وزیراعظم کی طرف سے بجلی بلوں میں عارضی فائدے کا اقدام ہائیکورٹ میں چیلنج

15 ستمبر 2015

لاہور (وقائع نگار خصوصی) وزیراعظم کی طرف سے بجلی کے بلوں میں عارضی فائدہ دینے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی متفرق درخواست میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ کاروباری شخصیات سے خطاب میں وزیراعظم نے قوم کو دھوکہ دیا کہ بجلی کے بلوں میں 2 روپے17 پیسے جون میں اور دو روپے 13پیسے جولائی کے مہینے میں فائدہ دے رہے ہیں یہ بالکل حقائق کے برعکس ہے۔ وزیراعظم کو بجلی کے بلوں میں کمی کا اختیار نہیں ہے جس کا فیصلہ نیپرا قوانین کے تحت کرنا ہوتا ہے۔ نیپرا وفاق کے ساتھ ملی ہوئی ہے عوام کو بجلی کے بلوں میں گذشتہ ماہ بھی کوئی فائدہ نہ ہوا جب تیل کی قیمتیں ناقابل حد یقین تک نیچے آچکی ہیں، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں بجلی کے بل میں فی یونٹ کمی کا ذکر نہیں کرتیں، سیلز ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹی اور مختلف سرچارجز کی مد میں پچاس فیصد سے زائد رقم وصول کرتی ہیں، غیرقانونی طور پر لگایا گیا سرچارج بارہ قسطوں میں وصول کیا جارہا ہے۔ 17 فیصد سیلز ٹیکس کی بجائے 44 فیصد سیلز ٹیکس عوام سے وصول کیا جا رہا ہے اگر یہ تمام ٹیکسز ختم کردئیے جائیں تو عوام کو بجلی سستی ملے گی۔ وفاقی حکومت اور نیپرا سے بجلی کی قیمتوں میں دئیے فائدے اور ٹیکسز کی تفصیل طلب کی جائے۔ وزیراعظم سے وضاحت لی جائے کہ ان کے پاس نیپرا کو ہدایات جاری کرنے کا اختیار کہاں ہے ۔