لیبیا:انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک میں شامل دو سو افراد کو حراست میں لینے کے لیے وارنٹ جاری

15 مارچ 2018 (11:41)

لیبیا نے انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے اس نیٹ ورک میں شامل دو سو سے زائد ملکی اور غیر ملکی سمگلروں کو حراست میں لینے کے لیے وارنٹ جاری کر دیئے۔ لیبیا میں اٹارنی جنرل کے دفتر کا کہنا ہے کہ ان نیٹ ورکس میں سکیورٹی اداروں، پناہ گزینوں کو قید کرنے والے کیمپوں اور لیبیا میں موجود افریقی ایجنسیوں کے حکام بھی ملوث ہیں۔یاد رہے کہ سنہ 2011 میں لیبیا میں معمر قذافی کی حکومت ختم ہونے کے بعد سے ملک میں بحران کی سی کیفیت ہے۔ملک میں اختیارات دو مختلف ملیشیاوں اور مخالف حکومتوں کے درمیان تقسیم ہونے سے غیر قانونی کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیبیا وہ اہم مقام ہے جہاں سے افریقی ممالک کے سینکڑوں افراد غیر قانونی طور پر سمندر عبور کر کے یورپ میں داخل ہوتے ہیں۔ سمگلنگ نیٹ ورک کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات ایک سال قبل اس وقت شروع ہوئی تھیں، جب لیبیا کے ساتھ اٹلی کے استعغاثہ کا ایک یونٹ شامل ہوتا ہے۔دونوں ممالک نے آپس میں انٹیلیجنس معلومات، کوسٹ گارڈ اور قانونی معاملات میں اشتراک کیا۔ لیبیا کے اٹارنی جنرل کے تحقیقاتی شعبے کے ڈائریکٹر صدیق السور نے کہا کہ انسانی سمگلنگ میں امیگریشن ڈپارٹمنٹ کے کئی افراد بھی ملوث پائے گئے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ 'ایسے 205 افراد کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں جو غیر قانونی امیگریشن، انسانی سمگلنگ ، تشدد، ریپ اور قتل جیسے واقعات میں ملوث ہیں۔'انھوں نے کہا کہ تحقیقات کے دوران ایسے شواہد بھی ملے ہیں کہ سمگلروں اور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے آپس میں تعلقات ہیں.