میں کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر انکے مطالبات درج درج تھے۔ دوسری جانب میڈیکل سٹور بند ہونے کے باعث مریضوں اور اسکے لواحقین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ قلعہ دیدار سنگھ سے نامہ نگار کے مطابق میڈیکل سٹور مالکان نے ہڑتال کی اور صوبائی حکومت کے خلاف لدھیوالہ وڑائچ میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور نعرے بازی کرتے رہے۔ خانقاہ ڈوگراں سے نامہ نگار کے مطابق میڈیکل سٹوروں کی ہڑتال سے مریض پریشان ہو گئے۔ شرقپور شریف سے نامہ نگار کے مطابق کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن شرقپور نے پرامن احتجاجی ریلی نکالی اور اے ای کے آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے نعرے بازی کرتے رہے جو شہر کا چکر لگانے کے بعد چھوٹا ڈالاریاں پر اختتام ہوئی جس کی قیادت صدر محمد اشرف نے کی۔ شراء ریلی نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ مانگا منڈی سے نامہ نگار کے مطابق مانگا منڈی، سندر، شامکی بھٹیاں، لوہارانوالہ کھوہ، موہلنوال اور چوہنگ میں تمام میڈیکل سٹورز احتجاجاً بند رہے جس کی وجہ سے مریضوں کو دوائی کے حصول میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مانگٹانوالہ سے نامہ نگار کے مطابق گزشتہ روز ضلع بھر میں میڈیکل سٹورز احتجاجاً بند رہے جس کی وجہ سے مریض سارا دن خوار ہوتے رہے۔اس سلسلہ میں مانگٹانوالہ ، موڑکھنڈا، منڈی فیض آباد، بچیکی، بڑاگھر اور دیگر علاقہ کے میڈیکل سٹور ز مالکان نے احتجاجی ریلی بھی نکالی۔ مقررین نے کہاکہ ڈرگ آرڈیننس2015 ء ایک کالا قانون ہے جس کا نفاذ میڈیکل سٹورز مالکان کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔ گکھڑ منڈی سے نامہ نگار کے مطابق قصبہ گکھڑ میں بھی کیمسٹ کونسل کی اپیل پر میڈیکل سٹور بند رہے جس سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ علاوہ ازیں سرگودھا، سیالکوٹ، وہاڑی، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ڈسکہ، بھلوال، ماموں کانجن، میانوالی اور دیگر شہروں میں بھی ڈرگ ترمیمی آرڈیننس 2015ء کیخلاف ہڑتال کی اور احتجاجی ریلیاں نکالیں۔