دہشت گردی ختم کرنے کے لئے شدت پسندوں کے مالی وسائل ختم کرنا ہو ں گے: چوہدری نثار

15 ستمبر 2015

اسلام آباد (ایجنسیاں) وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خاں نے ایف آئی اے کو ملک بھر میں انسانی سمگلنگ میں ملوث عناصر اور منظم گروہوں کیخلاف پولیس اور رینجرز کی مدد سے کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ غیر قانونی طور پر اور جعلی ویزوں کے ذریعے شہریوں کو ملک سے باہر بھیجنے والے ایجنٹوں اور سہولت کاروں کیخلاف بھی فوری ایکشن لیا جائے۔ وزیر داخلہ نے کہا انسانی سمگلنگ ، بچوں اور خواتین سے جبری مشقت، انسانی خرید و فروخت اور انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث عناصر نہ صرف ملک کی بدنامی کا باعث ہیں بلکہ معصوم اور ضرورت مند لوگوں کا استحصال کرتے ہیں۔غیر قانونی طور پر شہریوںکو بیرون ملک بھیجنے کے واقعات میں اکثر اوقات قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی خبریں نہایت قابل تشویش ہے۔ ایسے عناصر کسی قسم کی بھی رعایت کے مستحق نہیں اور ان کیخلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔ ایف آئی اے اس سلسلے میں ایک مربوط اور منظم حکمت عملی مرتب کرے اور آئندہ ایک ماہ میں اس کے واضح نتائج سامنے آنے چاہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں یہ امر نہایت ضروری ہے کہ پاک فغان بارڈر کے ذریعے غیر قانونی آمدورفت کو موثر طریقے سے کنٹرول کیا جائے۔ انسانی سمگلنگ سے متعلقہ معلومات اور شکایات کے لئے ہیلپ لائن کو مزید فعال کیا جائے۔ ایف آئی اے حکام نے انسانی سمگلنگ اور اسی نوعیت کے دیگر جرائم کے سلسلے میں کئے گئے اب تک کے اقدامات پر وزیرِ داخلہ کو بریفنگ دی۔ 2014-15 میں ایف آئی اے نے انسانی سمگلنگ میں ملوث 46 انتہائی مطلوب ملزم اور 1236اشتہاری مجرم کو گرفتار کئے گئے۔ اینٹی ہیومن ٹریفکنگ کیسز میں1679افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو معصوم لوگوں کو ملک سے باہر بھیجنے کا جھانسہ دے کر ان کی جمع پونجی ہتھیانے میں ملوث تھے۔ ایک اجلاس میں چوہدری نثار علی نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات پر قابو پانے اور دہشتگردوں کے نیٹ ورک توڑنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کے مالی وسائل کا مکمل طور پر سدباب کیا جائے اور دہشت گردوں کی مالی اعانت کرنے والوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفر کرادر تک پہنچایا جائے۔ دہشت گردی ختم کرنے یکلئے شدت پسندوں کے مالی وسائل کم کرنا ہونگے۔ ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ سٹیٹ بنک اور دیگر مالیاتی اداروں کے اشتراک سے دہشت گردوں کے مالی نیٹ ورک توڑنے کی کوششوں کو تیز کرے ۔وزیرِداخلہ نے کہا کہ دہشت گردوں کے مالی وسائل کا خاتمہ موجودہ فریم ورک میں نہیں کیا جا سکتا۔ صرف سٹیٹ بنک اور ایف ایم یو (فائینینشل مانیٹرنگ یونٹ) کی کاروائی کے ذریعے مطلوبہ مقاصد اور اہداف حاصل نہیں کئے جا سکتے۔ آئندہ دور میں ایک نیا مربوط نظام اور منظم حکمت عملی وضع کی جائے جس میں صوبائی حکومتوں، حساس اداروں اور ایف بی آر کو بھی شامل کیا جائے۔ دہشت گردوں کے مالی وسائل کے ذرائع، ترسیل کے مختلف طریقوں، سہولت کاروں اور صوبوںکے اعداد و شمار کا ڈیٹا بیس سامنے رکھتے ہوئے اس حکمت عملی کو وضع کیا جائے۔ دہشت گردوں کی مالی اعانت اور مالی نیٹ ورکس کا مسئلہ کسی ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی ایشوہے ۔ حکومت دہشت گردوں کے مالی وسائل کے خاتمے اور انکی ترسیل کے نیٹ ورک توڑنے کے لئے پر عزم ہے۔ دہشت گردوں کے مالی وسائل کا خاتمہ نیشنل ایکشن پلان کا ایک اہم جزو ہے او ر اس مقصد کے حصول کیلئے کوئی کسر روا نہیں رکھی جائے گی۔ اس سنگین مسئلے کا مکمل حل مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ روایتی اور غیر روایتی طریقوں کے ذریعے رقوم کی ترسیل پر کڑی نظر رکھی جائے اور بنکوں و دیگر مالیاتی اداروں کے تعاون سے کسی بھی مشکوک ٹرانزیکشن کی اطلاع پر فوری ایکشن کیا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ اس امر کو بھی یقینی بنایا جائے کہ رفاحی اداروں کی آڑ میں کوئی بھی دہشت گردوں کومالی معاونت فراہم نہ کر سکے۔ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے اجلاس کواس حوالے سے ایف آئی اے کی اب تک کی کارکردگی اور مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔