بلوچستان: 26 فراریوں نے ہتھیار ڈال دئیے، بی ڈی اے کے 6افسر لاپتہ، بم دھماکہ، اہلکار جاں بحق

15 ستمبر 2015

کوئٹہ+ نوشکی (بیورو رپورٹ) ایف سی ہیڈ کوارٹر نوشکی میں 26 فراریوں نے ہتھیار ڈال کر ملک سے وفاداری کا حلف اٹھا لیا۔ ہتھیار ڈالنے کی تقریب میں رکن بلوچستان اسمبلی میر کریم نوشیروانی اور ضلعی ناظم نوشکی نے شرکت کی۔ ہتھیار ڈالنے والوں میں بی ایل ایف کے 11‘ بی آر پی کے 14 اور بی ایس او آزاد کا ایک فراری شامل ہے۔ آن لائن کے مطابق خضدار کے علاقہ میں نامعلوم افراد کی کنٹینر پر فائرنگ سے دو افراد زخمی ہو گئے۔ بیورو رپورٹ کے مطابق افغان سرحدی علاقے مرغہ فقیرزئی سے بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دو انجینئر سمیت چھ افراد لاپتہ ہو گئے۔ ان کے اغوا ہونے کا خدشہ ہے۔ ذرائع کے مطابق بی ڈی اے کے انجینئر محمد اسلم اور زعفران مقامی ٹھیکیدار حاجی عصمت اللہ اس کے بیٹے فیصل، بخت نور اور سید محمد کے ہمراہ پاک افغان سرحدی علاقے مرغہ فقیرزئی میں ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے گئے تھے ابھی تک ان کا سراغ نہیں مل سکا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے نامعلوم ملزمان نے انہیں اغوا کر لیا ہے لاپتہ افراد کی لیویز نے تلاش شروع کر دی ہے جبکہ ایف سی نے سرحدی علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے۔ خضدار کی تحصیل نال کے علاقہ گریشہ میں اسسٹنٹ کمشنر نال کے گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک لیویز اہلکار جاں بحق اور ایک زخمی ہو گیا۔ حملہ آوروں اور لیویز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ دیر تک جاری رہا تاہم حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر خضدار بھی پہنچ گئے اور رات گئے تک حملہ آوروں کی تلاش جاری تھی۔ پنجگور شہر میں یکے بعد دیگرے 6 راکٹ فائر کئے گئے جبکہ خدا بادان میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ ہوا تاہم کسی قسم کی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ واقعات کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔