سازش کے تحت جامعہ نعیمیہ کی کردار کشی کی جا رہی ہے: ڈاکٹر راغب نعیمی

15 مارچ 2018

لاہور (خصوصی نامہ نگار) جامعہ نعیمیہ کے ناظم اعلیٰ علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا ہے کہ سازش کے تحت جامعہ نعیمہ کی کردار کشی کی جا رہی جو افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ مجرمان کا جامعہ نعیمیہ سے کوئی تعلق نہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ میاں نواز شریف کی جامعہ نعیمیہ میں آمد پر جامعہ کے تمام اساتذہ‘ نعیمین ایسوسی ایشن کے عہدیداران اراکین جامعہ نعیمیہ‘ بزم نعیمیہ اور طلباء کا متفقہ فیصلہ تھا۔ 11 مارچ کو جامعہ نعیمیہ میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعہ کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ اجلاس میں مفتی عبدالعلیم سیالوی، مفتی انورالقادری، علامہ غلام نصیر الدین چشتی، مولانا محبوب احمد، ڈاکٹر محمد سلیمان قادری، مولانا محمد سلیم نعیمی اور دیگر بزم نعیمیہ اور نعیمین ایسوسی ایشن کے عہددران، کارکنان اور طلباء موجود تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جامعہ نعیمیہ کے بارے اختلافات و نفرتوں کے انبار لگا کر اس بات کو عوام الناس کے سامنے پیش کیا گیا جو کہ ادارے کی دینی و تعلیمی ساکھ کو خراب کرنے کی سازش ہے۔ مہمانوں کے ساتھ ایسا بہیمانہ سلوک کرنا اسلام کی تعلیمات کے منافی ہے۔ مفتی اعظم پاکستان سیمینار میں تحفظ ختم نبوت و تحفظ ناموسِ رسالت اور راجہ ظفر الحق رپورٹ بارے میاں نوازشریف نے اہم اعلان کرنا تھا۔ جامعہ نعیمیہ نے ہر سطح پر دہشتگردی، مذہبی شدت پسندی کے خلاف آواز کو بلند کیا ہے اور امن و استحکام کے لیے کاوشیں کی ہیں ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید علیہ الرحمہ نے تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموسِ رسالت کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا۔