معاشرے میں قوت برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے مگر کیوں؟

15 ستمبر 2015
معاشرے میں قوت برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے مگر کیوں؟

قارئین کوئی وقت تھا بلکہ جب سائنس کی اندھی روشنیاں ابھی انسان تک نہیں پہنچتی تھیں وہ اپنی دانست کے مطابق، اپنی فکری استطاعت کے حوالے سے انتہائی سادہ زندگی گزارا کرتا تھا بظاہر حد سے زیادہ پڑھا لکھا بھی نہ تھا بلکہ اسے تقریباً جاہل ہی کہا اور سمجھا جاتا تھا تاہم ہماری دانست میں وہ دراصل انسانیت کے درجہ کمائی تک پہنچا ہوا تھا اس کیلئے حالات و واقعات کی نامساعدت، تلخی حیات بلکہ غم دوراں لمحہ موجود کے ذہنی و روحانی انتشار کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھا۔ مگر وہ بیک وقت صبر و تحمل اور حوصلے کا کوہ گراں بھی تھا گوکہ دکھوں، پریشانیوں یہاں تک کہ نفسیاتی مسائل پر اسکی گرفت جاہلانہ تھی مگر جارحانہ تھی، جسکی وجہ سے وہ ناگہانی مصائب و مسائل سے بہتر طور پر نپٹ لیتا تھا اگر قدرے گہرائی سے سوچا جائے تو ایسا کرنا اسکی قوت برداشت کی ہی دین ہوسکتا ہے پچھلے ادوار میں تجربر کار اور جہاندیدہ بڑوں بوڑھوں کی رائے کا خاص احترام موجود تھا۔ انکی اولاد بلکہ قریبی رشتہ دار تک بڑے تحمل اور حوصلے سے انکی بات سنتے تھے یوں مل جل کر زندگی کو اپنے اور ایک دوسرے کیلئے قابل برداشت بنا لیا جاتا تھا جسمانی بیماریاں، روحانی انتشار اور کسی بھی سطح پر اتنی افراتفری نہیں ہوتی تھی جتنی آجکل سائنسی ترقی کے نقطہ عروج کے دنوں میں ہے یہ صحیح ہے کہ دور جدید میں ہر انسان کیلئے ذاتی سطح پر دکھوں او غم و غصے کے عجیب و غریب اسباب اور سلسلے موجود ہیں تاہم اپنے اندر قوت برداشت پیداکرنے کیلئے بھی آپکو قوت برداشت ہی کا مظاہرہ کرنا پڑے گا عدم برداشت کسی مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ سے مسائل و مصائب کا حجم مزید بڑھ جاتا ہے۔ بے شک عام روز مرہ زندگی میں ذاتی سطح پر آپ کی قوت برداشت کا سب سے بڑا اور کڑا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب آپ کو نیکی کے جواب میں مد مقابل کی بلاجواز اذیت یا باقاعدہ بدی برداشت کرنی پڑتی ہے لیکن اگر اس سلسلے میں صرف ایک بات یاد رکھی جائے کہ آپ کسی کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں وہ آپ کے کھاتے میں جائے گا اور جو مد مقابل کا عمل ہوگا وہ اس کے حساب میں درج ہوگا اور یہی منصف اکمل کا وعدہ بھی ہے۔ کہ دو اشخاص کے اعمال کو ہرگز آپسمیں گڈمڈ نہیں کیا جائے گا تو آپ کا بدسلوکی کا دکھ برداشت کرنے کا رنج آدھا رہ جائے گا اس سلسلے میں دوسری بات یہ یاد رکھنے والی ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی چیز، کوئی بھی جذبہ، کوئی بھی احساس بے سود نہیں بنایا گیا سب کی اپنی اپنی جگہ افادیت ہوتی ہے، اپنا اپنا ضرر ہوتا ہے کوئی نہ کوئی رمز پوشیدہ ہوتی ہے یہاں تک کہ کوڑا کرکٹ اور مٹی تک کو بھی کام کی چیزیں گنا جاتا ہے بعینہ بدی بھی معاشرے کا کوڑا کرکٹ سہی لیکن وہ بھی اس کا ناگزیر حصہ ہے اگر بدی نہ ہوتی تو نیکی کے وجود پر کس کو اعتبار آتا؟ اندھیرا نہ ہوتا تو روشنی کو روشنی اور اندھیرے کو اندھیرا کون کہتا بلکہ ہوسکتا تھا لاعلمی کے اندھیرے کی وجہ سے ہم اندھیرے ہی کو روشنی سمجھتے کیونکہ روشنی کے بعد ہی اندھیرے کو اندھیرا اور اندھیرے کی وجہ سے روشنی کو روشنی سمجھا گیا۔
گو کہ یہ صحیح ہے آپ کیلئے بدسلوکی اور برائی کرنے والے کسی بھی شخص سے بدلہ نہ لینا، اس کے ساتھ حساب نہ چکانا اور ایک غائب الوجود ہستی کے حساب کو حاضر ناظر جان کر اپنے اعمال کو اس کے حساب پر چھوڑ دینا بے پناہ مشکل بلکہ ناممکن عمل نظر آتا ہے تاہم صبر و حوصلے کی مسلسل پریکٹس سے آپ ایسا کرسکتے ہیں، آپ بلا تامل اپنی سیدھی راہ پر چلتے جائیے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ذاتی فہم کی روشنی کے حوالے سے عطا کردی ہے اور جو اندھیرے آپ کے مد مقابل کو بخشے گئے ہیں ان کو ان میں ٹامک ٹوئیاں مارنے دیں آپ دل کے اندھوں کو سمجھا ہرگز نہیں سکتے مگر خود تو صبرو ضبط اور جبر و حوصلہ کرسکتے ہیں اور یہی حضور پر نور کا اسوہ حسنہ ہے بلکہ ان کی تعلیمات کا پہلا درس یہ قوت برداشت ہے آپ اپنے آئینہ دل کو اس حد تک ستھرا رکھئے کہ زمانے کے دئیے ہوئے صدمات ، دکھ اور اذیتیں اسے گرد آلود نہ کرسکیں کیونکہ دل کی یہی صفائی اور روشنی ہی وہ صفائی اور روشنی ہے جس میں آپ روز قیامت اپنے رب کا دیدار کرسکیں گے اگر آپ کا آئینہ دل اندھا نہ ہے تو آپ اندھے ہیں اور اگر آپ اندھے ہیں تو پھر آپ کو قوت برداشت کے علاوہ بھی دنیا کی کوئی دوسری اچھائی، اچھائی نظر نہیں آئے گی ایسا ہونا یقینا آپ کا ذاتی خسارہ ہے یادرکھیئے آپ کا صبر و تحمل، آپ کا قوت برداشت اور جبر ذات آپ کے لئے ہمیشہ خیر اور اجر کا سبب بنتا ہے ہم سمجھتے ہیں ہر معاشرے میں انتشار و خلفشار کی بنیادی وجہ قوت برداشت کی کمی ہے اگر انسان انہی میں بنیادی خامی بلکہ کمزوری کے خلاف نبر د آزما رہے تو یہ عارفی دنیا رہنے کیلئے ایک پر سکون جگہ بن سکے گی اور سکون سے بڑھکر انسان کو اور کس دولت کی ضرورت ہوسکتی ہے؟ موجودہ ہر طرف جنگی صورتحال کا بھی صبروتحمل کے ساتھ مذاکرات کرنے میں حل موجود ہے قتل و غارت کسی مسئلے کا حل نہیں ہے مجموعی طور پر دنیا کو امن گاہ بنانے کیلئے انفرادی اور بین الاقومی سطح پر انسان پر قوت برداشت کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا ورنہ ایک دوسرے کیلئے دھونس، دھاندلی، دھمکیوں اور دھماکوں کا بحران کبھی ختم نہیں ہوگا۔