مجھے کہنا ہے کچھ اپنی زباں میں

15 ستمبر 2015

آج مجھے دو موضوعات کو سمیٹنا ہے۔ پہلے تو اردو زبان کے حوالے سے بات ہوجائے۔ جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ جاتے جاتے تاریخی کارنامہ رقم کرگئے، ورنہ اس ملک میں اردو دشمنوں کی بھی کچھ کمی نہیں۔ خود کو مہذب، تعلیم یافتہ اور بڑے خاندان کا ثابت کرنے کیلئے لوگ اردو میں بات چیت کرتے ہیں تاکہ دوسروں پر اچھا تاثر قائم کیا جاسکے۔ یہ لوگ خواہ سندھی، پنجابی، بلوچی، سرائیکی، پشتو بولنے والے ہوں یا انکی مادری زبان خواہ کوئی بھی ہو۔ یہ سب گھروں، سکولوں، کالجوں، دفتروں، ہسپتالوں اور تقاریب میں فخریہ اردو زبان بولتے ہیں اور اردو بولنا فخر و اعزاز سمجھتے ہیں۔ مگر کچھ ایسے بھی ہیں جو مسلسل اردو بولتے لکھتے ہیں مگر ان کے اندر ایک ”بونا“ گھسا رہتا ہے۔ یہ لوگ اندر خانے اردو سے حسد کرتے اور تعصب برتتے ہیں.... بغیر یہ سوچے کہ یہ ہماری قومی زبان ہے اور قائداعظم نے اسے پاکستان کی قومی اور سرکاری زبان بنانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ قائد کی خواہش تھی کہ پوری پاکستانی قوم کی زبان اردو ہو۔ اب جب سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے ایک بہترین فیصلہ دے دیا، اردو نافذ کرنے کا عدالت عالیہ کی طرف سے حکم نامہ جاری ہوگیا تو کچھ متعصب لوگوں کے پیٹ میں زور کی مروڑ اٹھنے لگی۔ انہوں نے اردو کے نفاذ کے حوالے سے متنازعہ امور چھیڑنے شروع کردیئے ہیں بلکہ بعض شرانگیز مضامین، خبریں اور بیانات بھی اس حوالے سے لگائے جارہے ہیں۔ جسٹس (ر) خواجہ نے اردو کے نفاذ کا فیصلہ بھی اردو میں لکھا اور سپریم کورٹ کے حکم پر سب سے پہلے عمل امریکی سفارتخانے نے اردو ویب سائٹ لانچ کرکے کر دکھایا۔ اردو سے نابلد جہلاءکی اطلاع کےلئے عرض ہے کہ اس وقت اردو دنیا کی تیسری بڑی زبان ہے اور دنیا کی 98 یونیورسٹیوں میں اردو باقاعدہ پڑھائی جاتی ہے جن میں سے امریکہ، برطانیہ، جاپان، چین، جرمنی، مصر، ترکی، ایران سب سے آگے ہیں۔ یہ کہنا کہ جی اردو کے نفاذ سے کئی ای پراجیکٹس معطل ہوجائینگے، محض جہالت ہے۔ اردو میں یہ طاقت اور عظمت ہے کہ وہ ہر زبان کواپنے دامن میں پناہ دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ای پراجیکٹس کیا آسمان سے نازل ہوئے ہیں یا یہ کوئی صحیفے ہیں۔ اردو نے تو انگریزی کو بھی اپنے بطن میں اس طرح اتارا ہے کہ اب انگریزی نما اردو 70 کروڑ لوگوں میں رائج ہوچکی ہے۔ اردو ہر زبان کو اپنے اندر ضم اور ہضم کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتی ہے۔ بی بی سی کیمطابق اردو دنیا کی خوبصورت زبانوں میں سے ایک نمایاں زبان ہے جس میں مافی الضمیر بیان کرنے کی انتہائی صلاحیت ہے اور برصغیر کا بہترین ادب اردو میں تخلیق کیا گیا ہے۔ یہ ایک نرم، میٹھی، شستہ اور رومانوی زبان ہے۔ اس لئے اب اردو کے متعلق کسی بھی قسم کے لیت و لعل سے کام لیا گیا تو موجودہ حکمرانوں کو اس مجرمانہ حرکت پر کوئی معاف نہیں کریگا، نہ تاریخ نہ زمانہ نہ اردو دان طبقہ، نہ قائد کی روح اور نہ عصرِ حاضر کی زندہ روحیں.... پاکستان میں چند تنگ نظر افراد کو چھوڑ کر ہر سچا پاکستانی اردو سے محبت کرتا ہے۔ جس کو پاکستان یا قائد سے وابستگی نہیں، وہی اردو کیخلاف بولے گا اور قائداعظم کی کیا بات کریں.... دکھ، اذیت ملامت ہوتی ہے کہ ایسا جفاکش، بہادر اور عظیم لیڈر ہمارے حصے میں آیا مگر ہم نے اُس قابل فخر ہستی کے ساتھ کیا کیا.... انکے کسی فرمان پر عمل نہیں کیا، کسی عہد کو پورا نہیں کیا، اُنکے کسی قول پر عمل نہیں کیا۔ اسی لئے پستیوں اور ذلتوں نے ہمیں گھیر لیا۔ 11 ستمبر کو قائداعظم کے خاندان نے مزار پر حاضری دی۔ قائد کا خاندان کسمپرسی کی حالت میں نظر آیا۔ معمولی لباس، سستے جوتے، چہروں پر افلاس اور غربت کے سائے تھے۔ یہ اُس قائد کا خاندان ہے جس نے پاکستان بنایا۔ جنہوں نے پاکستان کیلئے کچھ نہیں کیا.... آج وہی عیش کررہے ہیں۔
حکمران ہر ہفتے غیر ملکی دوروں پر کروڑوں روپیہ اڑا کر آجاتے ہیں، انکی اولادوں کے پاس صرف ایک گاڑی کی اتنی مالیت ہے کہ اس میں بیس غریب خاندان اپنے لئے تین مرلے کا گھر بناکر سر ڈھانپ سکتے ہیں۔ انکے ایک پلازے کی قیمت کہیں زیادہ ہے، جوبلی ٹاﺅن کے اُن نام نہاد تین مرلہ پلاٹوں سے جو تین سال پہلے حکومت پنجاب نے جناب مجید نظامی مرحوم کے کہنے پر تحریک پاکستان کے کارکنان کو دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ جوبلی ٹاﺅن ایک بہت ہی پسماندہ، تھکی ہاری، دُور افتادہ اور جنگل نما سکیم ہے جہاں یہ تین مرلہ پلاٹ واقع ہیں، وہ بھی محض ایک معمولی سے بلاک میں.... ان تین سالوں میں تحریک پاکستان کے کئی کارکن حسرت لئے دنیا سے گزر گئے کہ انہوں نے اتنا بڑا ملک بنایا تھا تو چلو آخری وقت میں انہیں بھی اپنی جائیدادوں کی قربانیوں کے عوض ایک اپنا چھوٹا سا گھر نصیب ہوجائے۔ مگر وہ یہ آخری خواہش دل میں لئے مر گئے کہ انکے سر پر اپنی چھت ہو مگر حکومت پنجاب کی بے حسی دیکھئے کہ الاٹ شدہ پلاٹ بھی دیتے ہوئے دم نکل رہا ہے۔ کئی لوگوں کی بیٹیوں کی شادی محض اس لئے نہیں ہوسکی کہ تحریک کارکنان کی بچیوں کیلئے جہیز کی رقم نہیں تھی۔ ان لوگوں نے سوچا تھا کہ پلاٹ ملے گا تو پلاٹ بیچ کر دو تین بیٹیوں کے فرض سے فارغ ہوجائینگے۔ اس پلاٹ کی اصل قیمت سات لاکھ سے زیادہ نہیں۔ تحریک کارکنان نے سوچا تھا کہ پلاٹ بیچ کر اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات کا بوجھ اٹھائیں گے، اپنے قرضے جیتے جی نمٹا کر مریں گے۔ پلاٹ فروخت کرکے اپنی بیماری کا علاج کرائیں گے۔ اگر وہ اتنے ہی مصروف ہیں اور انہیں اتنا غرور ہے کہ وہ تحریک پاکستان کے کارکنان کو تین مرلے کے پلاٹ دینا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں تو پھر اپنے کسی وزیر مشیر کو بھیج دیں۔ اول تو اسکی بھی کوئی ضرورت نہیں.... کیونکہ یہ پلاٹ تحریک پاکستان کے کارکنان کا حق ہیں۔ لہٰذا نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ والوں کو یہ خود تقسیم کرنے دیں۔ اس کام میں تاخیر سے بددعاﺅں کا عمل شروع ہوسکتا ہے۔ حذر کہ....

مجھے کچھ کہنا ہے…

جس طرح کسی بھی چھت کے لیے اس کے نیچے چار ستونوں کا ہونا لازمی ہوتا ہے اسی طرح ...