چسکہ بھری کہانیاں، رحم کیجئے رحم

15 ستمبر 2015

آج کے کالم کا آغاز ہی معذرت سے کرنا ہوگا۔ پیر کی صبح جو ”برملا“ شائع ہوا اس میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے اولیں دورمیں مشہور ہوئے کھلاڑی جنہیں پیار سے ان کے دوست Merry Maxکہا کرتے تھے۔ مسعود نہیں مقصود تھے۔ مقصود احمد، جو 90رنز بنالینے کے بعد بھی اکثر سنچری تک پہنچنے سے پہلے آﺅٹ ہوجایا کرتے تھے۔ ساتھی محمد صالح ظافر کا شکریہ جو میرے بیدار ہونے سے پہلے ہی ایک ایس ایم ایس بھیج کر تصحیح فرماچکے تھے۔

اصل شکوہ مگر سننے اور پڑھنے کو یہ ملا کہ ایاز امیر کے وہ خیالات بیان کیوں نہ کئے جن سے مجھے اختلاف ہے۔ ”ہاکیوں والوں“ سے اتنا خوفزدہ ہوں تو پھر ان کا ذکر ہی کیوں۔ لوگ سچ اور مکمل سچ جاننا چاہتے ہیں۔ اسے بیان کرنے کی توفیق نہیں تو اپنی بزدلی کا رونا کیوں روتے ہو۔ عاجزوں کی معذوری ہر وقت رحم کی مستحق نہیں ہوتی۔ سچ لکھنے سے گھبرانے والے اگر کوئی اور دھندا اختیار کرنے کے قابل نہیں رہے تو اپنی بزدلی کے اشتہار چھاپ کر رحم کی بھیک تو نہ مانگیں۔
اعتراض بہت معقول مگر میری ”بکل دے وچ چور“ جسے لکھ کر رزق ہی نہیں کمانا بلکہ تھوڑی مشہوری بھی درکار ہے تاکہ بینک جاﺅں تو قطار میں کھڑا نہ ہونا پڑے اور صحافت ہماری بہت آزاد ہوچکی ہے۔ عراق پر جنگ مسلط کرنے سے پہلے امریکہ کے ہم سے کہیں زیادہ ”آزاد“اخبارات نے صدام حسین کے ایٹمی اور کیمیاوی ہتھیاروں کے بارے میں جو شوروغوغا برپا کیا تھا اسے چند محققین نے Manufactured Consensus کا نام دیا تھا۔ آپ کی آسانی کے لئے میں اسے کھرا سچ نہیں ”گھڑا سچ“ کہہ لیتا ہوں۔ اس سچ کے بارے میں سوالات نہیں اٹھائے جاتے۔ آمنا وصدقناکہہ کر سرجھکا لیا جاتا ہے۔
میری گردن کے دو مہرے مگر اپنی جگہ سے ہلے ہوئے ہیں۔ سرکو فوراََ جھکانے کی کوشش کروں تو بہت درد ہوتا ہے۔ احتیاط میں کچھ وقت لگتا ہے۔ احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایاز امیر کے صرف اس کالم کا ذکر جو گزشتہ جمعہ کے روز انگریزی میں شائع ہوا۔ ایک دن بعد اس کا اُردو ترجمہ بھی مجھ ایسے جاہلوں کی سہولت کے لئے چھاپ دیا گیا تھا۔
ایاز صاحب نے اپنے اس کالم میں بہت بیزاری کے ساتھ سوال یہ اٹھایا کہ نواز شریف جو پاکستان کے وزیر اعظم کہلاتے ہیں ہر دوسرے روز جنرل راحیل شریف کو ا پنے دفتر بلاکر طویل اجلاسوں میں فضول باتیں سننے کیوں بلالیتے ہیں۔ انہیں اندازہ نہیں کہ ہماری مسلح افواج کے سربراہ ان دنوں ہماری بقاءکی جنگ میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ ان کی توجہ فضول باتوں کی طرف کیوں مبذول کی جارہی ہے۔
ایاز امیر اگر یہ سوال اٹھانے تک ہی محدود رہتے تو شاید میں بھی ان کا ہم نوا ہوتا۔ حیران میں اس وقت ہوا جب ایاز صاحب نے اس شبے کا یقین کی حد تک اظہار بھی کردیا کہ شاید جنرل صاحب کی بے پناہ مقبولیت سے گھبراکر نواز شریف انہیں اپنے ساتھ اجلاسوں میں بٹھا کر لوگوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ انہیں آرمی چیف کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔
میں نے ایاز صاحب کی اس توجیح کو سنجیدگی سے اس لئے لیا کہ میں نواز شریف کی شخصیت اور نفسیاتی کمزوریوں سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوں۔ ایاز صاحب اس ضمن میں مجھ سے کہیں زیادہ باخبر ہیں۔ 1997ءکے انتخابات میں نواز شریف کی جماعت سے ٹکٹ لے کر وہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ اگرچہ شہباز صاب کے رویے نے انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا تھا مگر 2002ءمیں انتخابات ہوئے تو ایاز امیر نے قومی اسمبلی تک پہنچنے کے لئے رجوع دوبارہ شریف برادران سے کیا۔ 2013ءمیں بھی ان کی خواہش اسی جماعت سے ٹکٹ لے کر ایک بار پھر قومی اسمبلی تک پہنچنا تھی۔ بُرا ہو مگر اس ریٹرننگ افسر کا جسے آئین کے 62/63والے قواعد یاد آگئے اور شریف برادران نے مجید ملک کے داماد کو آگے بڑھاکر جان بچائی۔
اپنے ذاتی تجربے اور مشاہدے کی بناءپر ایاز امیر، نواز شریف کی نفسیاتی کمزوریوں سے یقینا مجھ سے کہیں زیادہ واقف ہوں گے۔ اسی لئے ان کے کالم میں لکھی باتوں کو میں نے بہت سنجیدگی سے لیا۔
میں شاید ایاز امیر کے لکھے کو برحق جان کر بھول جاتا مگر چند ہی روز پہلے حنیف جالندھری صاحب نے ایک طویل مضمون اخباروں کے لئے لکھ ڈالا۔ اس مضمون میں روداد بیان ہوئی تھی اس اجلاس کی جو وزیر اعظم نے قومی ایکشن پلان کو مزید مو¿ثر بنانے کے لئے مدارس پر توجہ دینے کے عمل کو ممکن اور آسان بنانے کے لئے طلب کیا تھا۔ آرمی چیف وہاں بھی موجود تھے۔
جالندھری صاحب کا دعویٰ ہے کہ اس اجلاس میں ایک موقع پر شرکا کو بتایا گیا کہ بات جلد مکمل کی جائے کیونکہ جنرل صاحب کی دیگر مصروفیات بھی ہیں۔ یہ بات سن کر آرمی چیف نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا کہ انہیں کوئی جلدی نہیں۔ علمائے کرام اپنے تحفظات اور تجاویز اطمینان سے بہت تفصیل کے ساتھ بیان کریں۔
جالندھری صاحب کے مضمون سے مجھے تو معلوم یہ ہوا کہ وزیر اعظم کے طلب کردہ اجلاسوں میں قومی ایکشن پلان سے متعلقہ افراد اپنی بات آرمی چیف کے گوش گزار کرنا چاہتے ہیں۔ نواز شریف اسی لئے ا ٓرمی چیف کو ان اجلاسوں میں بلانے پرمجبور ہیں۔ وسیع تر تناظر میں اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے باہم مل کر لڑنا ہے تو اتمام حجت کے لئے متعلقہ افراد کی آرمی چیف کے روبرو گفتگو کو ممکن بنانا اچنبھے کی بات نہیں۔ دہشت گردی پر مو¿ثر انداز میں قابو پانے کے لئے بلکہ ایسے مواقعے مسلسل فراہم کرتے رہنا چاہیے۔ ہم مگر Either/orکے جنون میں مبتلا ہوکر دل بڑا کرنے کو تیار ہی نہیں ہوپارہے۔
حقائق خواہ کتنے ہی تلخ کیوں نہ ہوں انہیں تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ کوئی پسند کرے یا نہیں، پاکستان کی مسلح افواج کا سربراہ بہت طاقت ور ہوتا ہے۔ سیاست دانوں کے پاس وہ قوت، اختیار او روقار ہرگز موجود نہیں جو فرض کرلیا جاتا ہے۔
میری بات سمجھنا ہو تو یاد کریں ریاض پیرزادہ صاحب کو۔ موصوف سرائیکی بیلٹ کا ایک معروف اور طاقتور نام ہیں۔ خاندانی بھی مانے جاتے ہیں۔ ان کے والد کو جو اپنے تئیں ایک تگڑے آدمی تھے آج سے کئی دہائیاں قبل فرقہ وارانہ دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اپنے والد کے قتل کے بعد ریاض پیزادہ، 2002ءسے 2013ءتک ہوئے ہر انتخاب میں حصہ لے کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے چلے آرہے ہیں۔ ان کی ساکھ اور وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے 2002ءسے 2013ءتک منتخب ہونے والے ہر وزیر اعظم نے انہیں اہم عہدے بھی دئیے۔ ان دنوں بھی بین الصوبائی امور کی وزارت ریاض پیرزا دہ کے پاس ہے۔
2002ءسے ہر حکمران جماعت کا اہم حصہ ہوتے ہوئے بھی ریاض پیرزادہ صاحب اپنے والد مرحوم کے قاتلوں کو گرفت میں نہ لاسکے۔ بالآخر ان کے والد کے مبینہ قاتلوں سے چند ماہ قبل حساب برابر ہوا ہے۔ ایوان صدر میں نئے چیف جسٹس کی حلف برداری کی تقریب میں چائے کے وقفے کے دوران ریاض پیرزادہ صاحب نے بڑی دیانت اور خلوص سے جنرل راحیل شریف کا اس ضمن میں شکریہ ادا کیا۔ اس شکریے کو حقائق کے تناظر میں رکھ کر سمجھا جانا چاہیے۔ Either/orکے جنون میں چسکہ بھری کہانیاں گھڑنا موجودہ حالات میں ناقابلِ معافی ہیں۔ پاکستان ان کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ رحم کیجئے رحم۔

ووٹ کی قدر کیجئے

آج کل سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ووٹ کی قدر بہت یاد آ رہی ہے ۔جمہوری شخصیت ...