فرشِ راہ دیدہ و دل

15 ستمبر 2015

اب کی بار تو ہمارے ایک لائیو کالر نے انتہا کر دی.... سسٹم کو رگیدا، عدلیہ پر ملبہ ڈالا، حکمرانوں کو بے نقط سنائیں اور پھر جنرل راحیل شریف کو خوش آمدید کرتے ہوئے عوام کی جانب سے ان کے استقبال کا اعلان کر دیا۔ مجھے سب سے زیادہ الجھن وقت ٹی وی کے صبح کے لائیو پروگرام کے حوالے سے ان کالر حضرات کے سوالات پر ہوتی ہے جو سیاستدانوں کو کوسنے کی ذمہ داری ادا کرنے سے پہلے عدلیہ کے لتّے لینا ضروری سمجھتے ہیں۔ اگر عدل گستری میں فوری انصاف کے حصول کے معاملہ میں عوام کے تحفظات بڑھ رہے ہیں تو ان کا ازالہ ضروری ہے مگر عدلیہ کی جانب سے کسی ملزم کی ضمانت کی منظوری پر بھی نظام عدل میں کیڑے نظر آنے لگیں تو ذمہ داروں کو بہرصورت کھوج لگانا چاہئے کہ نظام عدل کے ساتھ اس درجے کی بدگمانی کی نوبت کیوں آئی ہے۔ اگر سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ صاحب نے بھی جاتے جاتے اس حقیقت کو آشکار کر دیا ہے کہ عدالتی اور سیاسی نظام کی تباہی میں حکمرانوں، سیاستدانوں، وکلا اور ججوں سمیت سب کا ہاتھ ہے تو میں اس جیسے تیسے نظام عدل کی کب تک وکالت کرتا رہوں گا اور سلطانی¿ جمہور کے کیونکر ڈھنڈورے پیٹتا رہوں گا۔ میرا صرف یہ تجسس ہوتا ہے کہ جب تک مروجہ آئینی طریق کار کے مطابق ملک کے سیاسی اور عدالتی نظام کو تبدیل نہیں کیا جاتا، مروجہ سیاسی اور عدالتی نظام میں رہ کر ہی اس میں اصلاح کی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں مگر کسی ماورائے آئین اقدام کے تحت سسٹم کو الٹانے پلٹانے کی حمایت و وکالت سے بہرصورت گریز کرنا چاہئے کیونکہ ایسے اقدامات جنگل کے معاشرے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ مروجہ عدالتی نظام میں بے شک یہ تصور راسخ ہو چکا ہے کہ بے وسیلہ عام آدمی کے لئے انصاف کا حصول عملاً ناممکن ہے مگر دھن دھونس والوں اور زور آوروں کے لئے انصاف کے دروازے ہمہ وقت کھلے رہتے ہیں۔ اس میں ایک اذیت ناک تصور یہ بھی ہے کہ اپنے قانونی حقوق کے معاملہ میں دادا کے دائر کردہ کیس کی پیروی کی پوتے تک نوبت آ جاتی ہے مگر کیس کا فیصلہ پھر بھی صادر نہیں ہو پاتا۔ سیانوں نے تو یہ بھی کہہ رکھا ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے، پھر بھی مجھے لوگوں کے اس غصہ پر غصہ آتا ہے کہ عدالت نے فلاں سنگین جرم میں ملوث فلاں ملزم کو ضمانت پر رہا کیوں کر دیا ہے، اسے پھانسی کے تختے پر لٹکانے کا حکم کیوں صادر نہیں کیا، یہ غصہ درحقیقت انصاف میں ہونے والی تاخیر کے حوالے سے ہی پیدا ہوتا ہے جس کا اظہار کرنے والے حق بجانب بھی ہونگے کہ اپنے کسی ذاتی مقدمے میں انہوں نے انصاف کی تاخیر کے نقصانات اٹھائے ہوتے ہیں لیکن فوری انصاف سے یہ بھی تو ہرگز مراد نہیں کہ جس کے خلاف بھی کسی سنگین جرم کی ایف آئی آر کٹی ہو وہ عدالت میں پیش ہوتے ہی پھانسی پر لٹک جائے۔ اگر قانون نے کسی ملزم کو ضمانت کا حق دے رکھا ہے جس کی بنیاد پر اس کی جانب سے مجاز عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کی جاتی ہے تو عدالت کے پاس اس درخواست پر قانون کے تقاضے نبھانے کے سوا اور کیا آپشن رہ جاتا ہے مگر نظام عدل میں بے اعتنائی و بے انصافی کا شکار ہونے والے افراد کو کسی قانونی موشگافی اور قانونی و آئینی تقاضے سے کوئی سروکار نہیں، ان کے ذہن نے جس ملزم کو مجرم کے طور پر قبول کیا ہوا ہے وہ اس کی ضمانت سمیت اس کے ساتھ عدالتی عمل میں کسی رعایت کو قبول نہیں کر پاتے اور سارا ملبہ عدالت پر ڈال دیتے ہیں۔ یہ سوچ ہمارے معاشرے کے مظلوم و بے وسیلہ طبقات میں بطور خاص اس موقع پر اس لئے پیدا ہوئی ہے کہ نامعلوم فوجی عدالتوں کے نام پر ملزمان کی سزائے موت کے جاری شدہ فیصلے منظر عام پر آنا شروع ہو گئے ہیں تو اس عمل کے ساتھ ہی فوری انصاف کا تصور باندھ لیا گیا ہے چنانچہ مروجہ عدالتی نظام میں ملزمان کی ضمانتیں لینے، انہیں بری کرنے یا ان کے مقدمات کی سماعت سے معذوری ظاہر کرنے والے فاضل ججوں میں بشری کمزوریوں کا بھی پہلو نظر آنے لگتا ہے اور ویسے بھی ہمارے کیچڑ اچھالو کلچر میں کسی کی ذات پر انگلیاں اٹھانا اور گند اچھالنا آسان ترین کام بن گیا ہے کیونکہ اس میں قانونی پکڑ کے کسی تصور کی نشوونما ہی نہیں ہونے دی گئی۔ اگر حکمران طبقات خود ہی اپنے مخالف سیاستدانوں اور اپنی منشاءکے برعکس فیصلہ صادر کرنے والے فاضل ججوں کو عامیانہ لہجے میں رگیدتے نظر آئیں گے اور آئین و قانون کی عملداری کو خاطر میں نہیں لائیں گے تو آئین و قانون کے تقاضوں سے نابلد عوام الناس سے آئین و قانون اور انصاف کی پاسداری کی کیا توقع کی جا سکتی ہے مگر ذرا ٹھہریئے! اور ذرا سوچ لیجئے کہ عام آدمی کے ذہن میں عدلیہ کی بھد اڑانے اور سیاستدانوں کو ہر گند کا ذمہ دار ٹھہرانے کی سوچ کیوں پیدا ہوئی ہے، اس کا جواب تو سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب جواد ایس خواجہ نے بخوبی دیدیا ہے کہ سیاسی اور عدالتی نظام کی خرابیوں کے ہم سب ذمہ دار ہیں۔ پھر جناب میں کون ہوتا ہوں مروجہ عدالتی اور سیاسی نظام کی وکالت کرنے والا۔ قانون اور آئین کی عملداری کی بات تو اس معاشرے میں قابل قبول ہو سکتی ہے جسے قانون اور آئین کے مطابق چلایا جا رہا ہو مگر جہاں ہر ایک نے اپنی من مانی کی ٹھان رکھی ہو، اپنے فائدے سمیٹنے کا دل میں سودا سما رکھا ہو اور قومی دولت و وسائل کی لوٹ مار اپنا استحقاق بنایا ہوا ہو، اس معاشرے میں آئین، قانون اور انصاف کی عملداری کا تقاضہ کرنا بلاشبہ بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔ سو نسل در نسل انصاف کے متلاشی لوگوں کو آج نامعلوم فوجی عدالتوں کے ذریعے آئین و قانون کی عدم پاسداری میں بھی انصاف ہوتا نظر آ رہا ہے جس پر وہ ذاتی طور پر مطمئن ہیں تو ہم مروجہ عدالتی نظام کے جنازے کو کندھا دیکر کہاں تک اور کب تک اٹھائے چل سکتے ہیں۔ آج عوام آئین و قانون کے تقاضوں کے مطابق مروجہ نظام میں انصاف کی فراہمی کے عمل سے مطمئن نہیں ہیں اور کسی ملزم کی ضمانت پر بھی برافروختہ ہو کر نامعلوم فوجی عدالتوں کے انصاف کے طریقہ کار کی ستائش کرتے نظر آ رہے ہیں اور ہر معاملہ میں اسی انصاف کو لاگو کرنے کے متمنی ہیں تو یہی انقلاب کی جانب اٹھنے والے ان کے قدموں کی نشاندہی ہے۔ اور انقلاب کسی آئین، کسی قانون اور ان کے ماتحت انصاف کے کسی تقاضے کی پرواہ نہیں کرتا، اس کا تھپیڑا چلتا ہے تو راستے میں آنے والی ہر چیز کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جاتا ہے۔ اگر آج انصاف سے محروم اور ہر طرح کے مسائل کا شکار عوام کو انقلاب کا تھپیڑا جنرل راحیل شریف کے قدموں کے ساتھ رواں ہوتا نظر آ رہا ہے تو آئین و قانون کے تقاضوں کے مطابق تبدیلی اور اصلاح کے متمنی ہم جیسے لوگوں کی دال کہاں گل سکتی ہے کہ خود جسٹس جواد ایس خواجہ اس دال کو گلانے کے قائل نظر نہیں آتے۔ اس لئے ”میرے عزیز ہم وطنو“ آیئے، تشریف لائیے۔ قوم آپ کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کئے بیٹھی ہے۔