پاک بھارت جنگ کا متوقع موسم اور نتیجہ؟

15 ستمبر 2015
پاک بھارت جنگ کا متوقع موسم اور نتیجہ؟

1965ءکے شہداءکو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے جی ایچ کیو میں مرکزی تقریب کا انعقاد ہوا تھا۔ اہم شخصیات نے شرکت کی تھی یوں شہداءپاکستان نے سیاسی و عسکری یکجہتی کا منظر پیش کیا ہے مگر یہ پیغام بھارت کے جنگجوﺅں کو تھا جبکہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی تقریر پوری قوم کی آواز تھی۔ پاکستان کو جنگ میں نبرد آزما کرتے بھارتی اذہان کو اطلاع تھی کہ پاکستان تیار ہے آرمی چیف کی اس جرا¿ت مندانہ روش کا ردعمل بھارت سے فوراً آیا ہے۔ نائب وزیر اطلاعات و نشریات راجیودھن سنگھ راٹھو نے جو باًاطلاع دی ہے کہ بھارت داﺅد ابراہیم اور حافظ سعید کو پکڑنے کیلئے پاکستان میں سپیشل یا مخفی آپریشن کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ممبئی ملزموں کے خلاف حکمت عملی بنا رہے ہیں جس کا پہلے سے اعلان نہیں کرنا چاہئے۔ چند دن پہلے بھارتی چیف کہہ چکے ہیں کہ وہ مختصر جنگ کا راستے اپنا سکتے ہیں کئی مہینوں سے سرحدوں پر گولہ باری اس جنگی جنون کا عملی اظہار ہے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا جواب کہ ہم تیار ہیں ایسے ہی دعوﺅں، دھمکیوں اور سازشوں کا جواب تھا۔ اگر بھارت پاکستان میں واضح یا مختصر آپریشن کرسکتا ہے تو موسم سرما میں ہو سکتا ہے۔ نومبرسے مارچ تک عرصہ میں بھارت کے اس شب خون کے آثار، وجدان کی سکرین پر ہم ملاحظہ کررہے ہے۔ اگر عملاً مختصر جنگ ہو جو بھارت چاہتا ہے؟ تو پاکستان اس جنگ کو مختصر اور مخفی نہیں بنائے گا بلکہ پاکستان اس پر مسلط شدہ جنگ کو آخری اور فیصلہ کن جنگ کا روپ دے گا جبکہ متوقع اس جنگ اور 1971ءکی جنگ میں بنیادی فرق ہو گا۔ 1965ءکی جنگ اور متوقع جنگ میں بھی بنیادی فرق ہوگا۔ اب کی بار تاشقند مذاکرات کے ذریعے بھارت کو فوائد نہیں مل سکیں گے۔ اب کی بار ایسا نہیں ہوگا اس وقت موجودہ پاکستان سے مشرقی پاکستان دور تھا درمیان میں بھارتی جغرافیہ و قوت آتی تھی۔ اب کی بار پاکستانی متحدہ جغرافیہ ہے کہ پاک فوج بھارت کے اثاثہ جات، آلہ کاروں، مدد گاروں اور بھارتی ایجنڈوں کو عملی صورت دینے والے دو حلقوں کو پاکستان کے اندر تہہ تیغ کر رہی ہے۔ اب کی بار سیاسی، خلفشار وہ والا نہیں ہوگا جو مکتی باہنی کی مدد اور اگرتلہ سازش کی آبیاری سے شیخ مجیب الرحمان نے پیدا کیا تھا۔ اب کی بار پاکستان کے پاس ایٹمی جارحانہ میزائل کا پورا بندوبست ہے جو جواباً بھارت کو چند منٹ میں تباہی کے تحائف فوراً پیش کرنے کی پوری استطاعت رکھتا ہے۔ پاکستان کا دفاعی ایٹمی نظام دنیا کا مو¿ثرترین و جدید ترین نظام ہے جبکہ بھارت کا قدیم اور فرسودہ.... لہٰذا ایٹمی میزائل جنگ میں پاکستان وہ سب کچھ کر سکے گا جو 1971ءمیں نہ کرسکا تھا۔ برصغیر میں ہندو مسلم کشمکش اس دن سے شروع ہے جس دن محمد بن قاسم نے سندھ کے ساحلوں سے اتر کر راجہ داھر کی انتہا پسند ہندو جارحیت کی کمر توڑی تھی۔ جب سلطان محمود غزنوی نے 17حملے کئے تھے اور سومنات کے مندروں کو نیست و نابود کیا تھا، جب احمد شاہ ابدالی نے ظالم اور مسلمان دشمن مرہٹوں کی قوت کو پاش پاش کیا تھا، جب شہاب الدین غوری نے بھارت کو فتح کیا تھا۔ اب کی متوقع جنگ میں محمد بن قاسم، سلطان محمود غزنوی، احمد شاہ ابدالی اور غوری کے جذبات ایماندار پرعزم جہادی رویوں کو پاکستان فوج پیش کرے گی انشاءاللہ پاکستانی فوج اور قوم شہادت پر ایمان رکھتی ہے اور جب شہادت مطلوب و مقصود ہوجائے تو پہلے دشمن کا خاتمہ کرنا یقینی امر ہوتا ہے اس بار بھارت کے اپنے اندر بھی عدم استحکام کا بھرپور سیاسی، اقتصادی، معاشرتی انتشاری منظر پوری دنیا دیکھے گی۔ ابھی توجہ گجرات میں مہاویر کے جین مت والے پیروکاروں نے ہندو ہوکر بھی مودی سرکار کا ناطقہ بند کیا ہے یہ کام اندرونی جنگ کی صورت میں جنوبی صوبوں میں بھی دنیا کھلے آسمان تلے اوردن کی روشنی میں دیکھے گی۔ انشاءاللہ برصغیر میں مسلمان ہندو کشمکش جو بہت طویل مدت سے موجود ہے، اس کا خاتمہ کرنے کیلئے ہی قائداعظم نے فکر اقبال کی روشنی میں مسلمانوں کے الگ وطن کے ذریعے برصغیر کو امن، ترقی، ارتقاءدینے کا راستہ اپنایا تھا۔ یہ جنگی راستہ نہیں بلکہ امن کا راستہ تھا مگر بھارت نے خود گاندھی کو اس لئے قتل کروایا کہ اس نے پاکستان کے اسلحہ و خزانہ دینے کی بات کی تھی۔ نہرو نے سکھوں کو مشتعل کرکے مہاجر مسلمانوں کو قتل کرایا تھا دھوکے سے گورداسپور حاصل کر کے کشمیر کا راستہ پاکر زبردستی بھارتی فوج کو سری نگر میں جنگی جہازوں کے ذریعے اتارا گیا تھا مگر اب کی بار جنگ کے جواب میں طویل ہم جنگی جہادی رویہ پیش ہوگا۔ موسم سرما میں فیصلہ ہوگا کہ تختہ یا تختہ، برصغیر پر ہندو راج کا منصوبہ ملیامیٹ ہو گا۔ اکھنڈ ہندو بھارت کی تمام ترحکمت عملی ناکام اور تباہ ہوگی ایسا صرف پاکستانی پرجوش، بہادر فوج اور ایٹمی میزائل کر دکھائیں گے انشاءاللہ لہذا بھارتی جارح قوتوں کو جنرل راحیل شریف کے ذریعے پاکستانی قوم کا پیغام اب یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان تیار ہے مسلمان کو برصغیر میں اب مرنا ہے یا باعزت طورپر زندہ رہنا ہے تاریخ اس کا مشاہدہ نئے عہد اور نئے انداز میں پھر کرنے والی ہے اگر حافظ سعید پر آپریشن کرنا ہے تو ایکسپریس آگ میں 65 پاکستانیوں کے جلادینے کا انتقام پاکستان بھی لینے کا جنگی استحقاق رکھتا ہے برصغیر میں مسلمانوں کیلئے دوبارہ سے ہندو مرہٹہ لوٹ آیا ہے۔ اب جواب میں پاکستان سے احمد شاہ ابدالی اور شہاب الدین غوری سامنے آئیں گے۔ اب توحید کا پرچم تھامے محمد بن قاسم، محمود غزنوی کی روحانی وراثت کے پاسبان جنگجو اور جذبہ شہادت سے مزین ہوکر سامنے آئیں گے انشاءاللہ۔