بھارتی سپریم کورٹ نے بابر ی مسجد کی شہادت کو اراضی کیس بنا کر لٹکادیا

15 مارچ 2018

لاہور(نیوز ڈیسک) انتہا پسند ہندو تنظیموںکے دبائو پر بھارتی سپریم کورٹ نے ایودھیا میں 16 ویں صدی میں تعمیر ہونے والی بابری مسجد کی شہادت کو اراضی تنازعہ کیس بنا کر رکھ دیا۔ گزشتہ روز چیف جسٹس دیپک مشر کی سربراہی میں بنچ نے قرار دیا کہ مقدمہ میں سنی وقف بورڈ‘ رام لِل اور نرموہی اکھاڑی ہی اصل فریقین ہیں تیسرے فریق کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ عدالت نے گزشتہ روز کانگریس کے رہنما سلمان خورشید‘ بی جے پی کے انتہا پسند رہنما سبرامینم سوامی اورعارف محمد خان کی کیس میں فریق بننے کیلئے درخواستیں مسترد کردیں تاہم بابری مسجد کی جگہ پر بنائے گئے عارضی رام مندر میں پوجا کرنے کی اجازت کیلئے مسترد کی گئی۔ سبرامینم سوامی کی درخواست کو بحال کردیا اس کی علیحدہ سے سماعت ہوگی۔ عدالت نے قرار دیا 1994ء کے آئینی بنچ کی رولنگ کو بھی کیس کی سماعت میں مدنظر رکھے گی جس میں قرار دیا گیا تھا کہ اسلام میں نماز پڑھنے کیلئے کسی مخصوص جگہ کا ہونا ضروری نہیں۔