نندی پور پاور پراجیکٹ پر پیپلز پارٹی کی تنقید نے حکومت کو پریشان کر دیا

15 ستمبر 2015
نندی پور پاور پراجیکٹ پر پیپلز پارٹی کی تنقید نے حکومت کو پریشان کر دیا

سینیٹ کا 119واں سیشن شروع ہو گیا، یہ اجلاس رواں ہفتے جاری رہے گا ،چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے حسب معمول مقررہ وقت شروع کیا اور نماز مغرب کی اذان سے چند لمحات قبل اجلاس منگل کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی ہو گیا پیر کو سینیٹ میں نجی کارروائی کا دن تھا جب چیئرمین سینیٹ اجلاس کا ایجنڈا نمٹا چکے تو انہوں نے ارکان کو پوائنٹ آف آرڈرز پر کھل کربات کرنے کا مو قع فراہم کر دیا یہ بات خاص طور نوٹ کی گئی ہے پیر کو قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن حکومت پر ’’چڑھائی‘‘ کرنے کے لئے ایوان میں آئے تھے لیکن ایوان میں انہیں اسی لب و لہجہ میں جواب نہیں دیا جس میں وہ گفتگو کر رہے تھے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چوہدری تنویر خان اپنی نشست پر پہلو بدلتے رہے لیکن پارٹی لائن معلوم نہ ہونے پروہ کوئی جواب نہ دے سکے، انہوں نے اجلاس کے اختتام پرنوائے وقت کے استفسار پر کہا کہ ہم پیپلز پارٹی کی تنقید کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں صرف گرین سگنل کا انتظار ہے، سینیٹ میں قائد ایوان راجہ محمد ظفر الحق کی اہلیہ کی وفات کی وجہ سے تعزیت کے لئے آنے والوں کا تنتا بندھا ہوا لہذا وہ فی الحال ایوان میں نہیں آسکیں گے پیر کو وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب اپنی بساط کے مطابق اپوزیشن کی طرف سے اٹھائے معاملات کا جواب دیتے رہے ،ایوان میں وزراء کی حاضری نہ ہونے کے برابر تھی یہی وجہ ہے نندی پور پاور پراجیکٹ کے حوالے سے تنقید کا جواب دینے کے لئے کوئی وزیر نہ تھا ،شیخ آفتاب اپنے مزاج کے مطابق میں دھیمے انداز میں جواب دیتے ہیں اور وہ ایوان کا ماحول بھی مقدر نہیں بناتے لیکن اگر چوہدری اعتزاز احسن نے جس انداز میں گفتگو کی کوئی وزیر ہوتا تو ترکی بہ ترکی جواب دے دیتا بظاہر پیپلز پارٹی نے ’’مفاہمت‘‘ کا چولا اتار پھینکا ہے اب وہ عوام کے سامنے سرخ رو ہونے کے لئے حکومت کو ’’ٹف ٹائم ‘‘ دینا چاہتی ہے سینیٹر مشاہد اللہ خان وزارت سے ہاتھ دھونے کے بعد بیرون ملک چلے گئے ہیں اس لئے اب ایوان میں پیپلز پارٹی کو آڑے ہاتھوں لینے والا کوئی نہیں ،سینیٹر چوہدری تنویر پیپلز پارٹی کا ادھار اترنا چاہتے ہیں لیکن وہ پارٹی کی قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں وہ ہر روز پوری تیاری کر کے ایوان میں آتے ہیں جب بھی طبل جنگ بجا وہ صف اول میں کھڑے ہوں گے ۔سینیٹر محمد عثمان کاکڑ نے پنجاب پولیس کے پختون دشمن روئیے پر ایوان سے واک آئو ٹ کی دھمکی دی چیئرمین میاں رضا ربانی اور قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن کی یقین دہانی پر انہوں نے واک آئوٹ کا فیصلہ واپس لے لیا۔ ایوان میں پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کی جانب سے پیش کی گئی ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس پر دئیے ہوئے فیصلوں پر نظرثانی کا حق ہونا چاہیے، ایوان بالا میں ملک بھر میں بند پڑے صنعتی یونٹوں کی بحالی کیلئے کارپوریٹ بحالی بل 2015 اور کراچی، لاہور، اسلام آباد سٹاک ایکسچینجوں کو یکجا کرنے کے بل 2015 اور خیبرپختونخوا حکومت کی جانب بھجوائے گئے 24مطالبات میں 9 مطالبات کے حوالے سے مجالس قائمہ برائے خزانہ اور پانی و بجلی نے اپنی رپورٹیں سینیٹ میںپیش کردی گئیں ۔سینیٹ آف پاکستان نے سینیٹر مشاہد حسین کا پیش کردہ پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 1997ء میں مزید ترمیم کا بل 2015ء اور سینیٹر ثمینہ عابد کا ورکن وویمن(حقوق تحفظ) بل 2015 مزید غور کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دیاچیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے فاٹا میں سیاسی اصلاحات کیلئے پیش کی گئی تحریک پر قبائلی عمائدین کی رائے لینے کیلئے پورے ایوان کمیٹی کو بھجوا دی، پورے ایوان کی کمیٹی ارکان سینیٹ اور تمام سٹیک ہولڈروں کے آراء کی روشنی میں اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔ سینیٹر میر کبیر احمد محمد شاہی اور سینیٹر محسن عزیز کی آغاز حقوق بلوچستان پیکج پر عملدرآمد کی موجودہ صورتحال اور گھریلو تجارتی و صنعتی گیس ٹیرف میں گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس شامل کرنے کے معاملے پر بحث کی تحاریک بھی منظور کرلیں پیر کو سینیٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے اثاثہ جات اور قرضوں کی تفصیل کے گوشواروں کی جانچ پڑتال اور تصدیق کرائی جائے جبکہ غلط معلومات فراہم کرنے والے ارکان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ تحریک انصاف کے سینیٹر محمد اعظم سواتی نے مذکورہ قرار داد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے الیکشن میں ہر سال اپنے اثاثہ جات ،آمدن و خرچ اور قرضوں کی تفصیل پر مبنی گوشواروں کی جانچ پڑتال اور تصدیق کیلئے طریقہ کار وضع کیا جائے اور غلط بیانی کی صورت میں انہیں سزا دی جائے۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے قرار داد پیش کی کہ حکومت آئین کے آرٹیکل 184کی شق نمبر 3 کے تحت درج مقدمات اور ان کے فیصلوں پر نظرثانی کیلئے مناسب قانون سازی کرے جبکہ بلوچستان کے سینیٹر سردار محمد اعظم موسیٰ خیل نے قرار داد پیش کی کہ بلوچستان کے اضلاع ژوب اور موسیٰ خیل میں بچھائی گئی 33 کلو واٹ کی ٹرانسمیشن لائن کو 132 کے وی کی ٹرانسمیشن لائن سے تبدیل کیا جائے کیونکہ یہ بجلی کا لوڈ برداشت کرنے سے قاصر ہے۔ ایوان نے تینوں قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرلیں۔