دھرنا سے وکلا، سائلین ک مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، مقدمات بھی غیر ضروری التوا کا شکار ہوئے، کسی ادارے کو حدود سے تجاوز کی اجازت نہیں: چیف جسٹس

15 ستمبر 2015
دھرنا سے وکلا، سائلین ک مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، مقدمات بھی غیر ضروری التوا کا شکار ہوئے، کسی ادارے کو حدود سے تجاوز کی اجازت نہیں: چیف جسٹس

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + ایجنسیاں) چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال 2015-16ءکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین نے ریاست کے اختیارات کی تقسیم کا اصول وضع کیا ہے جس کے تحت انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کو مخصوص اختیارات تفویض کئے گئے ہیں اور کسی بھی ادارے کو اس کی مقررہ حدود سے تجاوز کی اجازت نہیں۔ تقسیم اختیارات کا اصول جمہوریت کی بنیاد ہے اور یہ اداروں کے درمیان چیک اینڈ بیلنس کو یقینی بناتا ہے۔ عدلیہ نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ وہ اپنے اختیارات کے استعمال میں آئینی اور قانونی حدود کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایسا حکم جاری کرے جس سے صرف اور صرف غیر قانونی اقدامات کی تصحیح ہو اور ساتھ ہی ساتھ اداروں کے مابین ہم آہنگی پیدا ہو ریاست کی بنیادوں کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے میں مدد ملے۔ حصول انصاف کو درپیش مشکلات میں مقدمات کے فیصلہ میں ہونے والی تاخیر سب سے زیادہ تکلیف دہ بات ہے جس سے غریب اور نادار طبقے پر انتہائی ب±را اثر پڑتا ہے الیکشن 2013ءکے حوالے سے تحقیقاتی کمیشن نے حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین و قانون کے مطابق سفارشات جاری کیں۔ گزشتہ سال کے عدالتی فیصلے آنے والے وقتوں میں بہت سی معاشرتی خرابیوں کے خاتمے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے دھرنے کی وجہ سے وکلاءاور سائلین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ مقدمات بھی غیر ضروری التواءکا شکار ہوئے۔ الیکشن 2013ءکے حوالے سے تحقیقاتی کمشن کے قیام اور آئینی ترامیم کے مقدمہ میں فل کورٹ بنچ کی تشکیل کے باعث بھی عام مقدمات کی سماعت پر اثر پڑا۔ ستمبر 2015ءمیں زیرالتواءمقدمات کی تعداد کم و بیش 26ہزار کے لگ بھگ ہو گئی ہے۔ غیر ضروری التواءاور مقدمات میں تاخیر کا خاتمہ کرتے ہوئے فوری اور بروقت فیصلے کرنے کی کوشش کریں گے۔ بنچ اور بار ایک دوسرے کا لازم و ملزوم حصہ ہیں۔ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں بار کا کردار ناگزیر ہے۔ خود احتسابی کے اصول پر عمل پیرا ہونے کے لئے سپریم جوڈیشل کونسل کو مزید متحرک کیا جا رہا ہے۔ فوری اور سستے انصاف کی فراہمی ، غیر جانبدارانہ فیصلے، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ یقینا ہم سب نظامِ انصاف کی کارکردگی میں بہتری کے خواہاں ہیں۔ ایسی تقریبات میں بنچ و بارکو آپس میں مل کر بیٹھنے اور باہم رابطہ و تبادلہ خیال کا موقع ملتا ہے جس کے ذریعے فراہمی انصاف میں آنے والی رکاوٹوں اور مسائل کو سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے میں مدد ملتی ہے۔اس عمل کا براہ راست اثر عوام اور خاص طور پر فریقین مقدمہ اور وکلاءپر ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں موجودہ عدالتی چھٹیوں کا نظام تقسیم پاک وہندسے قبل سے چلا آرہا ہے۔ ان تعطیلات کا مقصد یہ ہے کہ جج صاحبان کو مسلسل عدالتی امور انجام دینے کے بعد کچھ وقفہ فراہم کیا جائے جس میں تھوڑا آرام کرنے کے ساتھ ساتھ ایسی کتب کا مطالعہ کر پائیں جس سے ان کے علم اور قانون فہمی میں مزید اضافہ ہو۔مگر یہاں میں یہ واضح کرتا چلوں کہ اگرچہ ہر سال قواعد کے مطابق گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان ہوتا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس دوران عدالتیں مکمل طور پر بند رہتی ہیں۔ درحقیقت چھٹیوں کے دوران عدالت ایک دن کے لئے بھی بند نہیں ہوتی۔ ماضی کی طرح اس سال بھی زیر التواءمقدمات کی تعداد کو دیکھتے ہوئے زیادہ تر جج صاحبان نے چھٹیوں کے دوران تسلسل کے ساتھ کام کیا۔ زیر التواءمقدمات کی تعداد میں اضافہ کو مدنظر رکھتے ہوئے برانچوں میں بھی بینچ تشکیل دئیے گئے۔ خاص طور پر لاہوراور کراچی میں مسلسل مقدمات کی سماعت کی گئی۔ اس طرح کافی تعداد میں مقدمات کے فیصلہ اور زیرالتواءمقدمات میں کمی لانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ پاکستان اسلامی جمہوری ملک ہے آئین اس بات کی ضمانت فراہم کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم کل ہے اور پاکستان کی جمہور کو تفویض کردہ اقتدار و اختیار اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہے ، جو مقدس امانت ہے۔ ملک میں ایسا جمہوری ڈھانچہ قائم کیا جائے جس میں ریاست کا نظامِ اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے چلایا جائے ، جہاں اسلامی تشریح کے مطابق جمہوریت، آزادی ، برابری ، رواداری اور معاشرتی عدل کے اصولوں پر عمل کیا جائے اور بنیادی حقوق بشمول حیثیت ، مواقع اور قانون کی نظر میں برابری، معاشرتی، معاشی اور سیاسی انصاف اور سوچ ، اظہار، عقیدہ، دین، عبادت اور اجتماع کی آزادی، قانون اور اخلاقیات کی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہو۔ ماضی میں اس (غیر ضروری التوائ) سلسلے میں ہمیشہ یہ کوشش کی جاتی رہی ہے کہ کسی بھی طریقے سے اس ناسور پر قابو پایا جاسکے۔ آنے والے دنوں میں انشاءاللہ میں اور میرے برادر جج صاحبان اس بات کو یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کریں گے کہ غیر ضروری التواءاور مقدمات میں تاخیر کا خاتمہ کرتے ہوئے مقدمات کا فوری اور بروقت فیصلہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں وکلاءاور بار کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد اس میں مزید بہتری لانے کے لئے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔ یہ کہنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اس مسئلہ پر قابو پانا تنہا بنچ کے لئے ممکن نہیں اس سلسلے میں بار کی مکمل حمایت اور تعاون اشد ضروری ہے۔ وکلاءپر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ، ایک طرف وہ فریق مقدمہ کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے موکل کے حقوق کے محافظ ہوتے ہیں تو دوسری طرف بطور افسر عدالت ان پر جلد اور فوری انصاف کی فراہمی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس لئے انہیں چاہئے کہ وہ ہر مقدمہ میں مکمل تیاری کے ساتھ عدالت میں پیش ہوں تاکہ وہ احسن طریقے سے عدالت کی معاونت کریں اور مقدمات غیر ضروری التواءکا شکار نہ ہوں۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ بنچ اور بار ایک دوسرے کا لازم و ملزوم حصہ ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں نظام انصاف کی کامیابی کا دارومدار بنچ اور بار کے مابین بہتر تعلقات پر ہوتا ہے۔ بنچ اور بار کی مثال ایک چکی کے دو پاٹوں کی سی ہے ، جب تک دونوں مل کر اور ایک دوسرے کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کام نہ کریں گے فراہمی انصاف کا مقدس فریضہ درست طور پر سرانجام دینا ممکن نہیں ہو گا۔ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں بار کا کردار ناگزیر ہے۔ بار کو چاہئے کہ وہ نظامِ انصاف کا اہم حصہ ہونے کی حیثیت سے اس سلسلے میں پیش آنے والی مشکلات کے تدارک کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گزشتہ سال ہم سب کے لئے منفرد اور غیر معمولی سال تھا۔ ملک کی بدلتی ہوئی معاشی، معاشرتی اور سیاسی صورتحال میں سپریم کورٹ کا کردار عوام کے لئے بہت اہمیت کا حامل رہا۔ عوام کی نظریں معمول کے مقدمات کے تصفیے کے علاوہ دیگر سیاسی اور معاشرتی امور کے حل کے سلسلے میں بھی سپریم کورٹ پر مرکوز رہیں۔ عدالت نے اس سلسلے میں عوا م کی فلاح و بہبود کے لئے اپنے فیصلوں کے ذریعے آئین کی تشریح کرتے ہوئے نئے مفہوم پیش کئے۔ اس سلسلے میں اٹھارویں اور اکیسویں آئینی ترامیم کا کیس آپ لوگوں کے سامنے ہے۔ اس فیصلے میں نہ صرف یہ کہ موجودہ ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عوامی بہبود میں بہترفیصلہ سنایا گیا بلکہ پارلیمان کی حدود اور عدالتی اختیار کی بھی وضاحت کی گئی۔ اسی طرح الیکشن2013ءتحقیقاتی کمیشن نے بھی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین اور قانون کے تحت اپنی سفارشات جاری کیں۔ مجھے یقین ہے کہ گزشتہ سال میں جاری کئے گئے عدالتی فیصلے آنے والے وقتوں میں بہت سی معاشرتی خرابیوں کے خاتمے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ گزشتہ سال ستمبر 2014 میں سپریم کورٹ میں زیر التواءمقدمات کی تعداد قریباً 24ہزار کے لگ بھگ تھی۔ ستمبر 2014ءسے اگست 2015ءکے دوران 17ہزار کے لگ بھگ نئے مقدمات دائر کئے گئے قریباً چھ سو کے قریب مقدمات کو بحال کیا گیا۔ اس عرصہ کے دوران 15 ہزار سے زائد مقدمات کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی طرح ستمبر 2015 میں زیرالتواءمقدمات کی تعداد کم و بیش 26ہزار کے لگ بھگ ہو گئی۔ تمام جج صاحبان نے زیر التواءمقدمات کی تعداد میں کمی لانے کی ہر ممکن کوشش کی یہاں تک کہ انہوں نے چھٹیوں کے دوران بھی کام کرنے کو ترجیح دی اور نہایت تندہی سے اپنا کام سر انجام دیا۔ اگرچہ ہم 15 ہزار سے زائد مقدمات کا فیصلہ کرنے میں کامیاب ہوئے مگر کچھ نامسائد حالات کی وجہ سے اس میں مزید اضافہ نہ ہو سکا ، ان میں ایک وجہ سپریم کورٹ کے سامنے ہونے والا دھرنا تھاجس کی وجہ سے کئی ماہ تک وکلاءاور سائلین کو عدالت میں حاضر ہونے میں دشواری پیش آئی اور مقدمات غیر ضروری طور پر التواءکا شکار ہوتے رہے۔ اس اضافہ کی دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ عوامی اہمیت کا حامل ہونے کی وجہ سے آئینی ترامیم کے مقدمہ میں فل کورٹ تشکیل دی گئی جسے کئی ماہ تک اس مقدمہ کی بحث سننا پڑی اور اس دوران دیگر عام مقدمات کی سماعت پر بہت اثر پڑا۔ اس کے علاوہ انتخابات 2013تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل بھی اس کی وجوہات میں شامل ہے کیونکہ ایک بنچ مسلسل کئی ماہ تک ان تحقیقات میں مصروف رہا اور دیگر عام مقدمات کی سماعت نہ کر سکا۔ اگر یہ تمام عوامل درپیش نہ ہوتے تو یقیناًزیر التواءمقدمات کی تعداد میں خاطرخواہ کمی واقع ہوتی۔ماضی کی طرح اس سال بھی بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے سپریم کورٹ میں قائم کئے گئے ہیومن رائٹس سیل نے عوامی شکایات کے ازالے میں اپنا بھرپورکردار ادا کیا۔اس شعبہ میں زیر التواءشکایات کی تعداد 12305 تھی۔ گزشتہ سال کے دوران کل 26731 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 28034 شکایات کو نمٹایا گیا۔ ان میں سے زیادہ تر پولیس، انتظامیہ اور ارباب اقتدار کی مبینہ زیادتیوں، عورتوں کے حقوق، اقلیتوں کے ساتھ نارواسلوک، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن وغیرہ سے متعلق تھیں۔ اس طرح زیر التوا درخواستوں کی تعداد کم ہو کر 11002 رہ گئی۔ بیرون ملک پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے علیحدہ شعبہ قائم کیا گیا تھا جس میں گزشتہ سال 2055 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 1394 کو نمٹایا گیااور زیر التوا درخواستوں کی تعداد 661 رہ گئی۔ اس طرح عوام کی کثیر تعداد نے ان شعبوں سے استفادہ کیا آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت زیر التوا درخواستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے خود احتسابی کے اصول پر عمل پیرا ہونے کے لئے سپریم جوڈیشل کونسل کو مزید متحرک کیا جا رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ خوداحتسابی کا یہ عمل یکطرفہ نہیں ہونا چاہے بلکہ دو طرفہ ہونا چاہئے بار کونسلز کی طر ف سے بھی اپنی ڈسپلنری کمیٹیوں کومتحرک کیا جا نا چاہئے اور کسی بھی شکایت کی صورت میں حقیقت پسندانہ طریقے سے قانون کے مطابق تادیبی کاروائی کرکے اس کا ازالہ کیا جانا چاہئے۔ اس و قت صورتحال یہ ہے کہ شاذونادر ہی کسی معاملے میں کارروائی ہوتی نظر آتی ہے حالانکہ ایک بڑی تعداد میں ایسی درخواستیں زیر التواءہیں۔ گزشتہ سال کے دوران دو انتہائی قابل احترام چیف جسٹس صاحبان جسٹس ناصرالملک اور جسٹس جواد ایس خواجہ کے علاوہ قابل احترام جج جسٹس اطہر سعید مدت منصبی کی تکمیل کے بعد عہدہ براء ہو گئے۔ اگرچہ آج وہ سب حضرات بنچ کا حصہ نہیں ہیں مگر ان کے فیصلے ہمیشہ ہمارے لئے مشعل راہ رہیں گے اور نہ صرف ہم بلکہ قانون کے شعبے سے تعلق رکھنے والے تمام افراد ان سے استفادہ حاصل کرتے رہیں گے۔ اسی اثناءمیں جسٹس مقبول باقر بطور جج سپریم کورٹ ہماری ساتھ شامل ہوئے۔ اس وقت جج صاحبان کی دو عہدے خالی ہیں ، ہماری کوشش ہو گی کہ ان کو جلداز جلد پر کیا جائے تاکہ مقدمات کی سماعت متاثر نہ ہو۔ قوانین کی موزونیت دیکھنے اور فراہمی انصاف میں لاءاینڈ جسٹس کمیشن کا اہم کردار ہے جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف مروجہ قوانین کا مسلسل جائزہ لے کر انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرے بلکہ قوانین کو عوام کی آگاہی کے لئے آسان فہم بنائے۔ کمیشن کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ نظامِ انصاف میں اصلاح اور انصاف کی فوری فراہمی کو ممکن بنانے کے لئے اپنی سفارشات پیش کرے۔ اس سلسلے میں متعلقہ قواعد میں ترمیم و اصلاح کے لئے سپریم کورٹ کے سابق جج صاحبان جسٹس میاں شاکراللہ جان اور جسٹس خلجی عارف حسین کی سربراہی میں کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جو جلد اپنی سفارشات کمیشن کے سامنے پیش کریں گے۔ بطور چیئرمین لاءاینڈ جسٹس کمیشن میری یہ کوشش ہو گی کہ عدالتی نظام کی اصلاح، بدعنوانی کے خاتمے اور عدلیہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لئے اصلاحات کے عمل کو تیز کیا جائے اور بہتر نتائج حاصل کئے جائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم فوری اور سستے انصاف کی فراہمی غیر جانبدارانہ فیصلے، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی کے لئے اپنی کوششوں کو جاری رکھیں گے اس سلسلے میں عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ اللہ رب العزت ہمیں اپنی ذمہ داریاں ایماندری، محنت اور لگن کے ساتھ عوام کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے ملک کے تمام اداروں کو استحکام نصیب فرمائے۔ نئے عدالتی سال کی تقریب سے پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اعظم نذیر تارڑ اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر فضل حق عباسی نے بھی خطاب کےا ۔