گاجر نہیں چھڑی

15 ستمبر 2015

68 سال کا پاکستان ایک نئے دور سے گزر رہا ہے خیر اور شر کی قوتیں برسرپیکار ہیں خیر کے ہاتھوں شر پسپائی کا شکار ہے۔ سیاسی وعسکری قیادت ایک طرف تو دوسری جانب دہشت گرد اور کرپٹ مافیا، فریقین میں ایک سیر ہے تو دوسرا سوا سیر، کرپشن اور دہشت پیسے کے بل پر اور پیسے کیلئے ہوتی ہے۔ بڑے بڑوں پر ہاتھ ڈل رہا ہے۔ جس پراجیکٹ پر نگاہ ڈالیں چھید دکھائی دیتے ہیں۔ پاور پراجیکٹس کی کہانیاں سن کر حیرت ہو رہی ہے۔ منصوبوں کی بھرمار ہے ڈائیلاگ بازی بھی بازی لے گئی ہے۔ کس کس منصوبے کی آزادانہ تحقیقات ہوگی۔ کون سا سانحہ ایسا ہے جس کی آزادانہ تحقیقات ہوئی ہو۔ تحقیقات کرنیوالے خود سرکاری ملازم ہوں تو انہیں آزاد کون کہہ سکتا ہے۔ ملک حالت جنگ میں ہے ہماری فوج کو اندرون ملک دشمنوں سے جنگ لڑنا پڑ رہی ہے۔ اندرونی دشمنوں کے حوالے سے سیاسی حکومتیں بے بسی اور مصلحت کا شکار ہیں۔ چشم پوشی کرتے کرتے ملک اس سطح پر پہنچ گیا کہ ہر سو دہشت گرد ہی دکھائی دینے لگے قوم کو نظر آ رہا ہے کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کون کرنے جا رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں میں سب سیاست دان ہیں۔ سیاست میں آنے کےلئے کسی کوالیفیکیشن کی ضرورت نہیں کوئی بھی چھانگا مانگا سیاسی ورکر بن سکتا ہے۔ سیاست دان صاف ستھرے ہیں تو اپنی جماعتوں سے جنگجوﺅں کو نکال باہر کیوں نہیں کرتے۔ زیادہ تر کرپٹ لوگ ہی اپنے کالے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کیلئے سیاسی جماعتوں اور دینی تنظیموں کی چھتری تلے پناہ لیتے ہیں۔ کیا کسی رہنما نے اسمبلی یا سینٹ میں ایسے عناصر کی سرکوبی کےلئے کوئی قرارداد پیش کی ہے؟ کرپشن کے حوالے سے ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی نے نام پیدا کیا ہے۔ مسٹر ٹین پرسنٹ کے لقب سے کس ہستی کو نوازا گیا تھا۔ یوسف رضا گیلانی ترک ہار پر ہی بدنیت ہو گئے۔ راجہ پرویز اشرف نے پاور سیکٹر میں کرپشن کے حوالے کتنا نام کمایا۔ نیب اور ایف آئی اے کی چھڑی گھمائی گئی ہے تو بڑے بڑے ضمانتوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ حکمران اور اپوزیشن لیڈر جہازوں اور ہیلی کاپٹروں سے اترتے نہیں۔ بڑے ہوٹلوں اور سرکاری عمارتوں میں سیاسی اجتماعات کے اخراجات کون پورے کرتا ہے؟ کرپشن محض رشوت کا نام نہیں یہ ایک کتاب کا نام ہے جس میں درجنوں اجزائے ترکیبی استعمال ہوتے ہیں۔ نیب اور ایف آئی اے اپنے ریکارڈ روموں سے گرد میں اٹی ساری موٹی موٹی فائلیں باہر لا رہی ہے۔ یہ سیاسی موٹوں کی موٹی فائلیں ہیں۔ کرپشن کے حوالے سے الزامات کو خود سے بے بنیاد کہہ دینے سے کوئی بری نہیں ہو جاتا۔ نیب ہو یا ایف آئی اے وہ خود سے کسی کو داغدار کیونکر کرینگے۔ وزراءاور سرکاری افسروں کی صوابدیدپر پٹرول کی مد میں رقم کروڑوں روپے ہوتی ہے۔ گھوسٹ پنشنرز کی طرح گھوسٹ کارکردگی کے نام پر پٹرول استعمال ہوتا ہے۔ ود ہولڈنگ ٹیکس کے حوالے سے حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ تاجروں کا ملک گیر احتجاج بھی حکومت کو اپنی جگہ سے نہ ہلا سکا۔ تاجر دوست حکومت سے تاجروں کی ناراضگی سمجھ میں نہیں آتی۔ آخر وہ کونسی وجہ ہے کہ تاجر معیشت کی ڈاکومنٹیشن سے گھبراتے ہیں۔ رسید لینے اور رسید دینے میں کون سا امر مانع ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر میں ہر ملک کی معیشت دستاویزی ہے۔ اکنامک گروتھ ریٹ یوں ہی نہیں بڑھ جاتا۔ دنیا ایک کلاس روم ہے۔کلاس کا ٹاپر بچہ قابل تقلید ہونا چاہیے ۔یہ اپنی اپنی قسمت لاپروائی عدم دلچسپی اور نالائقی ہوتی ہے کہ سارے بچے ٹاپر کے ہم پلہ نہیں ہوتے۔ اسی طرح ہم بھی جی ایٹ ممالک کے ہم پلہ نہیں ہو سکتے ۔ہم اب تک قرضوں کی خاطر امریکہ کے زیراستعمال رہے ہیں۔ طالبان کی پیدائش بھی امریکہ کے ہاتھوں ہوئی تھی۔ دہشت گردی کی نرسریاں کس نے بنائیں اور کس نے ہمیں اپنی جگہ میں گھسیٹ لیا۔ ہم قرضوں کا پہاڑ سر پر اٹھائے پھر رہے ہیں۔ ہمیں قرضے اپنے زرمبادلہ سے واپس کرنا پڑتے ہیں۔ اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر 8 ارب ڈالر ہیں، بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات ہمارا گھر چلا رہی ہیں۔ برآمدات اور درآمدات میں 9 ارب ڈالر کا تفاوت ہے۔ درآمدات 34 ارب ڈالر کھا رہی ہیں جبکہ برآمدات سے آمدنی 25 ارب ڈالر ہے۔ کم اکانومی کے حساب سے پرائمری سکول سے باہر نہیں نکلے۔ ہم نے 68 سال میں عاقبت نااندیشانہ تجربے کئے۔ کبھی جذبات میں نیشنلائزیشن کی طرف لپکے وہاں سے جوتے کھائے تو پرائیویٹائزیشن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔ امیروں کو امیر تر اور غریبوں کو غریب تر بنانے میں حکومتوں نے خوب کردار ادا کیا۔ ہم نے اپنے ملک کو تجربہ گاہ بنایا ہوا ہے۔68 سال بعد ہمیں غیرت آئی کہ جس زبان اردو کو سرکاری سطح پر طلاق دے رکھی ہے‘ عدالت عظمیٰ کے حکم پر ہم نے اس مطلقہ سے پھر رجوع کرلیا۔ سرسید احمد خان کا دماغ خراب نہیں تھا کہ وہ انگریزی پر زور دیتے تھے۔ ہمارے ہاں انگریزی کا معیار پہلے ہی صفر ہے۔

اس پر بھی ایک جوڈیشل کمیشن قائم ہونا چاہئے جو اس امرکی بھی تحقیقات کرے کہ 2014ءمیں طالبان سے مذاکرات کیلئے اور اب ایم کیو ایم کے استعفے واپس لینے کیلئے بنائی کمیٹیوں پر کتنے اخراجات آئے ۔ اینٹی ڈینگی، لیپ ٹاپ، آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم، سستی روٹی سکیم دانش سکولوں اور میٹروبسوں پر اٹھنے والے اخراجات سے کتنا فائدہ اور کتنا نقصان ہوا؟ رانا مشہود یا کوئی اور ہو، جس پر بھی الزام کے چھینٹے پڑ جائیں اسے اپنی بریت ملنے تک اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہئے لیکن ہمارے ہاں کلچر الٹا ہے ہم تو استعفیٰ دینے والوں کے پیچھے دوڑتے ہیں شاید ان کا روٹھنا کسی کو مہنگا پڑسکتا ہے۔
20 کلو آٹے کا تھیلا یکدم مہنگا کردیا گیا ہے۔ کراچی میں دودھ کی قیمت میں بھی یکدم 10 روپے لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی بجلی 2.19 روپے فی یونٹ سستی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایک ہاتھ دے دوسرے ہاتھ لے والی بات ہے۔ قرضوں پر شرح سود 6 فیصد ہونے سے 42 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ سٹیٹ بنک کے فرائض میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ دور حاضر کے مطابق حکومت کو صحیح مشورہ دے۔ اسکی گڈی چڑھانے کیلئے جھوٹ نہ بولے۔ زمینی حقائق اور اسکے اعدادو شمار میں تال میل ضروری ہے۔ سٹیٹ بنک کادعویٰ ہے کہ افراط زر کی شرح کم ہو رہی ہے۔ افراط زر کے ساتھ بیرونی سرمایہ کاری اور برآمدات بھی تو کم ہو رہی ہیں۔ پرائیوٹ سیکٹر کیلئے بینکوں کو دینے کیلئے برائے نام رقم موجود ہے۔ سارا ادھار تو حکومت کی تجوری مانگ رہی ہے۔ بڑے پیمانے پر مینو فیکچرنگ کا عمل ڈانواں ڈول ہے۔ صارفین ہوں یا حکومت فضول خرچیاں بلکہ شاہ خرچیاں زیادہ سرمایہ کاری برائے نام ہے۔ سٹیٹ بنک اپنی زرعی پالیسی میں وہی بیان جاری کرتا ہے جو اسحاق ڈار سے منظور شدہ ہوتا ہے۔ گورنر سٹیٹ بنک اب ایک عام سرکاری ملازم کی طرح وزارت خزانہ کے ماتحت کام کر رہا ہے، دبنگ گورنروں کا دور کوئی اور تھا۔ سٹیٹ بنک کے تازہ بیان کے مطابق مہنگائی بڑھنے کا خطرہ برقرار نہیں بلکہ مہنگائی جاری ہے ۔حکومت کا اپنا ہیٹ بھرے گا تو عام آدمی کو سستا قرضہ ملے گا۔ سٹیٹ بنک کی سرمایہ رپورٹوں سے پاکستانی شہری کی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے؟ منافع خوری اور منافع خورروں اور سود خوروں نے پاکستان کے 20 کروڑ صارفین کو جکڑ رکھا ہے۔