لبنان: ڈیوڈ کیمرون کا شامی پناہ گزینوں کے کیمپ کا دورہ‘ ہر ممکن مدد کی یقین دہانی

15 ستمبر 2015

ویانا‘ بڈاپسٹ (نیوز ایجنسیاں + اے ایف پی) آسٹریا نے مہاجرین کی آمد کے بحران کے باعث آسٹریا سے ہنگری جانے والی موٹروے بند کر دی۔ یورپی ممالک کی جانب سے بارڈر کنٹرول متعارف کرانے کے بعد اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی ایجنسی یو این ایچ سی آر نے یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی وضع کریں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ جن ممالک میں تارکین وطن پہنچ رہے ہیں وہاں ان کی سکریننگ کے مناسب انتظامات کئے جائیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سینئر اہلکار زید راد الحسین کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کے اندراج کے نظام کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے جہاں انسانی سمگلنگ کو روکنے میں مدد ملے گی وہیں مزید اموات سے بھی بچا جا سکے گا۔ ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوہان نے کہا ہے کہ ہمیں ترکی کی پناہ گزینوں کیلئے خدمات پر صدر طیب اردگان کیلئے ہر ہفتہ دعا کرنا چاہئے۔ آسٹریا کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے وہ فوج تعینات کرے گا اور ہنگری سے منسلک اپنی سرحد پر بارڈر کنٹرول کو سخت کرے گا۔ جرمنی نے آسٹریلیا سے ملحق سرحد کو عارضی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آسٹریا نے یہ فیصلہ جرمنی کی جانب سے بارڈر کنٹرول متعارف کرانے کے بعد کیا ہے۔ یورپی ممالک بڑی تعداد میں تارکین وطن کی آمد کے جاری سلسلے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ تارکین وطن کی اکثریت جرمنی جانے کی خواہاں ہے اور ایک اندازے کے مطابق رواں برس دس لاکھ تارکین وطن جرمنی پہنچیں گے۔ دریں اثناء برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اردن میں شامی پناہ گزینوں کے کیمپ کا دورہ کیا اور شاہ عبداللہ دوئم سے ملاقات کی۔ این این آئی کے مطابق ڈیوڈ کیمرون نے عہد کیا کہ ان بے گھر افراد کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ کیمرون نے کہا کہ عالمی برداری کی طرف سے زیادہ مدد سے یورپ کو مہاجرین کے مسئلے سے نمٹنے میں مدد مل سکے گی۔ یوڈ کیمرون نے اس دورے کے دوران لبنانی وزیراعظم تمام سلام سے ملاقات بھی کی۔ کیمرون نے شامی مہاجرین کی برطانیہ میں آباد کاری کے لیے رچرڈ ہیرنگٹن کو بطور خصوصی وزیر بھی تعینات کر دیا۔ آئندہ پانچ سالوں کے دوران بیس ہزار شامی مہاجرین کو برطانیہ میں پناہ دی جائے گی۔ کیمرون کے لبنان پہنچنے پر لندن حکومت نے یہ اعلان بھی کیا کہ شامی مہاجرین کی امداد کے لیے دی جانے والی 100 ملین پاؤنڈ کی امداد کس طرح خرچ کی جائے گی۔ حکومت اس مقصد کے لیے آئندہ تین سالوں کے دوران ساٹھ ملین پاؤنڈ کی رقوم فراہم کرے گی۔