کیا بلاول ہائوس بحریہ ٹائون کا نام پنجاب ہے؟

15 ستمبر 2015

بلاول بھٹو زرداری سندھ حکومت کو بالکل ٹھیک کر کے بلکہ راہ راست پر لا کے پنجاب آتے تو ان کی باتوں میں زور ہوتا اور ان کے تنقیدی حملے جائز ہوتے۔ سندھ کو ٹھیک کرنے کی اجازت اسے ’’صدر‘‘ زرداری سے لینا پڑے گی۔ اجازتوں کے ساتھ سیاست نہیں ہو سکتی تو قیادت کس طرح ہو گی۔ بلاول کا پنجاب آنا بڑی بات ہے۔ کئی بار یہاں آنا منسوخ ہوا۔ سکیورٹی کے نام نہاد خدشات بتائے گئے۔ 2013ء کے الیکشن میں پنجاب سے دبئی کی طرف کسی ’’سیاسی خط‘‘ کی طرح بھیج دیاگیا تھا۔
اب وہ آتے ہیں تو ان کے ساتھ ’’صدر‘‘ زرداری والی سکیورٹی ہے۔ شہید بے نظیر بھٹو کے ساتھ بھی زرداری صاحب والی سکیورٹی ہی تھی۔ ان کے چیف سکیورٹی افسر بہت ’’کامیاب‘‘ رہے تو اس صلے میں اسے پورے ملک کا چیف سکیورٹی افسر لگا دیا گیا۔ کبھی شیر تو کبھی وزیر؟ وزیر اور شیر میں فرق بٹ گیا۔ رحمن ملک شیر تھے تو وزیر داخلہ کوئی نہ تھا۔ وہ وزیر تھے تو شیر کوئی نہ تھا۔ ایک آدمی تھا خالد شہنشاہ۔ وہ امریکہ میں زرداری صاحب کی گاڑی چلاتا تھا۔ اسے بھی شہید بی بی کی سکیورٹی میں شامل کر دیا گیا تھا۔ بی بی کے تقرر کے دوران اس کی ’’مخصوص‘‘ اشارہ بازی سے لوگ محظوظ ہوئے اور مشکوک بھی ہوئے۔ اس بے چارے کو بعد میں قتل کروا دیا گیا۔ اس کے لیے بھی بی بی کے قتل کی کوئی تفتیش نہیں ہونے دی گئی۔ تفتیش تو مرتضیٰ بھٹو کے قتل کی بھی نہیں ہوئی تھی۔ شہید بی بی وزیراعظم تھی۔ شہید بے نظیر بھٹو کا اب ارادہ تھا کہ وہ اقتدار میں آ کے بھائی کے سرکاری قتل کی تفتیش کرائیں گی۔ وہ خود قتل ہو گئیں اور اقتدار میں زرداری صاحب آ گئے۔ کوئی تفتیش نہ ہونے دی گئی۔
سنا ہے بلاول پیپلز پارٹی کی تنظیم نو کریں گے۔ مگر وہ ’’صدر‘‘ کے مقرر کردہ کسی بندے کو ہلا نہیں سکتے۔ کچھ بات تو اڑتے اڑتے سامنے آئی ہے کہ پنجاب کے پارٹی صدر منظور وٹو کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔ خوشی ہوئی کہ کام چل پڑا ہے۔ منظور وٹو سے ایک سرسری سا تعلق ہے۔ اسے جیالے نامنظور کر چکے ہیں مگر وہ ’’صدر‘‘ زرداری کا منظور نظر ہے تو اسے کیا خطرہ ہے؟ اس کے ساتھ جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود کو بھی ہٹانے کی خبر آ رہی تھی۔ بڑا دکھ ہوا۔ پنجاب میں پارٹی کی واحد سیٹ مخدوم صاحب کے بیٹے کی ہے۔ جو انہوں نے بلاول کے لیے چھوڑنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ اچھے لوگوں کے لیے یہ ’’سیاسی‘‘ سلوک بڑی ’’تبدیلی‘‘ کا پیش خیمہ ہو گا۔ بلاول کو مبارک ہو۔ بلاول کی کامیابی میں ’’صدر‘‘ زرداری کی مداخلت نقصان دہ ہو گی۔ ان کی حوصلہ افزائی اور نیک تمنائیں ضروری ہیں۔
تبدیلیاں صرف پنجاب پیپلز پارٹی کے لیے ہوں گی؟ یہ ابتدا سندھ پیپلز پارٹی سے ہوتی تو اچھا تھا۔ یہ خبر ہے کہ سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کو بھی تبدیل کیا جا رہا ہے۔ شاہ صاحب کو تبدیل کرنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں ہے۔ کیا اسے وزیراعلیٰ لگانے سے پہلے پارٹی کے چیئرمین بلاول سے پوچھا گیا تھا۔ وہ یقیناً اس کے حق میں نہ ہوتے۔ اس لیے ان سے پوچھا ہی نہیں گیا۔ سندھ پیپلز پارٹی میں ایک بھی شخص نہیں ہے۔ اس کے لیے مخدوم احمد محمود نے ایک بار برادرم عبدالقادر شاہین کی موجودگی میں کہا تھا کہ سندھ پیپلز پارٹی میں شاہ صاحب سے زیادہ دیانتدار کوئی نہیں ہے۔ بہت تہذیب یافتہ فعال اور پیپلز پارٹی کے لیے ایک نعمت اور وفا حیا والی شہلا رضا نے بھی اس کی تائید کی ہے تو پھر قائم علی شاہ کی کابینہ میں وزیر شذیر شرجیل میمن کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جنرل ضیاالحق پر بھی کرپشن کوئی الزام نہیں ہے مگر اس کے ساتھ؟ یہ اصول بے اصولی سے کم نہیں ہے۔ وہاں ایک جیالا بول پڑا۔ پنجاب میں وزیرتعلیم رانا مشہود کے لیے کیا خیال ہے؟ اب کس کی ہمت ہے کہ ان کا موازنہ کرے۔ کسی کو کمتر کہا تو وہ ناراض ہو جائے گا۔
ایک منظر نے مجھے بہت بیزار کیا کہ کئی جگہ پر بلاول کے ساتھ راجہ ریاض اور تنویر اشرف کائرہ نظر آئے۔ راجہ صدر اور کائرہ جنرل سیکرٹری تھے۔ تنویر اشرف کائرہ کے لیے مجھے ہمیشہ یہ سوچ آتی ہے کہ اتنا خاموش طبع غیرفعال اور میسنا آدمی قمرالزمان کائرہ کا رشتہ دار ہو سکتا ہے؟ قمرالزمان کائرہ بولتا تو بہت ہے اور آج کل کچھ زیادہ ہی بول رہا ہے جس پر کبھی غیرضروری اور غیرسیاسی ہونے کا گماں گزرتا ہے۔ جہاں تک راجہ ریاض کا تعلق ہے تو ایسے آدمی بھی وزیر ہو سکتے ہیں۔ شیری رحمان بھی بلاول کے ساتھ پائی جاتی ہیں۔ سندھ کے بعد پنجاب پیپلز پارٹی کا اللہ حافظ ہے۔ اسلام آباد میں شہلا رضا بلاول کے ساتھ تھیں تو کچھ حوصلہ ہوا تھا۔ پیپلز پارٹی کے لیے نعمت جیسے شخص رانا آفتاب کی ملاقات بھی بلاول سے ہوئی تھی۔ میرا خیال ہے کہ اس کے لیے شوکت بسرا اور شہلا رضا کی سوچ بھی فیصلے میں شامل ہو گی۔ پیپلز پارٹی کی محبت میں اپنے گھر میں بیٹھے لوگ آئیں گے تو بات بنے گی۔ منور انجم بھی ان میں سے ایک جوان ہیں۔ جس کی وفا اور صلاحیت پر کوئی شک نہیں کیا جا سکتا۔ رانا آفتاب پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر تھے تو پیپلز پارٹی واقعی ایک سیاسی پارٹی نظر آتی تھی۔ رانا صاحب ممبر اسمبلی اور وزیر بھی رہے ہیں۔ وہ پیپلز پارٹی کا اچھا تعارف ہیں۔
بلاول کو پنجاب کے حوالے سے جس شخص نے بریفنگ دی وہ رینٹل وزیراعظم راجہ پرویز اشرف ہیں۔ نجانے اس سے کس سلسلے میں بریفنگ بلاول کو دی ہو گی۔ یوسف رضا گیلانی بھی آج کل ’’سرگرم‘‘ ہیں۔ کرپشن کے مقدمات بننے کے بعد دونوں وزیراعظم پھر فنکشنل ہو گئے ہیں۔ دونوں ’’صدر‘‘ زرداری کے وزیراعظم تھے۔ ان کے لیے ڈاکٹر عاصم جیسی بے قراری ’’صدر‘‘ زرداری کو نہیں ہوئی۔ یہ بے قراری نواز شریف کے لیے سرشاری بن گئی اور انہوں نے گرفتاری نہیں ہونے دی۔ پنجاب کے جیالے بہت شدت سے بلاول کا انتظار کر رہے تھے۔ وہ اب ایک دوسرے سے پوچھتے پھرتے ہیں کہ کیا بلاول واقعی واپس چلے گئے ہیں۔ واپس نہیں گئے۔ وہ دبئی ’’صدر‘‘ زرداری کے پاس چلے گئے ہیں۔ وہاں وہ سب لوگ ہوں گے جن سے ’’صدر‘‘ زرداری اپنے بیٹے کو ملوائیں گے جس کے وہ ’’جانشین‘‘ ہیں۔ کبھی سنا ہے کسی نے کہ کوئی باپ اپنے بیٹے کا ’’جانشین‘‘ ہو۔ پھر انہوں نے اپنے آپ کو پارٹی کا شریک چیئرمین کیوں بنایا۔ وہ ڈپٹی چیئرمین بھی تو ہو چکے تھے۔ مگر ڈپٹی کوئی مناسب لفظ نہیں ہے۔ اس پر خواہ مخواہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ پھر رشتہ داری اور حصہ داری میں ایک شریکہ بھی ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ’’صدر‘‘ زرداری سے بہتر کون جانتا ہو گا۔
میری خواہش ہے کہ پیپلز پارٹی کے اچھے لوگوں کو بلاول کا ساتھ دینے کا موقع ملنا چاہیے تاکہ لوگوں کو یقین آئے کہ پیپلز پارٹی میں اچھے لوگ بھی ہیں۔ زرداری صاحب صدر پاکستان کے منصب پر فائز ہوئے۔ اب اس کے بعد کیا رہ جاتا ہے مگر مجھے یاد ہے کہ آزاد کشمیر کے صدر مرحوم برادرم عبدالقیوم وزیراعظم آزاد کشمیر بن گئے تھے؟ اللہ ان کی مغفرت کرے۔ آخر میں صرف ایک جملہ بڑے ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ کہ بلاول ہائوس بحریہ ٹائون کا نام پنجاب ہے۔ جبکہ ملک ریاض بھی اب سندھ میں شفٹ ہو چکے ہیں۔