سفارتی عملے کو ہراساں کرنے کے واقعات،نئی دلی سے ہائی کمشنر مشاورت کیلئے طلب

15 مارچ 2018 (14:00)

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا ہے کہ نئی دہلی میں پاکستانی سفارت کاروں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے .ہم نے ا پنے سفارتکاروں کو ہراساں کیے جانے کے واقعات کے بعد نئی دلی سے پاکستانی ہائی کمشنر کو مشاورت کے لیے بلا لیا، ہمارے ڈپٹی ہائی کمشنر کے بچوں کی گاڑی کو40 منٹ تک روکا گیا،بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج کیا ،بھارتی وزارت خارجہ کو بھی احتجاج ریکارڈ کرایا ، پاکستانی ہائی کمیشن نے ملزمان کی تصاویر اور ویڈیو بھی فراہم کی، بھارت نے سفارتکاروں کے تحفظ کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے ،اپنے سفرا کا تحفظ ہمارے لئے اہم ہے، اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،بھارت کے ساتھ ہتھیاروں کا کوئی مقابلہ نہیں، بھارت اسلحے کی دوڑ میں پڑکر علاقائی امن کیلئے خطرات پیدا کررہا ہے، افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، اس مسئلے پر پاکستان مفاہمتی عمل میں کردار ادا کرنے کوتیار ہے،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم جاری ہے ، بھارتی فورسز کی جانب سے کشمیری رہنما ﺅ ں کو نظر بند رکھا گیا،ارت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈال رہا ہے، پاکستان نے اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم سے مقبوضہ کشمیرکے دورے کا مطالبہ کیاہے۔ جمعرات کو دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے بتایا کہ بھارتی دارالحکومت نئی دلی میں پاکستانی سفارتکاروں اور ان کے اہل خانہ کو بھارتی ایجنسیوں کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے واقعات رونما ہوئے لیکن پاکستان کی شکایت کے باوجود بھارت نے کوئی اقدامات نہ اٹھائے۔ ہمارے ڈپٹی ہائی کمشنر کے بچوں کی گاڑی کو40 منٹ تک روکا گیا، سفارتی عملے کو ہراساں کیے جانے کے واقعات تسلسل سے ہورہے ہیں۔ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ بھارت میں پاکستانی سفارت کاروں کو ہراساں کرنے کے معاملے پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج کیا گیا جب کہ بھارتی وزارت خارجہ کو بھی احتجاج ریکارڈ کرایا گیا، پاکستانی ہائی کمیشن نے ملزمان کی تصاویر اور ویڈیو بھی فراہم کی لیکن بھارت نے سفارتکاروں کے تحفظ کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے۔ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے نئی دلی میں اپنے ہائی کمشنر کو واپس بلالیا ہے، ہائی کمشنر سے سفارتکاروں کو ہراساں کرنے کے واقعات پر مشاورت ہوگی۔انہوں نے کہا یہ معاملہ اسلام آباد اور نئی دلی دونوں میں اٹھایا گیا ہے، اس حوالے سے مزید اقدامات اٹھانا پڑے تو اٹھائے جائیں گے، اپنے سفرا کا تحفظ ہمارے لئے اہم ہے، اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، بھارت ہمیں اپنی اندرونی سیاست میں ملوث و استعمال نا کرے۔انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں بھارتی سفارت کاروں کے ساتھ کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، اگر کوئی ایسا واقعہ ہواہے تو بھارتی ہائی کمیشن نے ہمیں آگاہ نہیں کیا۔مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے، بھارتی فورسز کی جانب سے کشمیری رہنما ﺅ ں کو نظر بند رکھا گیا ہے۔ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ ہم نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کامعاملہ اقوام متحدہ میں اٹھایاہے، بھارت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈال رہا ہے، بھارت جان بوجھ کراقوام متحدہ کی ٹیم کومقبوضہ کشمیر نہیں جانے نہیں دے رہا، پاکستان نے اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم سے مقبوضہ کشمیرکے دورے کا مطالبہ کیاہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے افغانستان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، اس مسئلے پر پاکستان مفاہمتی عمل میں کردار ادا کرنے کوتیار ہے۔ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی وزارت خارجہ میں بنتی ہے، بھارت اسلحے کی دوڑ میں پڑکر علاقائی امن کیلئے خطرات پیدا کررہا ہے، پاکستان جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں اور بھارت کے ساتھ بھی ہتھیاروں کا کوئی مقابلہ نہیں، پاکستان خطے میں توازن کا حامی ہے، ہتھیاروں سےمتعلق عدم توازن خطے میں عدم استحکام کاباعث بنے گا۔