صدقات وخیرات

15 ستمبر 2015
صدقات وخیرات

اللہ رب العزت کا ارشادگرامی ہے :”اے میرے حبیب میرے ان بندوں سے فرمادیجئے جو ایمان لے آئے ہیں کہ وہ نماز کو (پورے حقوق سے)اداءکریں اورہم نے انھیںجو رزق دیا ہے اس میں سے (خیرات پر )خرچ کریں، پوشیدہ طور پر بھی اورعلانیہ بھی، اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے جس دن نہ کوئی خرید و فروخت ہوگی اورنہ (باطل )دوستی ہوگی “ ۔ (ابراہیم۳۱)
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بناکر بھیجا تو ارشادفرمایا:(اے معاذ)بے شک یمن کی سرزمین میں تمہاری ملاقات اہل کتاب کی ایک قوم سے ہوگی جب تم انکے پاس پہنچوتو انھیں یہ دعوت دو کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سواءکوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )اللہ کے رسول ہیں ، اگر وہ تمہاری بات کو تسلیم کرلیں اوریہ گواہی دینے لگیں تو انہیں یہ بتاﺅ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن اوررات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں ۔ اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں اورنماز پڑھنا شروع کردیں تو انہیں بتاﺅ کہ اللہ رب العزت نے ان پرزکوٰة فرض کی ہے ، جو تمہارے اصحاب ثروت سے لی جائیگی اور تمہارے ہی فقراءمیں تقسیم کردی جائےگی اگر وہ تیسری یہ بات بھی مان لیں اورزکوٰة دینے پر تیار ہوجائیں تو یادرکھنا زکوٰة لیتے وقت چھانٹ چھانٹ کر، انکے عمدہ اورنفیس اموال نہ لے لینا اورمظلوم کی دعائے قہر سے بچتے رہنا کیونکہ اسکے اور اللہ رب ذوالجلال کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا۔ (ترمذی، ابوداﺅد ، ابن ماجہ، نسائی ، دارمی، ابن خذیمہ)
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان احادیث میں سے جو وہ اللہ تبارک سے روایت کرتے ہیں (یعنی حدیث قدسی)میں فرمایا:اللہ رب العزت ارشادفرماتا ہے ، اے میرے بندو! تم تمام بھوکے ہو ، سوائے اسکے جسے میں کھلا دوں پس مجھ سے کھانا طلب کرو میں تمہیں کھلاﺅں گا۔اے میرے بندو! تم تمام بے لباس ہو، سوائے اسکے ، جسے میں لباس پہنادوں پس تم مجھ سے لباس کا سوال کرومیں تمہیں لباس عطاکردوں۔ (مسلم، ترمذی، ابن ماجہ ، مستدرک ، مشکوٰة)
حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور رحمة للعالمین علیہ والصلوٰة والتسلیم نے ارشادفرمایا: صدقہ کرو، کیونکہ تم پرایک زمانہ ایسا بھی آنے والا ہے کہ آدمی صدقہ لے کر نکلے گا لیکن کسی کونہ پائے گا جو اسے قبول کرے (بلکہ )کوئی شخص (یوں)کہے گا، اگر تم کل لے کر آتے تو میں اسے (ضرور)قبول کرلیتا لیکن آج مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں ہے۔(بخاری ، مسلم، نسائی، مسند امام احمد بن حنبل)