افغانستان: فوجی یونیفارم میں ملبوس طالبان کا جیل پر حملہ‘ 4 پولیس اہلکار ہلاک‘ 400 قیدی چھڑا لئے

15 ستمبر 2015

کابل (نیوز ایجنسیاں+ اے ایف پی) افغانستان میں فوجی یونیفارم میں ملبوس طالبان نے جیل پر حملہ کرکے 400 قیدیوں کو فرار کرادیا، حملے میں 4 پولیس اہلکار ہلاک اور3 زخمی ہوگئے، جوابی فائرنگ میں 7حملہ آور بھی مارے گئے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ذمہ داری قبول کرلی اور کہا 400 قیدی چھڑا لئے۔ جیل پر کنٹرول ہے۔ ایک حملہ آور نے جیل کے دروازے پر خود کو دھماکے سے اُڑا دیا جس کے بعد دیگر 5 حملہ آور دروازے توڑ کر جیل میں داخل ہوگئے۔ اندھا دھند فائرنگ کی افغان وزارت داخلہ کے مطابق جیل سے فرار ہونے والے قیدیوں میں سے 150 طالبان بھی شامل ہیں۔ گورنر محمد علی احمدی کے مطابق حملہ آور اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 4 پولیس اہلکار ہلاک جبکہ 7 حملہ آور بھی مارے گئے ۔ اے ایف پی کے مطابق 6 حملہ آوروں نے پہلے جیل کے مین گیٹ پر کار بم حملہ کیا راکٹ داغا اور پھر جیل میں داخل ہوگئے۔ نائب گورنر اور ترجمان نے وزارت داخلہ کے مطابق حملے میں سات پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ حملے کے بعد جیل میں اب صرف 81 فیصد ہیں 436 میں سے 355 بھاگ گئے جو سنگین جرائم میں ملوث تھے تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ فرار ہونے والی قیدی کون تھے اور وہ کہاں گئے ہیں۔خیال رہے کہ افغانستان میں اس سے قبل بھی جیلوں پر اسی نوعیت کے حملے کئے جا چکے ہیں 2011ء میں قندھار میں تقریباً 500 طالبان جنگجو جیل میں کئی سو میٹر سرنگ کھود کر فرار ہوئے تھے جبکہ جون 2008ء میں قندھار کی سرپوسا جیل میں خود کش حملے کے بعد 900 فیصد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔