ایک مختصر مگر مکمل کالم

نوائے وقت کے مطابق حکومت نے کرونا وائرس کے ڈر سے تعلیمی ادارے ‘شادی ہال‘ سینماگھر‘ تھیٹر بند کر دیئے۔ اجتماعات پر پابندی لگا دی ہے۔ امتحانات کا شیڈول تبدیل کر دیا گیا ہے۔ 23 مارچ کی قومی تقریبات اور دوسرے مخصوص اور اہم پروگرام منسوخ کر دیئے گئے ہیں۔ ایک مشہور رائے ونڈ مذہبی اجتماع‘ تبلیغی جماعت والوں کا سب بڑا اجتماع بھی محدود کر دیا گیا ہے۔ یہ اعلان باقاعدہ حکومت کے ایک نمائندے نے ٹی وی پر کیا۔ یہ بڑا لیکچر تھا جو انہوں نے دیا۔ اس دوران پی ٹی وی کی انائونسر نے اس کی طویل ترین ریکارڈنگ روک دی۔
یہ سب کچھ ’’کرونا‘‘ کے خطرے کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے۔ کرونا چونکہ ساری دنیا کا مسئلہ بن چکا ہے‘ اس لئے پاکستان نے بھی اس میں دلچسپی لی۔ یہ پریس بریفنگ چونکہ زبردستی سب لوگوں کو سنوائی گئی۔ اس لئے یہ زیادتی ہے جو زبردستی کے کے زمرے میں آتی ہے۔ یہ ٹی وی والے بھی ایسی چیزوں کی تلاش میں ہوتے ہیں تاکہ لوگوں کی توجہ حاصل کر سکیں۔ کرونا وائرس نے تمام سلسلوں کو ضرب لگائی ہے۔ نوائے وقت کی طرف سے ایک نمائندہ باقاعدہ ٹی وی سکرین پر آیا اور اس نے خاصی لمبی تقریر کی جس سے شاید سب لوگ متاثر ہوئے۔
امریکہ نے جو اقدامات کئے ہیں‘ اس سے لگتا ہے کہ یہ کوئی خاصی خطرناک بات ہے۔ اس سے ہزاروں لوگ متاثر ہوئے‘ ہزاروں مر گئے ہیں۔ کرونا وائرس ساری دنیا میں پھیل رہا ہے جس میں مغربی ممالک بھی آتے ہیں۔ خاص طورپر امریکہ کا اس میںشامل ہونا ایک بہت بڑا ’’خطرہ‘‘ ہے۔
کرونا اتنا بڑا خطرہ نہیں جتنا امریکہ خطرہ ہے۔ چھوٹی ریاستوں میں جتنے مسائل پیدا ہوئے ہیں‘ ان کا کوئی نہ کوئی تعلق کسی نہ کسی بڑے مسئلے سے جا ملتا ہے۔ اس کی کیا شرط ہے کہ ’’کرونا‘‘ کے بعد ’’نکھونا‘‘ اور ’’نہ کرونا‘‘ وغیرہ کوئی سلسلہ نہیں ہوگا۔ یہ کیا تماشا ہے جس کا شکار ساری دنیا کو کیا جا رہا ہے۔ کچھ عرصے کے بعد کوئی نہ کوئی مسئلہ پیدا کر دیا جاتا ہے جس سے لوگوں کیلئے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ یہ تو صاف ظاہر ہے کہ اب دنیا میں کسی ملک کے اندر جو مسائل ہیں‘ ان کا کوئی نہ کوئی تعلق کسی نہ کسی ملک سے ہے۔ امریکہ کے ساتھ زیادہ ہے۔ تو چھوٹے مسائل کا تعلق امریکہ کے ساتھ زیادہ ہوگا۔ کیونکہ معاشی معاملات میں بھی اسی کا عمل دخل ہے۔ اس ناطے سے ۔ امریکہ سب کا ’’ان داتا‘‘ ہے اور اس کو دنیا اثر آفرینی کا باعث سمجھتی ہے۔ اس سے کام نہ چلے تو زیادہ سے زیادہ اسلحہ بھی اس کے پاس ہے جس سے وہ اپنا کام چلا لیتا ہے۔ دو ملکوں کی لڑائی میں کسی ایک کے ساتھ امریکہ کا ہونا اس کی طاقت کا مظہر ہوتا ہے۔ اس کی حیثیت بالکل سامنے نظر آتی ہے۔
ایک تو نام کا اثر بھی ہوتا ہے۔ کرونا ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں سب کچھ پہلے سے موجود ہے۔ ہم کسی کام نہ کرنے والے سے کہتے کرونا‘ کچھ تو کرونا۔ اس لفظ میں ساری بات موجود ہے۔ جو دوسروں کیلئے کافی ہے ۔ اب دیکھیں کہ اس کے اثرات کہاں تک جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ایک ترجمان نے ٹی وی سکرین پر آکر سارا کچا چٹھا بیان کر دیا ہے جس سے سننے والا سوائے خوف کے کسی تاثر کا حامل نہیں ہوا۔
اس قسم کے پروگرام شروع کئے جائیں کہ لوگوں کا ’’تراہ‘‘ نہ نکلے۔