سانحہ بیت الحرام اور ملتان دہشت گردی

15 ستمبر 2015

مسجدالحرام میں حادثے میں جاں بحق اور زخمی ہونیوالوں کے دکھ میں ابھی اشکوں کا سیلاب تھما نہیں تھا پاکستان میں دہشتگردوں نے ملتان کو نشانہ بنایا یہاں دوسالہ بچے اور دو خواتین سمیت دس افراد خالقِ حقیقی سے جا ملے جبکہ زخموں سے چور 60افراد ہسپتالوں میں پڑے ہیں۔مسجد الحرام میں سانحہ جانکاہ حادثے میں 111افراد جاں بحق اور تین سو سے زائد زخمی ہوئے۔ ان میں پاکستانی بھی شامل ہیں۔اس حادثے سے عالم اسلام سوگ اورغم میں ڈوبا ہوا ہے ۔
ہم پاکستانی کئی سال سے بدترین دہشتگردی کاشکار ہیں۔اپریشن ضرب عضب سے دہشتگرد بھاگ رہے ہیں۔ تاہم ان کویہاں موقع ملتا ہے کارروائی کر گزرتے ہیں مگر اب فرق یہ ہے کہ وہ پہلے کی طرح دفاعی تنصیبات کو طرح ٹارگٹ کرنے سے قاصر ہیں اور پہلے کی طرح انکی دہشتگردی میں تسلسل بھی نہیں رہا۔اس سے بڑی بزدلی کیا ہوگی کہ وہ بچوں،خواتین اور عام شہریوں پر موت بن کر ٹوٹ رہے ہیں۔ہم تو ایسے حملوں کا سامنا کم وپیش بارہ تیرہ سال سے کررہے ہیں۔اب دہشتگردوں نے سعودی عرب کو بھی نشانے پر رکھ لیا ہے۔سعودی شاہی خاندان میں اختلافات ،دہشتگردی کے واقعات اور اب مسجدالحرام میں اندوہناک سانحہ سعودی عرب اور اسکے حکمرانوں کےلئے پریشانی کا باعث تو ہے ہی،ان کی مشکلات میں مزیداضافے کا بھی سبب بن سکتا ہے۔ مسجد الحرام میں حادثہ صفا اور مروہ کے درمیانی جگہ پر پیش آیا۔ توسیعی تعمیراتی کام کے دوران تیز آندھی اور طوفانی بارش سے کرین چھت پھاڑتے ہوئے مسجد الحرام کے احاطہ میں گرگئی تھی۔ حادثے کے وقت حرم شریف میں30 ہزارتک عازمین حج موجود تھے۔ حرم شریف کو چار لاکھ مربع میٹر تک توسیع دینے کا کام جاری ہے جس کیلئے تعمیراتی کرینیں لگائی گئیں جن میں سے ایک طوفانی آندھی اور بارش کے باعث گری۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کرین حادثہ میں زخمی ہونےوالے عازمین حج کو طواف اور حج کے مناسک ادا کرنے کیلئے خصوصی گاڑیاں تیار کرکے زخمی حاجیوں کو دینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ زخمی ہونیوالے عازمین حج اب خصوصی گاڑیوں میں حج کے مناسک ادا کرینگے۔بادی النظر میں یہ ایک حادثہ ہے ، اس بدقسمتی میں تخریب کاری اور دہشتگردی کا شائبہ تک نہیں ہے۔مگر جس طرح حادثہ اچانک ہوتا یعنی بتا کر نہیں ہوتا اسی طرح حادثہ بے سبب بھی نہیں ہوتا۔مسجدالحرام کایہ حادثہ انتہائی افسوس ناک ہے لیکن یہ اہل توحید کے اعصاب پر خوف طاری نہ کرسکا۔ طوفان اور حادثے کے باجود خانہ کعبہ کا طواف جاری رہا۔ حرم شریف کی فضا لبیک اللھم لبیک کی صدا سے گونجتی رہی۔ اس سے قبل بھی حج کے موقع پر حادثات میں حجاج کی شہادتیں ہوتی رہی ہیں؛۔ 2006ءمیں حج کے دوران منیٰ کے مقام پر بھگدڑ مچنے سے 346 حاجی جاں بحق اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔2004 میں منٰی ہی میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران بھگدڑ مچ گئی تھی جس سے 251 حجاج جاں بحق اور 244 زخمی ہوئے۔2003 ءمیں بھی جمرات کے مقام پر رمی کے دوران بھگدڑ میں 14 حاجی جاں بحق ہوئے جبکہ 2001 میں 35 حجاج بھگدڑ مچنے سے جاں بحق ہوئے تھے۔1998ءمیں جمرات کے پل پر رمی کے دوران بھگدڑ مچ گئی تھی اور 118 حاجیوں کچل کر جان سے گئے تھے جبکہ 180 زخمی ہوئے تھے1997ءمیں منٰی کے میدان میں حاجیوں کے خیموں میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس سے 347 حجاج جاں بحق اور 1500 زخمی ہوئے۔1994ءمیں شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران منیٰ میں بھگدڑ سے 270 حجاج جاں بحق ہوئے تھے۔1990ءمیں سے بدترین واقعہ پیش آیا تھا جب 1426 حجاج اس وقت جاں بحق ہوئے تھے جب مکہ میں ایک پل گر گیا تھا ۔اس میں جاں بحق ہونے والے اکثر حجاج کا تعلق انڈونیشیا ، ملائیشیاءاور پاکستان سے تھا۔1975ءمیں حاجیوں کے خیمے میں ایک گیس سیلنڈر پھٹ گیا تھا جس سے آتش زدگی کے باعث 200 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔23ستمبر کو حجِ اکبر ہے،خدا کرے کہ حجاج کے باقی دن بخریت گزریں تاکہ وہ خشوع وخضوع کے ساتھ عبادات کے بعد اپنے پیاروں سے آملیں۔ پاکستان میں دہشتگرد اپنے مقاصد حاصل کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہورہے۔وہ معصوم شہریوں کی جان لے کر قوم کو دہشتگردی کے خوف میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں۔فوج ان انسانیت کے دشمنوں کے تعاقب میں ہے۔ حکومت فوج کے شانہ بشانہ ہے مگر قومی ایکشن پلان پر پوری طرح سے عمل نہ ہونے کے باعث دہشتگرد ملتان اور شجاع خانزادہ پر حملوں جیسی کارروائیاں کر گزرتے ہیں۔ایسے حملے سہولت کاروں کے بغیر ہو ہی نہیں سکتے مگرحکومت شاید سہولت کاروں سے خوفزدہ ہے ،مصلحتوں سے کام لے رہی ہے یا بقول بلاول بھٹو زرداری سے ”کچھ حکومتی لوگ“ ان سے ملے ہوئے ہیں۔چند روز قبل آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا تھا،دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو نہیں چھوڑیں گے۔گویا ان کےخلاف ابھی کارروائی ہونی ہے۔16دسمبر 2014ءکو پشاور میں دہشتگردوں کی سفاکیت کے بعد سزائے موت پر عائد پابندی اسی حکومت نے ختم کی۔جن 458دہشتگردوں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی ان میں سے اب تک صرف 18کو لٹکایا گیا اس سے دہشتگردوں کے خاتمے کے حکومتی عزم کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔دہشتگردی کا جڑوں سے خاتمہ نہ کیا گیا تو یہ حکمران اشرافیہ سمیت ہر پاکستانی کےلئے ناسور ثابت ہوگا۔