شہبازشریف ”اِن ایکشن“

15 ستمبر 2015
شہبازشریف ”اِن ایکشن“

آجکل میاں شہباز شریف ”خبروں“میں بھرپورآ رہے ہیں۔ ایک ٹی وی پروگرام کے ذریعے ان کو چیلنج کیاگیاتو وہ چپ رہنے والے کہاں تھے فوراً پریس کانفرنس کے ذریعے جواب دے دیا لیکن اینکر بھی پیچھے پڑے ہوئے تھے اور انہوں نے جواب الجواب پروگرام کر دیا جس پر خادم اعلیٰ کو پھر پریس کانفرنس کرنا پڑی ۔ ابھی نندی پور پاور پراجیکٹ کی سیاہی خشک نہیں ہوئی تھی کہ ڈینگی سپرے آن ٹپکا جس نے تین سیکرٹریوں سمیت12 افسروں کو اپنی زد میں لے لیا۔ ضلع جہلم اور اٹک میں زہریلی سپرے کرنے کی وجہ سے درجنوں طالبات بے ہوش ہوگئیں جسکی وجہ سے خادم اعلیٰ کو”ان ایکشن“ہوناپڑا۔ میں نے گزشتہ ماہ بھی کہا تھا کہ پنجاب میں میاں شہباز شریف اور رانا ثناءاللہ کے علاوہ نہ کوئی حکومتی وزیر فرائض سرانجام دے رہا ہے نہ سیاست کررہا ہے اور نہ ہی عوام کے سامنے سرخرو ہو رہا ہے۔ وزیروں اور افسروں کی اکثریت سو رہی ہے۔ شہبازشریف کی حکومت کے وزیر تو ایک طرف افسروں کی سستی نہایت تشویشناک ہے۔ افسروں کی کوئی activity نظر نہیں آرہی۔کوئی افسر دورے نہیں کر رہا۔کسی افسر نے کبھی کوئی اچانک چھاپہ نہیں مارا۔ شکر ہے کہ سکول طالبات کے بدولت خادم اعلیٰ واپس آ گئے ہیں کیونکہ ”ان ایکشن“ ہوئے بغیر پنجاب نہیں چل سکتا اس لئے تونندی پور پراجیکٹ سستی کا شکار رہا ہے۔ وزارت پانی و بجلی اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ خواجہ آصف کو طنزکی سیاست نہیں کرنی چاہئے۔ ہمیں شہبازشریف کو اس بات پر تو خراج تحسین پیش کرنا چاہئے کہ ان پرکسی نے کرپشن کا الزام نہیں لگایا اربوں روپے کا پراجیکٹ ہو اور اس میں کرپشن کا الزام نہ لگے عجیب بات لگتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری، وزیرخزانہ سندھ اورپی ٹی آئی کے لیڈرز سمیت اپوزیشن جماعتوں نے بدانتظامی اور دیگر الزامات لگائے ہیں لیکن کرپشن کا نہیں۔ اسی طرح قائداعظم سولرپارک منصوبہ میں بھی کرپشن کا الزام نہیں لگایا گیا۔کم بجلی پیداکرنے اوردیگرالزامات ضرور لگے ہیں جس کا وزیراعلیٰ پنجاب نے بھرپور جواب دیاہے جس میں انہوںنے بجلی کے ٹیرف کی بات کی کہ اس کو نیپرا مقررکرتا ہے اور سولر منصوبے کا ٹیرف نیپرا نے جنوری 2014 کو16.3سینٹ مقررکیا جبکہ جرمنی کے ادارے بی آئی زیڈ نے2013 میں اسکی لاگت 2.04 ملین ڈالر فی میگاواٹ مقررکی تھی جسکی وجہ سے نیپرا نے 1.69ملین ڈالرفی میگاواٹ کی منظوری دی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس منصوبے کی سب سے زیادہ Bid 2 ملین ڈالر فی میگاواٹ آئی تھی جبکہ سب سے کم Bid 1.51ملین ڈالرفی میگاواٹ تھی۔ میاں شہبازشریف نے اپنی روایتی تیزی دکھاتے ہوئے سب سے کم بولی والوں سے مذاکرات کے ذریعے 2 ارب روپے کم کرائے جسکی وجہ سے نیپرا نے ٹیرف 14.1سینٹ مقررکیاجبکہ انہوں نے 13.9سینٹ حاصل کیااس طرح وزیراعلیٰ پنجاب نے نندی پور پراجیکٹ کے حوالے سے پیپلزپارٹی کے دورکوذمہ دارٹھہرادیا اور یہ بھی فرمایاکہ اس منصوبے سے 425 میگاواٹ بجلی 15دن حاصل ہوئی لیکن پھر یہ منصوبہ بند ہوگیا جسکی تحقیقات ہونگی اور 2013 کے بعد اس منصوبے پرجتنے اخراجات آئے اسکا آڈٹ کرانے کیلئے آڈیٹر جنرل کوکہا گیا ہے اسکے علاوہ فرگوسن سے بھی اس کا آڈٹ کرایا جائےگا۔ میاں شہباز شریف نے بجلی کے منصوبوں میں تاخیرکی ایک وجہ دھرنوں کو بھی قرار دیا ہے۔ بجلی کے منصوبوں پر شہبازشریف کی کوششیں قابل تحسین ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ خواجہ آصف کس مرض کی دواہیں؟صرف ٹی وی پروگراموں میں شرکت کرنا انکے فرائض میں شامل ہے یا کوئی کام بھی کرنا ہوتا ہے! وزارت پانی وبجلی کو پنجاب حکومت کا شکرگزارہوناچاہئے کہ ایک وزیراعلیٰ بجلی کیلئے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے البتہ وزیراعلیٰ پنجاب کوبجلی کے منصوبوں میں تاخیرکی وجہ دھرنوں کو قرار دینے کی بات اب نہیں کرنی چاہئے۔اسی طرح پی پی پی دورمیں اڑھائی سال فائل رکی رہی کو بھی وجہ نہیں بنانا چاہئے۔ دھرنے اور فائل رکنا ماضی کے قصے ہو چکے ہیں۔ میاں نواز شریف کی حکومت اپنا آدھا عرصہ مکمل کرنےوالی ہے اس لئے ماضی کے الزامات کے ذریعے اپنے دورکو Justify نہیں کرنا چاہئے۔ اپنی کارکردگی کی بات کرنی چاہئے۔ پنجاب میں جعلی ادویات ، گدھے اور مردہ گوشت اور ہوٹلوں میں مضرصحت کھانوں پر چھاپے پڑ رہے ہیں۔ ایک طرف لوگ شدید پریشانی کا شکار ہیں کہ ماضی میں وہ کس قسم کا گوشت اورکس قسم کا کھانا کھاتے رہے ہیں۔ بحرکیف منصوبوں اورکرپشن کی بات ہو رہی تھی اورمیاں شہباز شریف کرپشن کے الزام پربڑے Touchyہو جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کو اور ہم سب کوبھی خدا کا شکرادا کرنا چاہئے کہ ان پرکرپشن کاکوئی الزام نہیں۔یہ افواہیں تو بہت گرم ہیںکہ سندھ کے سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ اب پنجاب، اسلام آباد اورKPK کے بڑے بڑے راہنماﺅں اوربڑے بڑے گریڈکے افسروں کی باری آنےوالی ہے۔کرپشن پرکسی کومعافی نہیں ملنے والی۔ صرف ریٹائرڈلوگ زدمیں نہیں آنیوالے بلکہ Serving لوگوں پر دما دم مست قلندر ہونے والاہے۔ پاکستان کی بدقسمتی رہی ہے کہ ہر سطح پرکرپشن ہوئی ہے۔کئی حکومتیں توکرپشن کی چارج شیٹ پر فارغ کر دی گئیں لیکن کسی نے سبق نہیں سیکھا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ ہر دورمیں کرپشن کے ایک دوسرے پر الزامات لگتے رہے ہیں جسکی تاریخ آج پھردہرائی جارہی ہے کیا پھرکچھ ہونے والاہے یہ سوال ہرایک کی زبان پر ہے۔کچھ ہو یا نہ ہو خادم اعلیٰ کو”ان ایکشن“رہنا چاہئے انکی کوالٹی کرپشن روکنے اور انتظامی امورکو زبردست طریقے سے اداکرنے کی ہے۔اس صلاحیت کوختم نہیں ہونا چاہئے ۔ آئے روزمال روڈپرکسان اور دوسرے طبقات دھرنے دے رہے ہیں۔ حکومت کو ان معاملات کا بھی ادراک کرنا چاہئے۔ صرف کرپشن کا الزام نہ ہونے سے لوگوں کی تسلی نہیں ہوگی بلکہ اچھی حکومت، زبردست کارکردگی اور متحرک ٹیم سے ہی لوگوں کو مطمئن کیا جا سکتا ہے اور پنجاب کو اچھے طریقے سے چلایا جا سکتا ہے۔اس لئے بہت ضروری ہے کہ جس طرح ڈینگی سپرے پرکارروائی کی گئی ہے اُسی طرح شہبازشریف بھرپور انداز میں ہی ”ان ایکشن“ہی اچھے لگتے ہیں۔