سیاسی بے بی سِسٹر.... .... اور بلدیاتی سرکس

15 ستمبر 2015

بلاول زرداری بھٹو پانچ ارب روپوں کی لاگت سے تعمیر کردہ عظیم الشان محل میں جسکی تیس فٹ اونچی دیواریں اس بات کی غماز ہیں کہ اسکے مکین نہ تو غریب ہیں نہ لوئر مڈل اور مڈل کلاس اور نہ ہی انکے مسائل روٹی کپڑا اور مکان ہیں۔ جی ہاں اسی بلاول کے نانا شہید ذوالفقار علی بھٹو سندھ کے ایک جاگیردار کے ہاں پیدا ہوئے انکی ماں چونکہ ہاری کی بیٹی تھیں اس لیے پیدائشی طور پر ذوالفقار علی بھٹو کے دل میں غریبوں کیلئے درد تھا۔ اس لیے زمامِ اقتدار سنبھالتے ہی نہ صرف اپنی جاگیر کا ایک بڑا حصہ غریب ہاریوں میں تقسیم کر دیا جبکہ بلاول کے دادا معمولی کاروبار کے مالک تھے۔ بھٹو کی بیٹی کو بیاہ کر لانے کے بعد آج انکا بیٹا اسّی ارب ڈالرز کے اثاثوں کے ساتھ جنوبی ایشیا کا امیر ترین شخص بن چکا ہے۔ زرداری دور میں تینوں صوبوں اور مرکز میں کرپشن کا بازار گرم تھا اور اب اقتدار کی تبدیلی کے بعد جب لوگوں کی نفرت عروج کو پہنچی تو موصوف نے ٹھرا کوشمپئن کی نئی بوتل میں ڈال کر بیچنا چاہا مگر قید، قلعے، کوڑے، پھانسیاں جھیلنے والے جیالے اب معصوم نہیں رہے۔ زرداری صاحب نے پہلے پہل تو معاملات بیٹے کے ساتھ مل کر چلانے کا منصوبہ بنایا مگر جب بلاول نے مختلف مواقع پر انکار کیا تو شنید ہے کہ تینوں بہن بھائیوں کے کریڈٹ کارڈز بلاک کروا دیئے جاتے تھے، اس طرح زرداری صاحب بلیک میلنگ کو بطور ہتھیار اپنے بچوں کے ساتھ بھی استعمال کرنے لگے جسکی وجہ سے بقول ڈاکٹر عاصم حسین بلاول بھٹو ”بائی پولر ڈس آرڈر“ نامی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس بیماری کی علامات یہ ہیں کہ مریض کسی بھی وقت پاگلوں جیسی حرکتیں شروع کر دیتا ہے۔ مجھے پیپلزپارٹی کے متعدد جیالوں اور ہم وطن پاکستانیوں نے سوال کیا ہے، پیپلزپارٹی جیسی بڑی سیاسی جماعت کا چیئرمین کیا کسی ایسے نوعمر کو بنایا جا سکتا ہے؟ یا کوئی ایسا انسان جو اس بیماری کا شکار ہو اسے دنیا کی چھٹی بڑی نیوکلیئر پاور کا سربراہ مقرر کیا جا سکتا ہے؟ تو میں اپنے کرم فرماﺅں اور قارئین کو یہ بتاتا چلوں کہ آصف علی زرداری مشرف حکومت کے دوران عدالت میں اپنی ذہنی، نفسیاتی بیماری اور پاگل پن کا سرٹیفکیٹ پیش کر چکے ہیں مگر پھر بھی ان کو صدرِ پاکستان جیسے جید عہدے پر فائز کر دیا گیا۔ پیپلزپارٹی کے بانی ورکرز اور محترمہ کے جیالے آج اس بات پر بھی پریشان ہیں کہ آصف علی زرداری کی ہمشیرہ ”دروغ بر گردن راوی“ محترمہ فریال تالپور کرپشن کی ملکہ کہلاتی ہیں اور آج پیپلزپارٹی جس مقام پر پہنچ چکی ہے اسکی صرف اور صرف ذمہ دار یہی محترمہ ہیں مگر جب آصف علی زرداری کی جانب سے یکدم بالغ ہونے کی خوشی میںبلاول کو پارٹی چیئرمین بنا دیا گیا تومحترمہ فریال تالپور کوسائے کی طرح بلاول کے ساتھ لگا دیا گیا یعنی محترمہ تالپورکو بلاول کا سیاسی بے بی سسٹر بنا دیا گیا۔ قارئین! گزشتہ روز بلاول ہاﺅس کی بلند و بالا دیواروں کے پیچھے پیپلزپارٹی کے باقیماندہ چیدہ چیدہ کارکنوں اور قیادت کو مدعو کرکے ایک سیاسی فلاپ شو کیا گیا جسے یقینا آپ نے بھی نجی چینلز پر دیکھا ہوگا۔ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ سٹیج پر منظوروٹو، راجہ ریاض، اشرف کائرہ اور ندیم افضل چن موجود تھے۔ بتایئے کہ ان صاحبان کا تعلق کیا پیپلزپارٹی سے ہے؟ ان چار افراد میں سے دوضیاءکی باقیات جبکہ آخری دو جماعت اسلامی کی یادگاریں ہیں۔ یہ لوگ چلے کارتوس اور زنگ آلود گن کی طرح ہیں۔ ابھی شرجیل میمن اور ڈاکٹر عاصم حسین کی طرح اور بھی درجنوں را طوطے فر فر بولنے کو بے تاب ہیں۔ یہ پیپلزپارٹی کی کیا خوبصورت تصویر کشی ہے کہ جہانگیر بدر جیسے بنیادی کارکن خاموش ہو کر گھر بیٹھ جائیں۔ میں نے ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے پوچھاکہ انقلاب کیسے آئیگا تو انہوں نے جواب دیا کہ چہرے بدلنے سے نہیں بلکہ سوچ بدلنے سے انقلاب آتے ہیں۔ جب تک بلاول اپنے باپ اور پھوپھی کی کرپشن زدہ دولت کے بل بوتے پر سیاست کرینگے اور جب تک وہ خود کو ان کرپشن کی جونکوں سے اعلانیہ طور پر آزاد نہیں کر لیتے کوئی بھی بلاول بھٹو پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہوگا۔ قارئین! جس پارٹی کا پچھلے ساڑھے سات سال سے سندھ میں وزیراعلیٰ ،علی نوازشاہ اور دیگر مجرموں کو عدالت سے سزا ہونے پر انکی ملاقات کے لیے جیل جائے اور انصاف کے منہ پر طمانچہ رسید کرتے ہوئے کرپشن کے مجرموں کو جیل میں اے کلاس دینے کا اعلان کرے تو کیا اس پارٹی کو غریبوں کی پارٹی کہلوانے کا حق ہے۔قارئین! پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کے نام پر بلدیاتی سرکس شروع ہو گئی ہے اور جیسا کہ انتظار تھا مسلم لیگ ن کی حکومت نے پولیس سمیت دیگر ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دیئے ہیں یہی وجہ ہے کہ آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کے بھائی اعجاز سکھیرا اور مشیرِ حکومت تہمینہ دولتانہ کے بھائی زاہد دولتانہ اور وزیراعظم کے قریبی عزیز خواجہ احمد احسان اور دوسرے بیشمار لوگوں کو بلامقابلہ منتخب کروانے کا عمل جاری ہے جبکہ لاہور پولیس کے ڈی آئی جی اور ایک ایس ایس پی سی آئی اے عمر ورک کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے جو پی ٹی آئی کو 2013ءوالا سبق پھر سے یاد کروائے گی ۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔