نوازشریف کیخلاف ضمنی ریفرنس کی سماعت میں جے آئی ٹی کی مکمل رپورٹ ریکارڈ کا حصہ نہ بنانےکی مریم نواز کی استدعا جزوی طور پر منظور

15 مارچ 2018 (20:06)

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کیخلاف ضمنی ریفرنسز کی سماعت میں عدالت نے نواز شریف اورمریم نواز کو حاضری لگا کر جانے کی اجازت دیدی۔ دوران سماعت مریم نواز نے جے آئی ٹی کی مکمل رپورٹ عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کو چیلنج کر دیا۔ نیب پراسکیوٹر سردار مظفر کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ ہمارے پبلک دستاویزات اوراہم ترین ثبوت ہیں۔ اگر تین والیم متعلقہ ہیں تو باقی کیوں نہیں۔ واجد ضیا کبھی بھی جے آئی ٹی کے تحقیقاتی افسر نہیں رہے۔ اس حوالے سے وکیل صفائی کے اعتراضات غیر متعلقہ ہیں۔ مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے واجد ضیا کے بیان پر اعتراض کردیا، انکا کہنا تھا کہ واجد ضیاء نوٹس سے دیکھ کر بیان دے رہے ہیں یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔ عدالت نے جے آئی ٹی کی مکمل رپورٹ ریکارڈ نہ کرنے کی مریم نواز کی استدعا جزوی طور پر منظور کرلی۔ عدالت کے مطابق جے آئی ٹی کا تجزیہ عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنے گا۔ جے آئی ٹی میں ریکارڈ گواہوں کے بیانات عدالت میں قلمبند نہیں ہوں گے۔ نواز شریف کا واجد ضیاء کے بیان پر اعتراض بھی نوٹ کیا جائے گا۔ واجد ضیاء کا بیان ریکارڈ کرانے میں ترتیب درست نہ ہونے پر عدالت کو مشکلات کا سامنا ہے۔ عدالت نے واجد ضیاء کو ہدایت کی کہ پہلے اکھٹے کیے گئے شواہد بیان میں ریکارڈ کرائیں۔ نیب واجد ضیاء کو شواہد کی ترتیب کے لیے تیاری کروائے۔ شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔