نظام عدل میں اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے،لڑائی کے حق میں نہیں،چاہتا ہوں ملک آئین اور قانون کے تحت چلے:نوازشریف

15 مارچ 2018 (20:10)

احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نوازشریف کا کہنا تھا کہ میرامقدمہ اپنی نوعیت کا پہلاکیس ہے جس میں ایسا کوئی الزام نہیں،میرے سواجن سیاستدانوں کےمقدمات ہیں ان پرکرپشن اورکِک بیکس کےالزامات ہیں،اچھےاوربرے تجربات دیگرسیاستدانوں کیساتھ بھی ہوئےان سےسیکھنا چاہیے، ملک و قوم کے لیےجو اچھا ہو اس سے دل خوش ہوتا ہے۔ سابق وزیراعظم نے تجویز دیتے ہوئے کہا نظام عدل میں اصلاحات کرنےکی ضرورت ہے، جامع نظام عدل لانے کے لیے کام کررہے ہیں، وہ نظام لےکر آئیں گے جو ملک کی ضرورت ہے، انصاف نہ ملنا یا دیر سے ملنا ملک کا بڑا مسئلہ ہے، لڑائی کے حق میں نہیں،چاہتا ہوں کہ ملک آئین اور قانون کے تحت چلے ، تجربات اچھے اور برے ہوتے ہیں، اچھےتجربات سے سیکھنے کو ملتا ہے۔ نوازشریف کا مزید کہنا تھا کہ بہت کچھ دیکھا ہے،آدھی زندگی گزر گئی،ہم بھی دیکھ رہےہیں اورآپ بھی کہ کیاچل رہا ہے،بلوچستان کے معاملے پرمحمود اچکزئی کے بیان کی انکوائری ہونی چاہیے،جو کچھ سینیٹ میں ہوا،وہ تماشہ پوری قوم نے دیکھا،کیا آئین اور قانون کے مطابق ملک چلانے کی خواہش بری ہے۔سابق وزیراعظم نے گفتگو کے اختتام پرشعر بھی پڑھ کر سنایا۔