حکومت کو ریاستی اداروں سے ٹکرائو کی پالیسی چھوڑنا ہوگی: لیاقت بلوچ

15 مارچ 2018

لاہور(خصوصی نامہ نگار)سیکرٹری جنر ل جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ سینیٹ میں حکومتی پارٹی کو اپنے اندر پائی جانے والے دراڑوں کی وجہ سے شکست ہوئی ۔ ایم ایم اے کی جماعتوں کے سینیٹرز نے راجہ ظفر الحق کو ووٹ دیے ۔ حکومت کو ریاستی اداروں کے ساتھ ٹکرائو کی پالیسی چھوڑنا پڑے گی ۔ حکومتی رویے سے ریاستی ادارے باہمی تصادم کا شکار ہوئے تو کچھ نہیں بچے گا ۔ جمہوریت کے نام پر شخصی آمریتوں کی کرپشن نے ریاست کو مشکل میں ڈال دیاہے ۔ حکمران طبقہ اسٹیٹس کو ،کو قائم رکھنے کے لیے قومی دولت لوٹ رہاہے اور لوٹی گئی دولت کو بچانے کے لیے ریاستی اداروں کے خلاف پراپیگنڈا کیا جارہاہے ۔ عدلیہ کو مضبوط اعصاب کے ساتھ اپنے کردا ر پر قائم رہتے ہوئے پانامہ ، دبئی اور لندن لیکس کے کرداروں اور اربوں روپے کے قرضے لے کر ڈکارنے والوں کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے ۔ پوری قوم سپریم کورٹ کی پشت پر ہے ۔ احتساب کسی ایک فرد یا خاندان کا نہیں ، تمام لٹیروں کا ہوناچاہیے ۔ جب تک موجودہ اور سابقہ حکومتوں کے ادوار میں لوٹی گئی قومی دولت واپس لے کر خزانے میں جمع نہیں کی جاتی ، ملک و قوم کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...