نگران حکومت چیف جسٹس کی مشاورت سے تشکیل دی جائے: کنور دلشاد

15 مارچ 2018

اسلام آباد(خصوصی نمائندہ) سابق وفاقی سیکر ٹری الیکشن کمشن و چیئرمین نیشنل ڈیمو کریٹک فائونڈیشن کنور دلشاد نے کہا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت تمام سیاسی جماعتیں قانونی طور پر پابند ہیں کہ خواتین کو دس فیصد کوٹہ کے تحت ٹکٹ ایوارڈ کئے جائیں مگر افسوس کہ سیاسی جماعتوں نے بد نیتی کے تحت ایسا فارمولہ بنالیا ہے جس میں خواتین کو ان حلقوں سے ٹکٹ دئے جائیں گے جہاں سے جیتنے کے چانسز انتہائی کم ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو چاہئے کہ وہ سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور پارلیمانی بورڈز سے رابطہ کر کے ایسے حلقوں سے انتخابات کے لئے ٹکٹ حاصل کریں جہاں سے جیتنے کے چانسز زیادہ ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کیفے کام کے زیر اہتمام خواتین کا سیاست اور انتخابات میں کردار کے حوالے سے سیمینار میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا، کنور دلشاد نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار احمد رضا خان کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ سپریم کورٹ نے جیسے احتساب کورٹ کی کار کردگی اور مقدمے کی شفافیت کے لئے نگران جج مقرر کیاگیا ہے اس طرز پر الیکشن کی شفافیت کی مانیٹرنگ کے لئے ایک جج کا تعین کیا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نگران سیٹ اپ چیف جسٹس کی مشاورت سے تشکیل دیا جائے۔ قومی انتخابات افواج پاکستان کی نگرانی میں ہونے چاہئیں۔ اس موقع پر قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ ڈیفنس اینڈ سٹرٹیجک سٹڈیز کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سلمہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمشن کو چاہئے کہ خواتین کے لئے ووٹنگ کے عمل کو آسان اور محفوظ بنائیں تاکہ خواتین اپنے حق کا بہترین استعمال کر سکیں۔